آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل19؍ذیقعد 1440ھ 23؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایسے وقت میں جب دنیا آئے روز سائنس و ٹیکنالوجی سمیت خلا کو آشکار کرنے کے نئے تجربات میں مصروف ہے وہیں ایک ایسا ملک بھی موجود ہے جو جنگی جنون میں مبتلا ہوکر خطے کے دیگر ممالک کو بزور طاقت نیچا دکھانے اور اپنے سوا ارب باشندوں کو مزید محرومیوں کے اندھیرے کنویں میں دھکیلنے پر مصر ہے۔

ہندوستان جنوبی ایشیائی ممالک میں واحد ملک ہے جو اپنے ترقی کے خواب کی تکمیل اپنے ہمسایوں کو دھمکی اور خوف میں مبتلا رکھ کر چاہتا ہے۔ بھارت کے جغرافیائی حالات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی ’’امن پسند‘‘ حکمت نے اندر اور باہر کیا گل کھلائے ہیں جن کا یہ نتیجہ نکلا کہ اس کے اپنے عوام اپنی ہی ریاست کے خلاف صف آرا ہیں۔ بھارت کی بنگلہ دیش اور چین کی سرحد سے ملحق7 اہم ریاستوں جہاں علیحدگی کی تقریباً24 تحریکیں برسوں سے چل رہی ہیں، کو Seven angry States of Indiaکہا جاتا ہے۔ ان میں 6ایسی ریاستیں ہیں جہاں بھارتی فوج مقامی باغیوں کی طاقت اور ان کی گوریلا حکمت عملی کے خوف سے جانے سے ڈرتی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر واحد زیر تسلط علاقہ ہے جہاں 1947 سے بھارتی فوج اپنی طاقت کے بل بوتے پر نہتے کشمیریوں کی پرامن جدوجہد آزادی کو دبانے میں مصروف ہے۔ بدقسمتی سے عالمی منافقت کا یہ عالم ہے کہ اقوام متحدہ سمیت طاقتور ممالک بھارتی ریاستی تشدد کو روکنا تو درکنار، برا کہنے سے بھی قاصر ہیں۔ نہتی جانی قربانیوں اور عصمت دری کے پے درپے واقعات کی وجہ سے یہ تحریک تشدد میں بدل چکی ہے۔ مقامی سطح پر کشمیریوں کی نئی نسل ظالم بھارتی فوج کے مقابلے کیلئے اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کی اس تحریک نے کشمیر اور بھارت کے اندر تشدد کی نئی لہر کو جنم دیا ہے جو دراصل بھارت کی اپنی بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جس میں صرف مقبوضہ کشمیر ہی نہیں پورا بھارت جل رہا ہے۔ اب بھارت کے اندر بھی ریاست کی تسلط پر مبنی پالیسیوں پر بات کی جا رہی ہے کیونکہ یہ وہی ملک ہے جس کی آبادی دنیا کا تقریباً ایک چوتھائی ہے اور60فیصد سے زائد انسان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،45فیصد بچے خطرناک حد تک کم وزن پیدا ہوتے ہیں۔ بقول بھارتی نوبیل پرائز یافتہ امرتے سین یہاں صاف پانی کی فراہمی تو دور کی بات ہر پانچواں شخص بجلی کےنام سے ہی نابلد ہے۔ ڈیڑھ ارب انسانوں میں آدھی سے زیادہ آبادی تعلیم، صحت اور ایک وقت کے کھانے سمیت دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ بدقسمتی سے بھارتی انتہا پسند حکومت نے ان بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کی خونی پالیسی اپنائی ہوئی ہے جس کے مناظر مقبوضہ کشمیر میں ریاستی تشدد اور قتل و غارت کی صورت ہر روز نظر آتے ہیں۔ مقامی سطح پر پلوامہ جیسے واقعات جب ردعمل کے طور پر وقوع پذیر ہوتے ہیں تو انہیں انتہا پسند حکومت سیاسی مقصد کیلئے استعمال کرتی ہے۔ مسٹر مودی نے اپنی انتہا پسندانہ سوچ اور پاکستان پر الزاماتی رویے سے پوری قوم کو ہیجانی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ انہوں نے پلوامہ واقعہ پر جنگی ماحول بناکر اپنے انتخاب جیتنے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جو پاکستان کے متفقہ جوابی وار کے بعد مکمل ناکام نظر آتی ہے۔ پاکستان کی بروقت جارحانہ دفاعی، سیاسی اور سفارتی حکمت عملی نے بھارتی جنگی جنون کا نشہ بھی کسی حد تک اتار دیا ہے۔ بھارت کو اپنے جھوٹے الزامات پر ہمنوائی میں ناکامی اور سعودی ولی عہد کے بعد امریکی حکومت اور کئی اہم عالمی طاقتوں کےذمہ دارانہ طرزِ عمل اور ٹھنڈے جواب سے سخت سبکی کا سامنا ہے۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہےکہ بھارت جوہری و عسکری طاقت کے گھمنڈ میں اگر کوئی بھی حرکت کرے گا تو پاکستان فیصلہ کن جواب دے گا۔ حقیقت یہ ہےکہ بھارت سمیت عالمی طاقتوں کو پاکستان کی جوہری و عسکری صلاحیت پر تو کوئی شک نہیں وہ یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ وہ پاکستانی آرمی ہے جو بھارت جیسے بڑے ملک کی فوج سے 65اور 71ء میں ٹکرا گئی، 1979سے مسلسل حالت جنگ میں ہے۔ یہ واحد آرمی ہے جس نے بھارت سمیت کئی ممالک کی بدنام عالمی خفیہ ایجنسیوں کے عزائم ناکام بنائے ہیں۔ بھارت کو یہ بھی اندازہ ہو چلا ہے کہ پاکستان نے کامیاب عسکری و سفارتی حکمت عملی سے مغربی باڈر پر بڑی حد تک امن قائم کر لیا ہے، اب اس کی ساری توجہ مشرقی سرحد پر ہے۔ دوسری طرف بھارتی فوج کے مورال گرنے کی حالت یہ ہے کہ فورس میں خودکشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ یہی نہیں بھارتی آرمی چیف تو یہ بھی اقرار کر چکے ہیں کہ ان کی فوج ڈھائی محاذوں پر جنگ نہیں لڑ سکتی (پاکستان، چین اور اندرونی علیحدگی پسند تحریکیں) بھارتی گیدڑ بھبکیوں سے ایٹمی جنگ کے خطرات منڈلانے لگے ہیں اور بعض امریکی تھنک ٹینکس کا خیال ہے کہ بھارتی ایگریشن سے پاکستان اپنے دفاع میں ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے جس سے دنیا میں ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ حالات کی سنگینی کے سبب امریکی صدر بھی پاک بھارت مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔ دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے، چین اور مشرق وسطیٰ سرمایہ کاری اور امریکہ تعلقات کی بہتری کی بات کر رہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری لیڈر شپ کا فوکس معاشی ترقی بن چکا ہے ایسے میں بھارت کو روایتی ہٹ دھرمی چھوڑ کر دہشت گردی سمیت تمام متنازع امور پر مذاکرات کی راہ اپنانا چاہئے اور خطے کے عوام کو غربت سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈالنے کی مشترکہ حکمت عملی پر آمادہ ہونا ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں