آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بیگم نصرت بھٹو اپنے وقت کی بے مثال خا تون تھیں۔
یہ حسن اتفاق ہے کہ 23مارچ پاکستان کا یوم جمہوریہ ہے اور 23مارچ ہی بیگم نصرت بھٹو کا یوم ولادت بھی۔ بیگم نصرت بھٹو نے پاکستان کے لئے جو خدمات دی ہیں یہ امر پاکستان سے ان کے اٹوٹ رشتہ کی علامت ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شہید قائد اور ان کے خاندان نے آمرانہ سوچ کے خلاف عملی جدوجہد کو عظیم الشان قربانیوں سے آراستہ کیا ہے۔ بیگم نصرت کا کردار اس لحاظ سے منفرد دکھائی دیتا ہے کہ وہ شہید قائد عوام کی شریک زندگی ہی نہیں رفیق سیاست بھی تھیں اور شہید محترمہ بینظیربھٹو کی سرپرست بھی۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پہلی خاتون رہنما تھیں جنہوں نے پہلے ایو ب خان اورپھر ضیاء الحق کی آمریت کو چیلنج کیا۔بیگم نصرت بھٹو کی شخصیت میں جمہوریت نوازی‘ انسانیت کی خدمت اور خواتین کو معاشرہ میں جائز مقام دلانے کا جذبہ موجزن تھا۔ 1976ء میں سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے انجمن ہلال احمر پاکستان کو گندم کا جو عطیہ دیا بیگم نصرت بھٹو نے انجمن کی سربراہ ہونے کے ناطے سندھ‘ پنجاب‘ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے غریب عوام میں گندم کی تقسیم کے کام کی خود نگرانی کی۔ انہوں نے خود بزرگ خواتین کے سر پر گندم کے تھیلے رکھے اور تقسیم کی پرچیاں چیک کیں۔ برکی لاہور میں ایسا بھی ہوا کہ وہ خوردبرد سے بچاؤ

کے لئے تقسیم مکمل ہونے تک رخصت نہ ہوئیں۔
بیگم نصرت بھٹو کہا کرتی تھیں کہ ”قومی مصروفیات کے باعث مجھے اپنی گھریلو زندگی قربان کرنا پڑی ہے “بیگم نصرت بھٹو کے اس ایک جملے میں ان کی نجی زندگی اور قومی مصروفیات کی مکمل کہانی سمٹ آتی ہے۔ دراصل ان کی مصروفیات کا دائرہ خاتون اول کے فرائض تک محدود نہ تھا۔ جس طرح شہید ذوالفقار علی بھٹو قومی و بین الاقوامی امور کو سرانجام دینے کیلئے لگاتار جانفشانی سے کام کر رہے تھے اسی طرح بیگم نصرت بھٹو پاکستانی خواتین میں سیاسی و سماجی شعور کو فروغ دینے اور ملک میں خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لئے عورتوں میں نیا جذبہ اور روح بیدار کررہی تھیں۔
بیگم نصرت بھٹو کو زندگی کے روزمرہ معاملات میں سرگرم دیکھ کر خواتین کی آنکھوں میں ایک خاص قسم کی اپنائیت کی چمک ابھر آتی تھی۔ وہ حیران نظروں سے اس منظر میں شامل ہوتیں کہ وزیراعظم پاکستان کی بیگم بھی ان کے ساتھ گارے اور مٹی میں لت پت اپنا فرض انجام دے رہی ہوتیں۔ بوڑھی دیہاتی عورتیں سر پر بوجھ اٹھائے ہونے کے باوجود بیگم نصرت بھٹو کو دیکھنے کے لئے کھڑی رہتیں۔ میلے کچیلے بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس کئی عورتیں اگر ان سے گلے ملنے کی خواہش ظاہر کرتیں تو بیگم نصرت بھٹو انتہائی محبت گلے لگا لیا کرتیں اور یہ عورتیں ان کو دعائیں دیتی رخصت ہوتیں۔ یہی وجہ تھی کہ 1977ء کے انتخابات میں جب اپوزیشن کے لیڈروں نے بیگم نصرت بھٹو کے متعلق غلیظ زبان استعمال کی تو خواتین کے طبقہ میں اس بات کی شدید مذت کی گئی اور بیگم نصرت بھٹو کا وقار مزید بلند ہوا۔
بیگم نصرت بھٹو نے جس طرح پاکستانی خواتین کی قیادت کی اس کے نتائج واضح شکل میں موجود ہیں۔ یہ ستمبر 1975ء کی بات ہے جب انہوں نے ایک خصوصی انٹرویو میں مجھے بتایا کہ خاتون اول بننے کے بعد ان کے سامنے دو راستے تھے ایک یہ کہ اپنی توجہ گھریلو امور پر مرکوز رکھیں اور دوسرا یہ کہ ان ضرورت مندوں اور محروموں کے مسائل حل کرتیں جو ان کے پاس آتے۔ انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ بیگم نصرت بھٹو نے اسلامی سربراہ کانفرنس کے موقع پر مہمان سربراہان مملکت کی بیگمات کو پاکستان اور اس کے لوگوں سے اس طرح متعارف کرایا کہ وہ بیگم صاحبہ کی شخصیت کی بھی اسیر ہوگئیں۔ سیاست میں خواتین کے کردار کے متعلق وہ بہت واضح نقطہ نظر رکھتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین نے پہلی بار پیپلزپارٹی کے پرچم تلے آمریت کے خلاف جدوجہد شروع کی۔ اس تحریک میں عورتوں نے لاٹھیاں بھی کھائیں۔ ہمارے معاشرے میں عورت سب سے زیادہ مظلوم رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کی سوچ یہ رہی ہے کہ نصف آبادی کو متحرک کئے بغیر معاشرے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔
آج اّج کسی سربراہ حکومت کی بیگم کو وہ مسائل لاحق نہیں جو بیگم نصرت بھٹو کو درپیش تھے۔وہ مظلوموں‘ غریبوں اور بے سہارا افراد کی مدد کرتے ہوئے قانونی تقاضوں اور اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو ملحوظ خاطر رکھتیں۔ ملازموں کے تبادلوں وغیرہ کے معاملات میں مداخلت انہیں پسند نہیں تھی۔ وہ میرٹ پر نہ آنے والے طلباء کو سفارش کے ذریعے کالج میں داخل کروا کے مستحق بچوں کا حق مارنے کے بھی خلاف تھیں۔
بیگم نصرت بھٹو کا وہ عظیم کردار کیسے فراموش کیا جاسکتا ہے جب ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کرنے والے یہ سمجھ بیٹھے کہ اب ان کی پارٹی بھی بکھر جائے گی۔ یہ بیگم نصرت بھٹو ہی تھیں جنہوں نے ایک طرف اس پہاڑ جیسے غم کو برداشت کیا اور دوسری طرف مایوس اور غمزدہ کارکنوں کو جمع کرکے آمر ضیاء الحق کی نیندیں حرام کردیں۔ بیگم نصرت بھٹو سر پر لاٹھیاں کھا کر بھی کارکنوں کے ساتھ رہیں۔ انہوں نے ابتلاء کے وقت میں ایک ماں‘ ایک لیڈر اور زبردست قوت ارادی کی حامل سیاستدان کا کردار بیک وقت ادا کیا۔پاکستان کا یوم جمہوریہ اور بیگم نصرت بھٹو کی۵۸ ویں سالگرہ پارٹی کارکنوں کے لئے تجدید عہد کا دن ہے کہ مادر جمہوریت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان آ ئیڈیلز اور نظریات پر کاربند رہیں گے جس کے لئے ان کے عظیم شوہر ذوالفقار علی بھٹو شہید اور جگر گوشوں نے اپنی جانیں نچھاور کیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں