آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سابق حکومت نے اپنا پانچواں اور آخری بجٹ یکم جون2012ء کو پیش کیا چونکہ2012-13ء انتخابات کا سال تھا حکومت کی نیت پیش کردہ بجٹ کے اعدادوشمار کے حوالے سے مکمل طور پر غیر حقیقی تھی۔ انتخابات جیتنے کے لئے بے دریغ پیسے خرچ کرنا حکومت کا واحد مقصد تھا۔ حکومت کی فنانس ٹیم کو صرف آمدن کے خانوں میں معقول اعدادوشمار درج کرنا تھے تاکہ بجٹ کے خسارے کے اعدادوشمار مناسب معلوم ہوں اور آئی ایم ایف کو قابل قبول ہوں۔
میں نے پچھلے سال کئی آرٹیکل لکھے کے گزشتہ سال کا بجٹ انتہائی غیر سنجیدگی سے بنایا گیا جس میں لاپروائی سے نازک اعدادوشمار درج کئے گئے ہیں۔ پیش کئے جانے کے کچھ ماہ بعد یہ یقینی تھا کہ بجٹ اپنی موت خود مرجائے اور جب وزارت خزانہ کے حکام نے بجٹ کی موت کا اعلان کیا تو میرے موقف کی تائید ہوئی۔
اس امر سے وزیر خزانہ اور وزارت خزانہ اندرون و بیرون ملک اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔ بجٹ بنانے والے کتنے غیر سنجیدہ تھے اس کا اندازہ درج ذیل حقائق سے لگایا جاسکتا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے2012-13ء کے بجٹ میں محصولات کا ہدف2381/ارب روپے رکھا تھا جبکہ گزشتہ برس انہیں1881/ارب روپے کے محصولات ملے تھے یعنی 26فیصد اضافہ۔ میں نے 25 ستمبر2012ء کو یہ لکھا تھا ایف بی آر محصولات کی مد میں2150/ارب روپے سے زائد حاصل نہیں کر پائے گا اور میرا

حالیہ موقف یہ ہے کہ ایف بی آر کو200/ارب روپے کی کمی پوری کرنے کا عظیم چیلنج درپیش ہوگا۔
رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ (جولائی تا فروری) میں ایف بی آر نے 1160/ارب روپے وصول کئے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں محصولات کا حجم 1160/ارب روپے رہا لہٰذا4.5فیصد کا معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 2000/ارب کے محصولات جمع کرنے کیلئے رواں مالی سال کے بقیہ 4 ماہ (مارچ تا جون) میں 840/ارب روپے وصول کرنا ہوں گے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں771/ارب روپے محصولات وصول کئے گئے۔
دوسرے لفظوں میں ایف بی آر کو ٹیکس وصولی میں9فیصد کا اضافہ کرنا ہو گا۔ کیا نئی حکومت کے تبدیلی کے عمل کے دوران یہ اضافہ متوقع ہے؟ اسی لئے کہا جاسکتا ہے کہ محصولات کا کل حجم آمدنی کے ہدف سے400/ارب روپے کم رہے گا۔ ٹیکس کے علاوہ آمدنی میں تھری جی لائسنسوں کی فروخت سے حکومت کو 79/ارب روپے کی آمدنی متوقع تھی اب چونکہ اس کے آنے کا کوئی امکان نہیں تو آمدنی میں کمی کے کل حجم میں کمی کا امکان479/ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ اخراجات کی مد میں توانائی کے شعبے کی سبسڈی سے حکومت کو سال2012-13ء میں185/ارب روپے کی ضرب لگے گی۔ مذکورہ سبسڈی واپڈا، پیپکو اور کے ای ایس سی کو دی جانی تھی۔
رواں مالی سال کے آٹھ مہینوں میں حکومت پہلے ہی 235/ارب روپے کے فنڈ کا اجراء کر چکی ہے اور ایسی نشاندہیاں موجود ہیں کہ سال کے اختتام تک یہ رقم400/ارب روپے تک پہنچ جائے گی یعنی اس زمرے میں متعلقہ تخمینے سے کم از کم 215/ارب روپے کی اضافی رقم خرچ ہو جائے گی۔ بجٹ میں بیرون آمد زر کی مد میں یوروبانڈ سے 46.5/ارب روپے اور اتصالات سے 74.4/ارب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ پچھلے5سالوں میں ان دو ذرائع آمدنی کے اہداف مقرر کئے گئے لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ بجٹ بنانے والوں کو یہ ادراک تھا کہ ان دونوں ذرائع سے121/ارب روپے کی آمدنی اس سال بھی نہیں ہو سکے گی لیکن انہوں نے اسے معمول کا حصہ سمجھ کر بجٹ میں درج کر دیا۔ درج بالا خسارے کے تخمینوں کے مطابق رواں برس کا بجٹ خسارہ مجموعی قومی آمدنی(جی ڈی پی) کا 3.5فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جو کہ2002/ارب روپے کی جی ڈی پی کا 815/ارب روپے بنتا ہے۔ میں نے اس تمام حساب میں اقتصادی سونامی کے اثرات کا ذکر نہیں کیا جس نے پاکستان کو فروری کے آخر سے لے کر 16 مارچ تک متاثر کیا اور آنے والے وقتوں میں بھی اس کے اثرات تادیر باقی رہیں گے۔
میں نے متواتر یہی لکھا کہ معیشت کلاں پر اپنے تمام اثرات کے ساتھ رواں مالی سال کا بجٹ خسارہ 9.5سے 10فیصد کی نئی بلند ترین حدوں کو چھو سکتا ہے۔ 2.2سے2.3 کھرب روپے کے بجٹ خسارے کو پورا کرنا نگراں حکومت کے لئے سخت امتحان ہوگا۔ معیشت کو پہلے ہی سنگین نقصان پہنچ چکا ہے اور اس پیمانے کا خسارہ نئی حکومت کیلئے مشکلات میں مزید اضافہ کر دے گا۔ نگراں حکومت کے پاس کئی معاشی چیلنجوں کا سامنا کرنے کیلئے45 دن ہیں۔ اسے اقتصادی خودکشی اور اقتصادی سونامی سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کیلئے اور نئے بجٹ کی ساخت ترتیب دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرنا ہوں گے۔
نگراں حکومت کو سابقہ کابینہ کی جانب سے بجٹ کی ساخت پر پیش کئے جانے والے پیپر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تمام اہم سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو شامل کرکے بجٹ کی ساخت پر ایک نیا مسودہ تیار کرنا چاہئے۔ جو بھی نئی حکومت بنائے گا اس کے پاس بجٹ کو حتمی شکل دینے کیلئے کم وقت رہ جائے گا کیونکہ بجٹ جون کے دوسرے یا تیسرے ہفتے تک پیش کیا جاسکتا ہے۔ قرضوں کی ادائیگیوں کے بحران سے نبردآزما ہونا نگراں حکومت کے لئے اہم ترین چیلنج ہوگا۔ کمی کا شکار ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر سے صرف آئی ایم ایف کو ایک ارب ڈالرسے زائد رقم کی ادائیگی کرنی ہے، نگراں حکومت کے لئے یہ ایک بڑے امتحان کی گھڑی ہو گی۔ خدا ہمیں گزشتہ بجٹ کے اثرات کو سہنے کی قوت عطا فرمائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں