آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍ صفرالمظفّر1441ھ 17؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بھارت نےحیدرآباد دکن پرقبضہ کیسےکیا؟

ستمبر 1948 جنوبی ہند کی مسلم ریاست حیدر آباد دکن کے خاتمے کے حوالے سے تاریخ کا اہم موڑ ہے۔اس دن ریاست مملکت حیدرآباد پر ہندوستان نے پولیس ایکشن کے نام پر جارحانہ قبضہ کرلیا تھا اور اس ریاست کو اپنا حصہ قرار دیا۔

اس دن سے قبل حیدر آباد دکن بھارت میں واقع کوئی چھوٹی ریاست نہیں تھی بلکہ ایک بڑی مملکت کی حیثیت رکھتی تھی۔

1948 کا چھ روزہ آپریشن پولو،بھارتی افواج کے اس ملٹری ایکشن کا نام ہے جس میں آصف جاہی سلطنت کو ختم کر کے ریاست ’حیدرآباد‘ کو بھارتی یونین میں شامل کیا۔

سقوط حیدر آباد دکن
میر عثمان علی خان ، سردار پٹیل کا استقبال کرتے ہوئے

قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے ایک روز بعد یعنی 12 ستمبر 1948 کو شروع ہونے والےآپریشن پولو کے نام پر بھارتی فوج حیدر آباد پر حملہ آور ہوئی۔

بھارتی فوج کی جانب سے آپریشن پولو میں 50 ہزار فوجی ، ایک لاکھ رضا کار ، ایک سو طیارے ، ایک سو توپیں اور سات سو ٹینک شریک ہوئے ۔

بھارتی فوج کے مقابلے میں حیدر آباد دکن بے بس نظر آئی۔ 17 ستمبر کو جنرل چودھری نے حیدرآباد کے فتح ہوجانے کی دہلی کو اطلاع دے دی۔ میر عثمان علی خان نےریڈیو اسٹیشن پہنچ کر اعلان کیا کہ وہ مستعفی ہو چکے ہیں۔

میر عثمان علی خان حیدر آباد دکن کے آخری اور ساتویں بادشاہ تھے۔ آپ کا عہد برصغیر اور حیدرآباد کا زریں عہد تھا۔

سقوط حیدر آباد دکن
میر عثمان علی خان ، جواہر لال نہرو کے ہمراہ 

1918ء میں میر عثمان علی خان نے جامعہ عثمانیہ قائم کی۔ جس میں اردو ذریعہ تعلیم تھی۔ اس کے دارالترجمہ میں علما، فضلا نے 400 سے زائد کتب کے تراجم کیے۔

میر عثمان علی خان نے علی گڑھ یونیورسٹی، انجمن حمایت اسلام، پنجاب یونیورسٹی غرض ہر مسلم علمی، تعلیمی، سماجی ادارے کے لیے خزانے کھول دیے۔

میر عثمان علی خان  کو ’سلطان العلوم‘ کا لقب دیا گیا۔ انہیں علی گڑھ یونیورسٹی کا پہلا چانسلر مقرر کیا گیا۔ 1947ءمیں پاکستان کے قیام کے بعد حیدر آباد دکن اور میر عثمان علی خان نے پاکستان کے لیے 20 کروڑ روپے کی امداد بھی کی تھی۔

سقوط حیدر آباد دکن
میر عثمان علی خان حیدر آباد دکن کے پہلے گورنر کا حلف لیتے ہوئے

حیدرآباد دکن کو 2010 میں بھارت کا چھٹا بڑا ’ گنجان آباد شہر‘ قرار دیا گیا۔ اس کی آبادی تقریباً 70لاکھ ہے

حیدرآباد دکن، اردو تہذیب و تمدن اور روایات کے ساتھ ساتھ ادبی ثقافتی اور مذہبی مرکز ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید