آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اردو ادب کے نام وَر، قادر الکلام شاعر، جوش ملیح آبادی 5دسمبر 1898ء کو اُترپردیش، ہندوستان کے مَردم خیز علاقے، ملیح آباد کے ایک علمی و ادبی اور متموّل گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شبیر حسین خان تھا۔ انہوں نے تقسیمِ ہند کے آٹھ برس بعد ہجرت کرکے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی۔ 

جوش نہ صرف اردو میں یدِطولیٰ رکھتے تھے، بلکہ عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی پر بھی عبور رکھتے تھے۔ اپنی اِسی خداداد لسانی صلاحیت کے باوصف انہوں نے قومی اردو لغت کی ترتیب و تالیف میں بھرپور علمی معاونت کی۔ نیز، انجمن ترقی ٔ اردو (کراچی) اور دارالترجمہ (حیدرآباد دکن) میں بیش بہا خدمات انجام دیں۔ 22 فروری 1982ء کو اس شاعرِ انقلاب نے داعیٔ اجل کو لبّیک کہا۔ ذیل میں ان کی 38ویں برسی کی مناسبت سے اخبار کے قدیم تراشوں پر مبنی خبروں کا اجمالی جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔

آئیے، سب سے پہلے ایک منظر نامہ دیکھتے ہیں۔ سال ہے 1962ء، مہینہ ہے اکتوبر۔ جوشؔ کو ہندوستان سے ترکِ وطن کر کے پاکستان آئے کئی برس گزر چکے ہیں۔ وہ مُلک کے دارالحکومت، کراچی میں سکونت پذیراور مُلک کے سب سے مقبول اور کثیرالاشاعت اخبار ’’روزنامہ جنگ‘‘ کے لیے ’’علم و فکر‘‘ کے عنوان سے کالم تحریر کررہے ہیں۔ جوشؔ کی انقلابی شاعری کا عہد اپنے درجۂ کمال کی تاب ناکیاں اور کام رانیاں حاصل کرچُکا ہے۔ اُن کی مناظرِ فطرت پر کہی گئی نظمیں، رُباعیات، خُمریات اور مسدّس منزلِ داد سے کہیں آگے جاچکے ہیں۔ 

گویا ترکِ وطن کے بعد جوشؔ نے جب پچاس کے وسط میں پاکستان ہجرت کی، تو اُس وقت تک وہ اپنے تخلیقی سفر کی تمام تر اجتہادی قوتوں کو بروئے کار لا کر اہلِ ادب کو سرشار کرچکے تھے۔ یعنی اُن کے اوّلین شعری مجموعے ’’روحِ ادب‘‘(1920ء) سے قائم ہونے والا لفظ، حرف اور معنیٰ سے شناسائی اور قُرب آشنائی کا مضبوط ترین رشتہ ادبی دنیا کے محض ’’چاند‘‘ ہی کو مسخّر نہیں کرچُکا تھا، بلکہ ’’سموم و صبا‘‘(1954ء) تک آتے آتے ادبی دنیا کا’’ مرّیخ ‘‘بھی اُن کی پہنچ میں آچکا تھا۔ پاکستان میں اُن کا پہلا بڑا تخلیقی کارنامہ ’’طلوعِ فکر‘‘ تھا،جو 1957ء میں منصہ شہود پرآیا۔ مدحتِ علیؓ میں کہے مصرعے پُکار پُکار کر گواہی دے رہے تھے کہ اُس مسدّس کا خالق علاوہ جوشؔ کے کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ 

خود جوشؔ اِس حد تک اُس مسدّس کے ’’نجفی بہاؤ‘‘ اور ’’علوی رچاؤ‘‘ میں ڈوب چکے تھے کہ اختتامِ مسدّس پربے اختیار پُکار اٹھے؎لے وہ نجف کی سمت سے آنے لگی صدا......اے جوشِؔ نکتہ سنج مِری انجمن میں آ.....آ ،اور جھوم جھوم کے،نغماتِ نَو سنا .....ساقی، مرا سلامِ ادب لے، کہ میں چلا..... مولائے کائنات ،اور آواز دے مجھے.....اے جبرئیل، قوتِ پرواز دے مجھے- اس مسدّس کی بازگشت اُس زمانے کی شعری و ادبی فضا پر اس حد تک چھائی کہ’’ روزنامہ امروز ‘‘نے اپنی ادبی اشاعت میں اُسے اپنے تبصرے کا موضوع بنایا۔ گویا جوشؔ جب ملکِ خداداد پاکستان آئے تو اس طور اُفقِ ادب پر طلوع ہوئے کہ ’’طلوعِ فکر‘‘ اُن کی ادبی نگارشات میں ایک حسین اضافہ قرار پایا۔

جوش ؔ کے پاکستان منتقل ہونے پر یہاں کا ادبی منظر نامہ کیسا رہا؟آئیے، اس پربھی ایک نظر ڈالتے ہیں۔ ہفتہ 3 دسمبر 1955ء کو روزنامہ جنگ نے صفحہ ٔ اوّل پر دو کالمی خبر شایع کی، جس کی سُرخی یوں تھی’’جوشؔ ملیح آبادی پاکستان میں مستقل طور پر سکونت اختیار کرنے کے کراچی پہنچ گئے۔‘‘متن میں بتایا گیا’’اردو کے مشہور شاعر جوشؔ ملیح آبادی کراچی پہنچ گئے ہیں۔وہ پاکستان میں مستقل سکونت اختیار کرنے آئے ہیںاور انہوں نے پاکستان کی قومیت اختیار کرلی ہے۔‘‘ جب کہ پیر 5 دسمبر 1955ء کو روزنامہ جنگ کے صفحہ آخر پر ایک کالمی خبر کچھ یوں تھی’’پاکستان کے مخالف، حضرت جوش سے رعایت کیوں کی گئی؟ کراچی مسلم لیگ کی قرارداد‘‘ خبر میں جوش کو اسلام دشمن اور پاکستان دشمن قرار دیتے ہوئے حکومت کو اس بات پر مطعون کیا گیا کہ جوشؔ کو پاکستان آنے کی اجازت کیوں دی گئی۔ 

بدھ 7 دسمبر 1955ء کو روزنامہ جنگ میں ایک مراسلہ بعنوان’’خدائی بانٹ‘‘ شایع ہوا۔ مراسلہ نگار سیّد شریف الحسن تھے، جنہوں نے جوشؔ کی پاکستان آمد کو ہندوستان کی حکومت کی طرف سے کسی مخصوص مفاد پر مبنی کارروائی کا حصّہ قرار دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان کو متوجّہ کیا کہ اس سازش کو سمجھنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ جوش،ؔ اسلام دشمن اور پاکستان دشمن شخص ہیں اور ایسا انسان ریاست کا وفادار کبھی نہیں ہوسکتا۔ اتوار 11 دسمبر 1955ء کے مراسلات میں سے ایک مراسلہ نصیر مہری کا تھا، جس کا عنوان تھا ’’جوشؔ کو لیگ کی خالہ نے صلہ خُوب دیا۔‘‘ یہ مراسلہ بھی از اوّل تا آخر جوشؔ کی مذمّت میں تھا اور اس میں ایک مقام پر جوشؔ کو ’’ملحدِاعظم‘‘ بھی کہا گیا۔ 

پیر 12 دسمبر 1955ء کی اشاعت میں ’’جوشؔ اور پاکستان‘‘ کے عنوان سے دو کالم پر محیط ایک مضمون شامل کیا گیا۔ مضمون نگار، آغا آفتاب قزلباش نے جوشؔ کی ادبی خدمات اور اُن کی قائداعظم سے ہونے والی ملاقات کا احوال بھی قلم بند کیا۔ یہ مضمون جوشؔ کی حمایت میں تحریر کیا گیا۔گویا یہاں تک کا منظر نامہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جوشؔ کی پاکستان آمد پر اُنہیں خوش دلی سے قبول نہیں کیا گیا اور اُن کی مخالفت میں مسلسل آوازیں اُٹھتی، اور قلم چلتے رہے۔ جہاں تک روزنامہ جنگ کا تعلق ہے، اخبار کی اُن کے سلسلے میں حکمتِ عملی اُن کی شخصیت کی بڑائی کے عین مطابق رہی۔ یعنی اُن کے بارے میں اخبار کا ہم دردانہ نقطۂ نظر۔ اور یہی وجہ ہے کہ اخبار نے آگے چل کر ساٹھ کے عشرے کے ابتدائی برس ہی اُنہیں اپنے ادارتی عملے کا حصّہ بنالیا اور وہ روزنامہ جنگ کے لیے ’’علم و فکر ‘‘ کے عنوان سے کالم تحریر کرنے لگے۔

اب تک کی گفتگو میں آپ نے جوشؔ کی پاکستان آمد، بُلندہونے والی مخالفت اور موافقت پر مبنی آوازہی اور خود اخبار کا اُن کی ادبی شخصیت کے شایانِ شان سلوک ملاحظہ کیا۔ پھر جب جوشؔ ملیح آبادی پر جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے دسمبر 1978ء میں پابندی عائد کی، تو اخبار نے اس خبر کو بھی صفحۂ اوّل پر ایک کالمی شایع کیا۔ خبر کچھ یوں تھی۔’’جوشؔ ملیح آبادی بلیک لِسٹ کردیے گئے۔ انہوں نے اسلام اور قرآن پاک کے بارے میں دریدہ دہنی کی تھی۔‘‘ یہ وہ زمانہ تھا، جب پریس پر سخت پابندیاں عائد تھیں اور فوجی حکومت کسی بھی خبر کو اپنے طور پر جاری کیا کرتی تھی۔ 

یہ سارا ماجرا کچھ یوں تھا کہ 1974ء میں ریڈیو پاکستان نے جوشؔ ملیح آبادی کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو لینے والے شاہ حسن عطا تھے۔ انہوں نے جوشؔ کی ابتدائی زندگی اور ادبی تابندگی کے بارے میں استفسار کرنے کے علاوہ اُن سے کچھ ایسے سوالات بھی کیے، جن کا تعلق کسی فرد کے عقائد کے علاوہ تقسیمِ ہند اور اُس سے وابستہ دیگر معاملات سے بھی تھا۔ اوّل جوشؔ نے اُن سوالات کے جوابات دینے پرتامّل کیا، مگر زور دیے جانے پر وہ مذکورہ سوالات کے جوابات اس شرط کے ساتھ دینے پر آمادہ ہوگئے کہ یہ انٹرویو اُن کے انتقال کے بعد شایع یا نشر کیا جائے گا۔ ریڈیو حکّام نے یہ شرط قبول کرلی۔ انٹرویو کے مندرجات ریڈیو حکّام نے اپنی تحویل میں لے لیے۔ 5 جولائی 1977ء کو جب فوجی حکمراں، جنرل ضیا نے اقتدار سنبھالا تو مذکورہ انٹرویو کے مندرجات بھی نئی حکومت کی تحویل میں چلے گئے۔ 

انٹرویو اب خفیہ نہ رہا۔ اُسے سنا گیا اور اشاعت کے لیے اُس زمانے کے ایک رسالے کو جاری کردیا گیا۔ 22 دسمبر1978ء کو یہ انٹرویو شایع ہوا اور اس کے مندجات اور مشمولات کی بنیاد پر رسالے نے جوشؔ کے لیے سزا کا مطالبہ کیا۔ حکومت کے تحت چلنے والا ادارہ، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ فوری طور پر حرکت میں آیا اور اُس نے ایک حکم نامہ جاری کیا، جس کے تحت ’’وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ریڈیو یا ٹی وی کے کسی بھی پروگرام میں جوشؔ ملیح آبادی کی شرکت پر پابندی عاید کرنے کے ساتھ اس بات کا بھی فیصلہ کیا کہ ریڈیو، ٹی وی اور کسی بھی سرکاری اخبار یا رسالے میں جوشؔ کا کلام پڑھنے یا شایع کرنے کی بھی ممانعت ہوگی۔‘‘ حکم نامے کے مطابق، ’’جوشؔ ملیح آبادی نے مذکورہ انٹرویو میں اسلام اورقرآن کے بارے میں دُشنام طرازی کے علاوہ قائداعظم اور علّامہ اقبال کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کیے اور پاکستان کے قیام پر سوالات اُٹھائے۔‘‘ حُکم نامے میں یہ بھی بتایا گیا کہ ’’یہاں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ مذکورہ انٹرویو ریڈیو پاکستان پر 1974ء میں ریکارڈ کیا گیا اور متعلقہ حکّام کو انٹرویو کے قابلِ اعتراض متن کے بارے میں معلوم تھا، مگر چوں کہ گزشتہ حکومت جوشؔ ملیح آبادی کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی تھی، لہٰذا اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی۔‘‘ حُکم نامے کے آخری حصّے میں بتایا گیا’’انٹرویو کے مندرجات پریس کی وساطت سے جب موجودہ حکومت کے علم میں آئے، تو اس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے جوشؔ پر پابندی عاید کردی ہے۔‘‘

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس پورے سلسلے سے روزنامہ جنگ کا کیا تعلق ہے؟سوائے اُس خبر کے کہ جو اُس نے جوشؔ ملیح آبادی کے بلیک لسٹ کیے جانے سے متعلق شایع کی تھی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اخبار نے 24 فروری 1982ء کی اشاعت میں کہ جب جوشؔ ملیح آبادی کے انتقال کو محض دو دن گزرے تھے، اس عنوان سے دو خبریں شایع کیں۔ صفحہ 8 پر شایع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’انتہائی قابلِ اعتماد اور باخبر ذرائع کے مطابق جناب جوشؔ سے اس انٹرویو میں دانستہ ایسے سوالات پوچھے گئے، جو خالصتاً سیاسی نوعیت کے تھے اور ان کے جواب پر اصرار بھی کیا گیا۔ 

جناب جوشؔ نے مسلسل استفسار پر جواب دیتے ہوئے انٹرویو لینے والے اور دوسرے افسران سے اس امر کا وعدہ لیا تھا کہ یہ انٹرویو ان کی وفات کے بعد نشر کیا جائے گا، لیکن اس وعدے اور اخلاقی معاہدے کے باوجود انٹرویو کے بیش تر حصّے زبان زدِ عام ہوئے اور اخبارات کی زینت بنے۔‘‘ اسی عنوان سے شایع ہونے والی دوسری خبر کے مطابق، ’’جوشؔ ملیح آبادی مرحوم کا ایک انٹرویو، جو دراصل انہوں نے اپنی موت کے بعد نشر ہونے کے لیے دیا تھا، بعض لوگوں نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے اشاعت کے لیے جاری کردیا۔ 

اس پر ان کے خلاف بیان بازی شروع ہوگئی۔ اس متنازع انٹرویو میں جوشؔ نے اپنے مخصوص نقطۂ نظر کے مطابق بعض مسائل پر اظہارِ خیال کیا۔ اُن کی رائے تھی کہ تقسیم کے نتیجے میں جو افراتفری مچی، اس سے وضع داری، شرافت اور تہذیب کی وہ عظیم روایات برباد ہوگئیں، جو ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل کر ایک ہزار برس کے دوران پروان چڑھائی تھیں۔ 

بطور شاعر وہ تقسیم کے بعد رُونما ہونے والے المیے سے بہت متاثّر ہوئے۔ وہ علّامہ اقبال کی صلاحیتوں کے بہت معترف تھے، لیکن اُن کے خیال میں علامہ اقبال نے خودکو صرف مسلمانوں کے لیے وقف کرکے اپنے ساتھ زیادتی کی۔‘‘ اخبار کی دونوں خبروں کو بغور جانچا جائے، تو اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جوشؔ کے مبیّنہ متنازع انٹرویو کے سلسلے میں اخبار نے جوشؔ کو ہرگز قصوروار نہیں ٹھہرایا۔ 

پہلی خبر میں اخبار نے واضح طور پر تحریر کیا کہ ’’وعدے اور اخلاقی معاہدے کے باوجود اس انٹرویو کے بیش تر حصّے زباں زدِ عام ہوئے‘‘ اور دوسری خبر میں اخبار کے الفاظ ہیں ’’جوشؔ ملیح آبادی مرحوم کا ایک انٹرویو، جو دراصل انہوں نے اپنی موت کے بعد نشر ہونے کے لیے دیا تھا، بعض لوگوں نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے اشاعت کے لیے جاری کردیا۔ اس پر ان کے خلاف بیان بازی شروع ہوگئی۔‘‘ اخبار نے کسی لگی لپٹی کے بغیر اپنے قارئین کو آگاہ کیا کہ اگر جوشؔ سے انٹرویو کی بابت یہ وعدہ لیا جاچکا تھا کہ مذکورہ انٹرویو اُن کی وفات کے بعد شایع کیا جائے گا، تو اُس وعدے کو بہر صورت ایفا کیا جانا چاہیے تھا، ایسا نہ کرکے جوشؔ کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کیا گیا۔

اب اُس منظر نامے کو اپنی نگاہ میں لاتے ہیں، جو جوشؔ کی وفات کے سلسلے میں اخبار نے ملحوظِ خاطر رکھا۔ سال ہے 1982ء، مہینہ ہے فروری۔ جوشؔ اسلام آباد کے ایک اسپتال میں داخل ہیں اور حالت تسلّی بخش نہیں۔ روزنامہ جنگ، کراچی اُن کی صحت کے بارے میں اپنے قارئین کو کچھ اس طرح آگاہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ 19 فروری 1982ء صفحہ اوّل شایع ہونے والی خبر کے مطابق’’جوشؔ ملیح آبادی کی حالت نازک ۔ اسپتال میں آکسیجن دی جارہی ہے۔‘‘ جب کہ 20 فروری1982ء کے صفحہ اوّل کی دو کالمی خبرکے مطابق، ’’جوشؔ ملیح آبادی کی حالت تشویش ناک ہے۔ 

شاعرِ انقلاب کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔ صدر (جنرل ضیاء الحق)کے مشیر ِصحت، ڈاکٹر جذبی کی ہدایت۔‘‘ 21فروری، صفحہ آخر۔ دو کالمی خبر۔ ’’شاعر ِ انقلاب کی حالت بدستور تشویش ناک ہے۔ جان بچانے کی کوششیں۔‘‘ ’’وہ لوگ اب آئے، جن سے ملنے کے لیے جوشؔ تڑپ رہے تھے۔‘‘ پوتیوں کا بیان۔ 22 فروری، صفحہ آخر، دو کالمی خبر۔ ’’جوشؔ کی حالت بگڑتی جارہی ہے۔ دوائیں بے اثر ہوگئیں۔ شاعرِ انقلاب کو اب صرف دعاؤں کی ضرورت ہے۔‘‘ معالجین کا بیان۔ اور اب منگل 23 فروری کا روزنامہ جنگ، صفحہ اوّل، چار کالمی خبر۔ سُپرلیڈ ’’شاعرِ انقلاب جوشؔ ملیح آبادی انتقال کرگئے۔‘‘اس ذیل میں اخبار نے تفصیل سے خبریں شایع کیں۔ 25 فروری کو شایع ہونے والی اسی تسلسل کی ایک اور خبر کے مطابق،’’جوشؔ کی وفات پر حفیظؔ جالندھری کا بیان ناقابلِ برداشت ہے‘‘، فیضؔ۔

