آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ویب ڈیسک
ویب ڈیسک | 30 اپریل ، 2019

پاکستان کے چند حسین ترین مقامات

پاکستان قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ایک حسین ترین ملک ہے، غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد یہاں کا رخ کرتی ہےلیکن اس کے باوجود جب بھی خوبصورت ممالک کی بات کی جاتی ہے توذہن میں صرف مالدیپ، باکو، اٹلی، فرانس اور سوئٹزر لینڈ وغیرہ ہی آتے ہیں۔

ان میں پاکستانیوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے جو ہمیشہ بیرون ملک جانے کی بات کرتے ہیں شاید انہیں نہیں معلوم کہ پاکستان کتنا خوبصورت ہے، تو آئیے بات کرتے ہیں پاکستان کے چند حسین ترین مقامات کی جنہیں ’جنت نظیر‘ مقامات کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

وادی ہنزہ

وادی ہنزہ کا شمار پاکستان کی حسین ترین وادیوں میں ہوتا ہے۔ وادی ہنزہ گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے، اس حسین وادی کو بے شمار پہاڑوں اور دریائوں نےچاروں طرف سے گہرا ہوا ہے جس سے اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ، اسی لیے وادی ہنزہ کو  ’پہاڑوں اور دریائوں کا گھر‘ بھی کہا جاتا ہے۔

چاہے گرمی ہو یا سردی، خزاں ہو یا بہار ہر موسم میں یہ وادی اتنی حسین لگتی ہے کہ انسان کی نظریں اُس پر سے نا ہٹیں، سردیوں میں جب یہ وادی ہرے بھرے پتوں سے سج جاتی ہے اور یہاں کے دریا برف کی چادر اُوڑھ لیتے ہیں تو ایسا گمان ہوتا ہے جیسے ’جنت‘ زمین پر آگئی ہو اور اس سےبھی زیادہ دلکش وادی ہنزہ اس وقت لگ رہی ہوتی ہے جب خزاں کے موسم میں درختوں پر لال اور نارنجی رنگ کے پتوں کا عکس برف پر پڑرہا ہوتا ہے۔

یہاں بڑی تعداد میں برفانی چیتے، مارخور اور سرخ دھاری دار لومڑیاں پائی جاتی ہیں۔

جھیل سیف الملوک

جھیل سیف الملوک بھی پاکستان کے چند حسین ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ جھیل وادی کاغان میں ناران کے قریب واقع ہے۔ یہاں کے لیے یہ بات مشہور ہے کہ یہاں رات میں ’پریاں اُترتی ہیں‘۔

نیلے رنگ کےصاف و شفاف پانی سے بھر ی اس جھیل کی اصل خوبصورتی اس کا ’آسمان بلند پہاڑوں‘ کے بیچ موجودہونا ہے۔ جھیل سیف الملوک کا پانی اس حد تک صاف ہے کہ اس کے گرد پہاڑوں کا عکس اس پر نمایاں ہوتا ہے جسے دیکھ کر کوئی یقین نہ کرے کہ یہ عکس ہے بلکہ ایسا لگتاہےجیسے جھیل کے اندر پہاڑ ہیں۔

عطاآباد جھیل

عطا آباد جھیل کا شمار پاکستان بلکہ ایشیاء کی سب سے خوبصورت ترین جھیلوں میں ہوتا ہے، یہ گلگت سے تقریباََ 120کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے، ہنزہ کی وادی گوجل کی حدود میں ہونے کی وجہ سے اسے ’گوجل جھیل‘ بھی کہا جاتا ہے لیکن یہ عطاآباد جھیل کے نام سے ہی زیادہ مشہور ہے۔

عطا آباد جھیل بہت پرانی نہیں ہے بلکہ 2010 میں ہونے والی لینڈسلائیڈنگ کے بعداچانک یہ جھیل اُبھر کر سامنے آئی تھی، لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ خدا کی طرف سےہمارے لیے ایک نایاب و بہترین تحفہ ہے۔ اس جھیل کی خوبصورتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں جانے کے بعدسیاحوں کو سیف الملوک جھیل بھی خوبصورت نہیں لگتی۔

عطا آباد جھیل کی اصل خوبصورتی موسم گرما میں نظر آتی ہے جب برف تقریباً پگھل چکی ہوتی ہے اور صاف و شفاف پانی دور سے نظر آرہا ہوتا ہے۔

وادی نیلم:

وادی نیلم آزاد کشمیر میں واقع ہے۔ اس وادی کے ساتھ ہی بہتے ’دریائےنیلم‘ کی وجہ سے اس کا نام بھی وادی نیلم پڑ گیا۔ نیلم ایک نیلے رنگ کے قیمتی پتھر کا نام ہے، اس جھیل کا پانی گہرا نیلا ہونے کی سبب اسے دریائے نیلم کا نام دیا گیا۔

یہ وادی پاکستان کی نہایت خوبصورت ترین وادیوں میں سے ایک ہے، جہاں بے شمار پانی کے چشمے بہتے ہیں، جہاں پہاڑ اور سبزہ بھی موجود ہے۔ نیز ہر قسم کا ’قدرتی حسن‘ یہاں پایا جاتا ہے۔

ست پارہ جھیل

پاکستان کی ایک اور خوبصورت ترین جھیل جو کہ 3000 میٹر سے بھی زیادہ بلندی پر ہے، یہ ست پارہ جھیل سکردو سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر دیوسائی جانے والے راستے پہ واقع ہے۔ اس جھیل کا پانی اتنا زیادہ نیلا ہے کہ دیکھنے والا دھوکہ کھا جائے کہ اصلی پانی ہے کہ نکلی لیکن یہ جھیل حقیقت میں اتنی ہی حسین ہے جیسی تصویروں میں نظر آتی ہے۔

ست پارہ جھیل بھی باقی جھیلوں کی طرح پہاڑوں کے بیچ واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس جھیل کا پانی میٹھا ہے اسی لیے یہاں سے پانی آس پاس کی وادیوں میں جاتا ہے۔

بابو سر ٹاپ، لولو سر جھیل

بابو سر ٹاپ وادی کاغان میں واقع ہےجو کہ بےشماربلند پہاڑوں اور ہریالی پر مبنی ایک خوبصورت مقام ہے۔ بابوسر ٹاپ کی بلندی تقریباً 16 ہزار فٹ ہے، اس کی بلندی کی طرف جاتے ہوئے ہرموڑ پر دلکش نظارے جہاں آپ کو حیران کردیتے ہیں وہیں راستے میں سطح سمندر سے 11200 فٹ بلند لولوسرجھیل کی سحر انگیزی اور جادوئی کشش آپ کو اپنی جانب کھینچنے لگتی ہے۔

ناران چلاس روڈ پر 3353 میٹر بلندی پر واقع لولوسر جھیل ناران کے قصبے سے ایک گھنٹے کی مسافت پر وادیٔ کاغان اور کوہستان کی سرحد پر واقع ہے۔ لولوسر دراصل اونچی پہاڑیوں اور جھیل کے مجموعے کا نام ہے۔

جھیل کا پانی شیشے کی طرح صاف ہے اور لولوسر کی برف سے ڈھکی پہاڑیوں کا عکس جب جھیل کے صاف پانی میں نظر آتا ہے تو دیکھنے والوں کے دل موہ لیتا ہے یہ ایک قابل دید نظارہ ہوتا ہے۔

شنگریلا ریزورٹ (اسکردو):

پاکستا ن کے تفریحی مقامات میں ایک نام ’شنگریلا ریزورٹ‘ بھی شامل ہے جو اسکردو سے کچھ دور واقع ہے۔ اس مقام کی خوبصورتی دراصل وہاں موجود ایک ریسٹورنٹ ہےجو کہ ایک ایئر کرافٹ کی طرز پر بنایا گیا ہے۔

شنگریلا ریزورٹ اسکردو شہر سے بذریعہ گاڑی تقریباً 40 منٹ کی دور ی پرہے۔

سوات:

پاکستان کے صوبے خیبر پختون خوا میں واقع وادی سوات کو ایشیاء کا ’سوئٹزرلینڈ‘ کہا جاتا ہے۔ سوات کو یہ خطاب ملکہ برطانیہ کی جانب سے 1961میں پاکستان کےدورے پر دیا گیا تھا۔

سوات ہریالی، بلند پہاڑوں اور صاف شفاف جھیلوں پر مشتمل وادی ہےجو ملک کے سیاحتی ادارے کو ایک بڑی آمدنی فراہم کرنے میں سرفہرست ہے۔