آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ24؍ ربیع الاوّل 1441ھ 22؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عبدالغفور کھتری

جیل پابندی قانون پر بات کرنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے، کہ آخر آزاد انسان کیوں کر بندی خانوں کی زینت بنا۔ مروج ضابطوں کو توڑنے کے جرم میں اسے قید کر لیاجاتا ہے۔معاشرے کے پانچ سات فی صد افراد سے اپنانا پسندیدہ عمل سرزد ہو جانا کوئی انہونی بات نہیں، کیوں کہ ہر انسان کے اندر اعلیٰ انسانی اقدار کے ساتھ ساتھ ایک وحشی بھی براجمان ہے اور یہی وحشی جبلت اسے کبھی کبھار طے شدہ ضابطوں اور اعلیٰ انسانی اقدار سے رو گردانی پر اکساتی ہے۔

یہاں کئی قد آور ہستیاں بھی کچھ روز و شب گزار چکی ہیں

ضابطوں سے انحراف پر سزا کا قانون اس وقت بھی تھا جب انسان جنگلوں میں زندگی گزارتا تھا، اور قبیلے کے سردار کی جانب سے سزا کا مستوجب ٹھہرتاتھا،پھر رفتہ رفتہ یہ خانہ بدوش قبائل کسی ایک مقام پر ڈیرہ ڈالتے گئے، وہاں آبادی چند نفوس سے بڑھ کر چند سو نفوس ہونے لگی تو مجرموں کی تعداد بھی بڑھنے لگی، اب سردار نے فیصلوں کے لئے اپنے ساتھ کچھ افراد کو شامل کر لیا۔ 

یوں پنچایت کے فیصلوں پر دوچار یا اس سے زیادہ مجرموں کو پرامن آبادی سے الگ رکھنے کی ضرورت آ پڑی ،کہ وحشی جبلت کے در آنے پر و ہ مزید کوئی اور ناپسندیدہ فعل نہ کر بیٹھیں۔ایک آزاد انسان کو اس کے اپنے کردہ جرم کے تحت ہی جب اس کی آزادی سلب کرکے ایک الگ تھلگ مقام پر بند کر دیا جاتا تو قیدی ہونے کا قلق ،بدنامی کی اذیت او ر اپنے کئے پر پشیمانی ،اس کی منفی جبلت کو آہستگی کے ساتھ مثبت سوچ کی طرف لے آتی ہے۔چند سو نفوس کی آبادی کےلئے توسماجی بہبود کی کسی عمارت کا ایک چھوٹے سے حصے کو جیل کے لئے لمختص کر دیا جاتا تھا۔لیکن لاکھوں کی آبادی کے ایک شہر کے لئے ایک باقاعدہ جیل یا قید خانے کی ضرورت پیش آئی۔

صدیوں کے عمل میں تہذیب و تمدن مزید بہتری کی طرف بڑھنے لگیں، تو مجرم کے جیل تک پہنچنے میں آسانی کی بجائے پیچیدگی بڑھ گئیں۔اب سردار یا پنچایت کے فوری فیصلوں کے تحت مجرم کو فی الفور قید خانے میں ڈالنے کے بجائے تھانہ اورعدالت درمیان میں واسطہ بن گئیں۔ یوں عدالت کی جانب سے باقاعدہ مجرم ٹھہرانے پر سزا کےلئے جیل حکام کے حوالے کیا جاتا ہے۔

1839میں انگریزوں نے جب کراچی پر قبضہ کیا تو اس وقت کراچی کی آبادی چند ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔قبضے کے سات آٹھ سال کے عرصے کے دوران شہر اور خصوصاً بندرگاہ پر تعمیراتی کام کے سبب روزگار کے دروازے کھلے تو کراچی کے ارد گرد اور دور دراز سے لوگ یہاں آنے لگے۔یوں آبادی بڑھنے پر قانون شکن افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا، تو ان افرادکو سزا دینےکےلئے کراچی کی حدود میں ایک باقاعدہ جیل خانے کا منصوبہ بنایا گیا۔

بندر روڈ( ایم اے جناح روڈ) پر قائم موجود میونسپل کارپوریشن کی عمارت کی تعمیر سے کچھ دہائیاں قبل اس کے عقبی حصے میں ابتدائی جیل خانہ قائم کیا گیا تھا،مگر بہت جلد بڑھتی آبادی کی وجہ سے اس میں قیدیوں کے رکھنے کی گنجائش بھی کم ہونے لگی،اور یہ شہر کے وسط میں آتا گیا۔