واضح رہے کہ حفیظؔ جالندھری نے جوشؔ کے انتقال پر کہا تھا ’’جوشؔ زندہ رہتا، تو میں خوش ہوتا کہ اُس کے دل میں پاکستان اور اسلام کے خلاف جو کچھ تھا، وہ نکال کے جاتا، لیکن افسوس، وہ سب کچھ اپنے ساتھ ہی لے گیا۔ اس کی موت کے معنی یہ ہیں کہ پاکستان اور اسلام کا دشمن اور رسول ؐ کا نام لے کر تمسخر اُڑانے والا اللہ کے پاس چلا گیا۔ اب یہ معاملہ اللہ کے سپرد ہے کہ وہاں اُس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔‘‘حفیظؔ جالندھری کے مذکورہ بیان کے بعد ہی فیضؔ نے فوری ردّعمل کا اظہار کرتے ہوئے حفیظؔ پر سخت تنقید کی۔ 

اسی کے تسلسل میں روزنامہ جنگ نے 7 مارچ کو ایک کالمی خبر باکس آئٹم کے طور پر شایع کی، جس کی سُرخی تھی’’مجنوں گورکھ پوری کا حفیظ جالندھری کو مشورہ۔‘‘ خبر میں مجنوںؔ نے جوشؔ کو عظیم اور عہد آفریں شاعر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حفیظؔ کے بیان سے انہیں دلی صدمہ ہوا ہے۔ انہوں نے حفیظؔ جالندھری کو مشورہ دیا کہ دوسروں کی فکر چھوڑ کر اپنی عاقبت سنبھالیں۔ ساتھ ہی انہوں نے فیضؔ کے بیان کو بروقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیضؔ کے بیان سے انہیں اور اردو ادب کے متوالوں کو ڈھارس ہوئی ہے۔ مزید برآں، اُس زمانے کے ایک مقبول ادیب، شاعر اور کالم نگار، انعام درّانی نے اپنے کالم ’’تلخ و شیریں‘‘ میں بھی حفیظؔ جالندھری کے جوشؔ ملیح آبادی کے انتقال پر جاری کیے گئے بیان کی بھرپور مذمّت کی۔

ان اخباری حوالوں کے علاوہ جوشؔ پر اخبار نے اُن کے انتقال کے ایک ماہ کے اندر متعدّد تحریریں شایع کیں۔ اگرچہ اس اثناء میں اُردو کی دو قد آور شخصیات، فراقؔ گورکھ پوری اور احسان دانش نے بھی دنیا سے کُوچ کیا، تاہم ان شخصیات پر مضامین کے ساتھ ہی اخبار نے جوشؔ پر تحریروں کا سلسلہ جاری رکھا، جو اس بات کی واضح عکّاسی کرتا ہے کہ اخبار کے نزدیک جوشؔ، صحیح معنوں میں شاعرِ انقلاب تھے۔ 

یعنی جوشؔ کے پاکستان چلے آنے سے لے کر اُن کے روزنامہ جنگ سے وابستہ ہونے تک اور اُن کی بیماری سے اُن کے انتقال پر حفیظؔ کے متنازع بیان سے لے کر اُن کے بارے میں مذمّتی بیانات تک روزنامہ جنگ نے جوشؔ ملیح آبادی کی حیات و خدمات کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی۔ تتمّۂ کلام میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اُردو دنیا کے سب سے بڑے اخبار نے اپنے عہد کے اُردو کے سب سے بڑے شاعر کی آواز کو قارئین تک پہنچانے میں کسی کوتاہی اور لیت و لعل سے کام نہیں لیا۔

سنڈے میگزین سے مزید