آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آپ بھی تو اسمارٹ فون اسٹریس کا شکار نہیں ؟

اسمارٹ فون آج کل ہر انسان کی ضرورت ہے، اسکول جاتے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک اس کا استعمال لازمی بن چکا ہے، جہاںاس کے استعمال سے دور دراز اپنے پیاروں سے رابطے آسان ہو گئے اور فاصلے سمٹ گئے ہیں وہیں اس کے کئی نقصانات بھی ہیں۔

2018 ء میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق جو افراد اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں ان میں زیادہ تر افراد ایک دن میں 3 گھنٹوں سےزیادہ وقت اپنے فون کے ساتھ گزارتے ہیں اور10 میں سے 15 فیصد اسمارٹ فون استعمال کرنے والے فرد اپنے فون سے چپکے رہتے ہیں اور اپنے آس پاس کے ماحول سے بالکل بے خبر رہتے ہیں، کچھ افراد صرف نوٹیفیکیشن چیک کرنے کے لیے موبائل دیکھتے ہیں جبکہ فون کا استعمال بہت کم کرتے ہیں۔

اسمارٹ فون کا زیادہ استعمال نقصان دہ


ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق اسمارٹ فون کے زیادہ استعمال کرنے والوں میں زیادہ تر نوجوان اور کمسن بچے شامل ہیں، فون کا زیادہ استعمال ذہنی صحت سمیت جسمانی صحت پر اثر انداز ہو رہا ہے جس سے نوجوان نسل اپنے حقیقی رشتوں اور ماحول سے کٹ کر خیالی اور دھوکوں سے بھری دنیا میں زیادہ رہنے لگے ہیں۔

اس قسم کے افراد کی ذہنی اور جسمانی صحت گر رہی ہے اور ان میں ’ اسماٹ فون اسٹریس ‘ نامی بیماری تیزی سے جنم لے رہی ہے جس کے نتیجے میں ہماری نوجوان نسل اپنے فون کے بغیر 30 منٹ گزارنا بھی مشکل سمجھنے لگے ہیں اور اگر ان سے موبائل لے لیا جائے تو شاید یہ افراد حقیقی زندگی کو اپنا ہی نہ سکیں ۔

ایک مارکیٹنگ ایگزیکٹیو کا کہنا ہے کہ ان کا ہر ایک منٹ موبائل استعمال کرتے ہوئے گزرتا ہے، انہیں اپنے باس اور بزنس سے متعلق ہر ایک ای میل کا جواب دینا پڑتا ہے۔

ان کاکہنا ہے کہ میں بس سوتے ہوئے موبائل سے دور ہوتا ہوںاور اُٹھتے ہی سب سے پہلے اپنا موبائل چیک کرتا ہوں، نیند کے دوران بھی دماغ سکون کے بجائے متحرک رہتا ہے اور ایک ذہنی دباؤ محسوس ہوتا رہتا ہے ۔

ماہرین کے مطابق اسمارٹ فون اسٹریس موبائل کے استعمال کے دورانیے سے بھی جانچا جاتا ہے ۔

ماہرین کے مطابق اسمارٹ فون اسٹریس آپ کے ہارمونز پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ 14 سے 18 سال کی عمر کے بچے اسماٹ فون اسٹریس کے زیادہ شکار نظر آتے ہیں۔ بچوں میں بننے والا ہارمون ’کارٹیسول‘ کی سطح فون کے زیادہ استعمال کرنے سے ہر وقت بڑھی رہتی ہے ۔

اس ہارمون سے بچے پریشان رہتے ہیں اور ذہنی اضطراب کا شکار رہتے ہیں کہ انہیں سوشل میڈیا پر کتنے لائیکس اور کمنٹس ملے ہیں، اس چیز کی فکر انہیں ہر وقت ستائے رکھتی ہے جس سے وہ ذہنی دباؤ کے باعث لڑاکا ، چڑچڑے اور حقیقی رشتوں سے دور ہو جاتے ہیں ۔

اسمارٹ فون اسٹریس سے کیسے بچا جائے ؟

ماہرین کے مطابق اپنی اور اپنے بچوں کی زندگیوں کو آسان بنانے کے لیے ہر فرد کے لیے اسمارٹ فون استعمال کرنے کا وقتمقرر ہونا چاہیے، بچوں کو اس اسٹریس سے نکالنے کے لیے ان کا وقت مقرر کریں اور آ ہستہ آہستہ اس وقت کو کم کرتے ہوئے گھنٹوں سے ایک سے گھنٹے تک لے آئیں ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرحلے کو ’ڈیجیٹل ڈیٹاکس‘ کا نام دیا جاتا ہے جس میں آپ خود اپنی اصلاح کرتے ہوئے اس بیماری سے نکلتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق وہ افراد جو دفتروں میں کام کرتے ہیں یا کاروبار میں مصروف رہتے ہیں اور بڑی عمر کے افراد ہیں انہیں یہ لت چھوڑنے کے لیے ’ ڈیجیٹل نیوٹریشن‘ کے عمل کا سہارا لینا چاہیے، جس میں آپ یہ تہیہ کر لیتے ہیں کہ آپ نے پورے دن میں بس انتہائی ضروری کالز ریسیو یا ڈائل کرنی ہیں ، اور ای میلز کا جواب دینا ہے۔

غیر ضروری کوئی بات موبائل پر کرنے کے بجائے دفتر میں موجود ہیں توخود مطلوبہ بندے سے جا کر بات کریں، اس عمل سے آپ موبائل سے باہر نکل کر حقیقی زندگی میں قدم رکھیں گے اور ذہنی دباؤ کے بجائے خوشی محسوس کریں گے۔

صحت سے مزید