اس وقت کے ارباب حل و عقد نے ایک نئی جیل کی تعمیر کامنصوبہ تیار کیا۔تاریخی نوعیت کی حامل سینٹرل جیل کراچی کی عمارت کو تعمیر ہوئے 100برس سے زائدکا عرصہ بیت گیا۔کراچی کا پہلا جیل خانہ 1858 میں شہر کے گنجان آباد علاقے رنچھوڑ لا ئن میں پرنس اسٹریٹ موجودہ چاند بی بی روڈ پرکے ایم سی بلڈنگ کے مقام پر ساڑھی10 ایکڑ رقبے پر1 لاکھ 16ہزار 400 روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا، اس جیل خانہ میں سٹی مجسٹریٹ اور پولیس کی عدالتیں قائم تھیں ،تاہم جیل خانہ شہر کے وسط میں آنے کی وجہ سے آبادی کے درمیان قیدیوں کو رکھنا مناسب نہیں تھا۔

1903میں شہری آبادی سے چار میل مشرق میں کنٹری کلب روڈ موجودہ یونیورسٹی روڈ اور جمشید روڈ کے سنگم پر نیا موجودہ سینٹرل جیل تعمیر کی گئی ، مرکزی جیل 50ایکڑ رقبے پر 3لاکھ 57ہزار روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی۔

6ستمبر1906 سے اس جیل نے کام شروع کردیا تھا کراچی تاریخ کے آئینہ میں کے مصنف محمد عثمان دموہی کے مطابق اس نئے جیل خانے کا پہلا سپرنٹنڈنٹ سالومن نامی یہودی تھا، سینٹرل جیل کراچی کا مجموعی رقبہ تقریباً 45 ایکڑ ہے 1906 میں کل 601 قیدیوں کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد 1951میں قیدیوں کی گنجائش 901 کردی گئی تھی۔

1921یں اس جیل کی چار دیواری کے اندر علی برادران جیسی نامی گرامی ہستیاں بھی باعث رونق رہ چکی ہیں۔مولانا محمد علی جوہر نے افواج برطانیہ میں مسلمانوں کی بھرتی کو خلاف شرع قرارد دیتے ہوئے ترک موالات اور عدم تعاون کی قرارداد منظور کرائی تھیں، اس جرم میں حکومت برطانیہ نے مولانا محمد علی جوہراور ان کے ساتھیوں پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا تھا مقدمہ میں مولانا محمد علی جوہر،مولانا شوکت علی،جگت گروبھٹی کرشنا تیرتھی عرف شنکر اچاریہ ،مولانا محمد حسین مدنی، مولانا نثار احمد کانپوری، ڈاکٹر سیف الدین کچیلو، پیر غلام مجدد سرہندی شامل تھے ان تمام افراد کو کراچی کے پولیس سپرٹنڈنٹ آر آر بو ایڈ اور ڈپٹی سپرٹنڈنٹ سید زمان شاہ کی اطلاع پر مقدمہ قائم کرکے گرفتار کیا گیا تھا اور شہر کے پارسی مجسٹریٹ ایس ایس ٹالانی کی عدالت میں پہلی مرتبہ 26 ستمبر1921میں پیش کیا گیا تھا۔اس طرح یہاں کئی قد آور ہستیاں بھی کچھ روز و شب گزار چکی ہیں۔

پاکستان بنتے وقت کراچی کی حدود مغرب میں سینٹرل جیل تک، شمال میں لیاری اور جنوب میں جیکب لائنز تک تھیں۔ جیل کے ارد گرد جہاں اب دور دور تک گنجان آبادی ہے، جنگل تھے، جن میں تیتروں کا شکار ہوتا تھا۔

نئی جیل کی تعمیر میں جو نقطہ مقدم رکھا گیا ،وہ یہ تھاکہ شہر سے کافی دور ہو۔1906میں تعمیر کے وقت یہاں 601قیدیوں کی گنجائش تھی۔قیام پاکستان کے بعد آبادی کے بڑھ جانے کےسبب دستیاب گنجائش کم ہونے لگی تو 1951ءمیں مزید بیرکس تعمیر پر قیدیوں کی گنجائش 601سے بڑھ کر 901ہو گئی۔

آبادی کے مزید بڑھنے پر 1961ء میں قیدیوں کی گنجائش 1900ہوگئی۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دو ہزار قیدیوں کی گنجائش کی جگہ چھ ہزار قیدی یہاں قید ہیں۔

کولاچی کراچی سے مزید