آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بیگم نصرت بھٹو نے جنرل ضیاء کی آمریت کے خلاف ایسے تاریخ ساز بیان میں اعلان کیا تھا کہ ”ہم پاکستان کے لئے نسل در نسل لڑیں گے اور کسی ڈکٹیٹر کے آگے نہیں جھکیں گے“۔ انہوں نے جنرل ضیاء کے مارشل لا کے خلاف جمہوری جدوجہد میں اپنے قول کو صحیح ثابت کیا اور پارٹی کے کارکنوں نے بیگم صاحبہ کی قیادت میں فوجی آمر کی وحشیانہ بربریت کا بڑی جرأت سے مقابلہ کیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے جس عزم و استقلال کے ساتھ جنرل ضیاء کے جبروتشدد کا مقابلہ کیا اس سے بھی کارکنوں کے حوصلے بلند ہوئے۔ بے نظیر بھٹو شہید نے بیگم صاحبہ کے قول کو سچ ثابت کیا۔ اب ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری نے بی بی کے پانچویں یوم شہادت پر بیگم نصرت بھٹو کے اسی اعلان کا ان الفاظ میں اعادہ کیا ہے کہ ”ہم جمہوریت لائے ہیں اور ہم ہی جمہوریت کی حفاظت کریں گے“ ان الفاظ میں بیگم صاحبہ کے اسی اعلان کی روح بولتی ہے کہ ”ہم پاکستان کے لئے نسل در نسل لڑیں گے“۔
آج اگر بی بی زندہ ہوتیں تو یقینا انہیں اپنے بیٹے پر فخر ہوتا۔ بلاول شروع ہی سے عالمی میڈیا کا مرکزِ نگاہ رہے۔یہ بلاول کا اعزاز تھا کہ1989ء میں اتنی چھوٹی عمر میں وزیر اعظم پاکستان بے نظیر بھٹو انہیں امریکہ کے سرکاری دورے پر اپنے ساتھ لے کر گئیں۔ اس بات سے عیاں ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں ایک خاکہ ضرور موجود تھا

کہ بلاول کو ایک دن سیاست میں آنا ہے جس کے لئے وہ بلاول کو تیار کرنا چاہتی تھیں۔ بحیثیت وزیر اعظم بی بی کی گود میں ان کے چھوٹے سے بیٹے کو دیکھنے سے عالمی سطح پر ایک خوشگوار اور انسان دوست تاثر پیدا ہوا۔ دنیا نے دیکھا کہ وہ نہ صرف ایک وزیراعظم تھیں بلکہ ایک ذمہ دار اور پیار کرنے والی ماں بھی تھیں۔بلاول جب ایک سال کا تھا تو وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بلاول کے ساتھ اپنی تصویر پر میرے نام بلاول کی طرف سے آٹو گراف نوٹ میں لکھا تھا
Dear uncle Bashir , will you be my spokesman when i grew up
اگرچہ یہ بات درست ہے کہ بلاول کو ان لوگوں کا ساتھ تو میسر نہ آئے گا جو ان کی والدہ کے ساتھ تھے لیکن بلاول کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ شہید بے نظیر بھٹو کا بیٹا ہے۔ اب لوگوں کی توقعات زیادہ تر بلاول ہی سے وابستہ ہیں۔ جس طرح لوگوں کو بی بی کی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد تھا اسی طرح بی بی کے وارث ہونے کی حیثیت سے عوام کا اعتماد اب بلاول کے ساتھ ہوگا۔ یہ وہی اعتماد ہے جو بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد بے نظیر بھٹو کو منتقل ہوا تھا۔ کچھ لوگ اسے سیاسی وراثت کہتے ہیں لیکن دراصل یہ اس سیاسی شعور اور عوام دوستی کا تسلسل ہے جو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے عوام کو دیا۔ اب بلاول اسی سیاسی شعور اور عوامی قیادت کی ایک علامت کے طور پر سامنے آئیں گے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ پارٹی میں نئے لوگ ( بی ٹیم) اس وقت حکومت سنبھالے ہوئے ہیں لیکن بلاول کو ان تمام لوگوں کے ساتھ چلنے میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئے گی۔ جب یہ لوگ بی بی سے ملاقات کرنے آتے تب بلاول بھی ان سے ملتے تھے۔ اس طرح سیاسی طور پر نہیں تو ذہنی طور پر بلاول ان لوگوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہ لوگ بھی شہید بی بی کا بیٹا ہونے کی وجہ سے بلاول سے بہت وابستگی رکھتے ہیں لہٰذا چاہے امین فہیم ہوں یا جہانگیر بدر، پرانے سیاسی کارکن ہوں یا نئے پارٹی ورکرز ، سب بلاول کا ساتھ دیں گے۔ یہ سب لوگ بھٹو صاحب اور بی بی کی نظریاتی اور سیاسی وراثت کے ذریعے باہم جڑے ہوئے ہیں جسے بلاول کی قیادت میں یہ مزید مضبوط بنائیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ وہ شہید بی بی کے سیاسی جانشین ثابت ہوں گے۔ انہوں نے شہید بی بی کے افکار، نظریات اور حالات کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ یہ ایک عظیم ذمہ داری ہے جو ان کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ بی بی کی خواہش یہ تھی کہ بلاول پہلے اپنی تعلیم مکمل کر لے یقینا انہیں سیاسی تربیت تو دی جا رہی تھی اور بی بی انہیں کہتی رہتی تھیں کہ تم پارٹی کے بارے میں جانو، پارٹی کے منشور کو پڑھو لہٰذا بلاول نے ہر چیز پڑھی، انہوں نے بی بی شہید کی تمام تحریریں پڑھی ہیں، ہر موضوع کے بارے میں علم حاصل کیا ہے اور اب وہ سیاسی لحاظ سے مکمل بالغ ہو چکے ہیں۔ وہ خود کو مستقبل کی بھاری ذمہ داریوں کے لئے تیار کر رہے ہیں۔ بلاول جانتے ہیں کہ شہید بی بی کی سیاسی Legacy کو انہیں جاری رکھنا ہے۔اس مشن میں جو خطرات بی بی کو درپیش رہے وہی بلاول کو بھی درپیش ہو سکتے ہیں کیونکہ سیاسی اور نظریاتی لحاظ سے بلاول بے نظیر بھٹو شہید اور ذوالفقار علی بھٹو کا جانشین ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ خطرات کا سامنا کرنے کی اہلیت اور جذبہ رکھتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے بی بی کی برسی کے موقع پر اپنی تقریر میں عزم و استقلال کا اظہار کیاہے اور لوگ کہتے ہیں کہ ان میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی ذہانت نظر آتی ہے اور وہ بلاول میں بھٹو صاحب کی جھلک دیکھتے ہیں۔پانچ جنوری جناب ذوالفقار علی بھٹو کا یوم ولادت ہے، اس دن پارٹی کے ادنیٰ و اعلیٰ کارکن ملک بھر میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور گڑھی خدا بخش میں بھٹو صاحب کا مزار ان کی سیاسی عقیدت ومحبت کا مرکز ہے۔ آج ان کے نواسے بلاول بھٹو زرداری سیاست کے عملی میدان میں آچکے ہیں، اپنے نانا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کی نوجوان نسل کی قیادت سنبھال کر عوام کے حقوق کی اسی جمہوری جدوجہد کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جس کی راہ میں ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو ،ماموؤں میرمرتضیٰ بھٹو و شاہنواز بھٹو اور والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اپنی زندگی کا نذرانہ پیش کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں