آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جناب ذوالفقار علی بھٹو نے 1978ء میں پھانسی کی کوٹھڑی سے اپنے بیٹے مرتضیٰ بھٹو کے نام خط میں یہ لکھا تھا کہ :
”ان بدترین حالات میں جن سے ہم پہلے کبھی نہیں گزرے تھے آپ کی والدہ اور ہمشیرہ میرے لئے حوصلہ اور امید کا ایک روشن مینار ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی شاندار مجاہدانہ مدد کے بغیر حالات میرے لئے مشکل ہی نہیں ناممکن بن جاتے۔ عدالتوں اور انتظامیہ میں میرے لئے کوئی انصاف نہیں ہے صرف اللہ تعالیٰ اور عوام ہی کے ہاتھوں میں میری زندگی ہے“۔
پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے فیصلے پر دنیا بھر میں شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ عالمی رہنماؤں اور حکومتوں نے اس کی بھرپور مذمت کی تھی۔ اس فیصلے کو دنیا بھر کے اخبارات نے سیاسی قتل سے تعبیر کیا اور لکھا کہ ”مسٹر بھٹو کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا“۔ انہوں نے اپنے تبصرے میں لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق کا نام لے کر کہا کہ ”عدالتی کارروائی کے دوران چیف جسٹس کا جانبدارانہ رویہ اور مسٹر بھٹو سے ذاتی عداوت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔ مولوی مشتاق حسین نے18مارچ1978ء کو جب جناب بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ سنایا تو بیرون ملک خصوصاً لندن اور یورپ میں مقیم پاکستانیوں میں انتہائی شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مرتضیٰ بھٹو نے آکسفورڈ

سے لندن آ کر پیپلزپارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ مل کر بھٹو صاحب کی زندگی بچانے کیلئے لائحہ عمل تیار کیا۔ برمنگھم میں مقیم بزرگ رہنما چوہدری زمان علی ستارہٴ خدمت، محاذ رائے شماری کے کشمیری لیڈر غازی عبدالرحمن اور پی پی پی یو کے کے صدر ظفر علی چوہدری سے احتجاجی جلوس نکالنے کا کہا۔ مرتضیٰ بھٹو کی قیادت میں یہ پہلا جلوس اس عالمگیر مہم کا آغاز تھا جس سے برطانیہ بھر کے پاکستانی اور کشمیری اتحاد کی بے مثال زنجیر بن گئے۔ برمنگھم کی سڑکیں مظاہرین کے ان نعروں سے گونج رہی تھیں۔ ”بھٹو بے گناہ ہے، جنرل ضیاء مردہ باد، جمہوریت بحال کرو، بھٹو کو رہا کرو“۔ اس کے بعد پاکستان ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ عالمی رائے عامہ پہلے ہی جناب بھٹو کو سزائے موت کے خلاف تھی اس لئے ان کی زندگی بچانے کی مہم دنیا کی توجہ کا مرکز بن کر تمام دارالحکومتوں تک پھیل گئی۔ لندن اس عالمگیر مہم کا اہم مرکز تھا اور ہائیڈ پارک میں ایک تاریخی مظاہرہ ہوا جس میں برطانیہ بھر سے کم و بیش پچاس ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی۔ اس مظاہرے میں پی پی کے علاوہ دیگر جمہوریت پسند جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا اور وہ اس مہم میں آخر دم تک پیش پیش رہیں۔ بیرسٹر صبغت قادری کی سربراہی میں پاکستانیوں کی تنظیم سکوپو نے بھی بے حد اہم کردار ادا کرکے اپنا فرض ادا کیا۔
برطانیہ میں بھٹو صاحب کے احباب اور مداح بڑی تعداد میں موجود تھے آکسفورڈ میں عالمی شہرت یافتہ تاریخ کے پروفیسر Hugh Trever Rupert بھٹو صاحب کے استاد تھے۔ بھٹو صاحب کے حلقہٴ احباب میں برطانوی صحافیوں اور دانشوروں کی بڑی تعداد تھی۔ اس کے علاوہ پارلیمینٹ میں بھی ایک گروپ ان کی حمایت میں سرگرم تھا۔ بھٹو صاحب کی حمایت میں ”پاکستان میں جمہوری حکومت اور آزادی صحافت“ کے نام سے کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی میں بھی متعدد ارکان پارلیمینٹ، بااثر اخبار کے ایڈیٹر، دانشور اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے سرکردہ افراد شامل تھے۔ کمیٹی کے کنوینر ایک ممتاز صحافی مسٹر کلاڈ مورس تھے۔ اس کمیٹی میں واحد پاکستان رکن میں تھا۔ اس تنظیم کی طرف سے لندن ٹائمز میں ایک صفحہ کا اشتہار شائع کیا گیا جس میں جنرل ضیاء سے اپیل کی گئی کہ بھٹو صاحب کی سزا کے فیصلے پر نظرثانی کرے اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کا وعدہ پورا کرے۔ مزید برآں برطانوی پارلیمینٹ میں اس ضمن میں ایک قرارداد بھی پیش ہوئی جس پر اس وقت کی حزب اختلاف کی لیڈر مسز مارگریٹ تھیچر نے بھی دستخط کئے۔ سپریم کورٹ میں اپیل مسترد ہونے کے بعد بیرون ملک شدید ترین ردعمل ہوا اور بیرون ملک پاکستانیوں کے علاوہ دوسرے ممالک کے شہریوں نے بھی زبردست احتجاجی مظاہرے اور بہت بڑے بڑے جلوس نکالے۔
تین اور چار اپریل کی رات ایک جھوٹے مقدمہ قتل میں جنرل ضیاء نے اپنے طاقتور حریف ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کر دیا۔ اس خبر کے آتے ہی دنیا میں ایک کہرام مچ گیا۔ ہائیڈپارک لندن میں بھٹو صاحب کی غائبانہ نماز جنازہ میں ہزار ہا لوگ شریک ہوئے۔ جس میں برطانیہ کے علاوہ یورپی ممالک سے پاکستانیوں نے شرکت کی۔ ہائیڈ پارک میں نماز جنازہ کے بعد ایک جلوس نکالا گیا جو پارک لین اور نائٹس برج کی شاہراہوں سے ہوتا ہوا دریائے ٹیمز پر جا کر اختتام پذیر ہوا۔ اس جلوس میں برمنگھم کے پہلے احتجاجی مظاہرے میں لگائے گئے نعروں کی صدائے بازگشت بار بار سنائی دی۔ جناب بھٹو کے اس عدالتی قتل پر عالمگیر ردعمل لندن کے ہائیڈ پارک سے لے کر سری نگر اور مشرق وسطیٰ تک دراز تھا اور لاکھوں لوگوں نے سوگ منایا اور غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ یہ حقیقت بطور خاص قابل ذکر ہے کہ سری نگر میں تین روز تک عوام نے احتجاج جاری رکھا اور مقبوضہ کشمیر کے وزیراعظم شیخ عبداللہ کے بقول وہاں بھٹو صاحب کے حق میں اور ضیاء کے خلاف نفرت کا سیلاب امنڈ آیا اور سرکاری املاک کو کئی کروڑ کا نقصان پہنچایا گیا۔
لندن میں6/اور7/اپریل کو بین الاقوامی جیورسٹ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس دو روزہ کانفرنس میں دنیا کے ممتاز قانون دانوں اور دانشوروں نے بھٹو صاحب کے مقدمہ کے تمام پہلوؤں کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے اسے ”عدالتی قتل“ قرار دیا۔ انہوں نے متفقہ طور پر ایک قرارداد پاس کر کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کرٹ والڈہم کو بھیجی۔ قرارداد میں یہ اعلان کیا گیا کہ مسٹر بھٹو کے ساتھ ناانصافی کرکے ان کا قتل کیا گیا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کو 34برس ہو رہے ہیں۔ ان برسوں میں پاکستان پیپلزپارٹی نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ اپنے عظیم قائد کی عظیم قربانی کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا زخم بھی تازہ ہے لیکن اس سانحہ کے باوجود پارٹی کارکنوں کا شہید ذوالفقار علی بھٹو سے عقیدت و احترام کا رشتہ مضبوط تر ہوا ہے۔ وہ ہر سال 4/اپریل کو گڑھی خدا بخش جا کر اپنے عظیم قائد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی آج بھی وفاق پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے اور کارکن اسی توانا جذبہ سے سرشار ہیں جو انہیں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے عطا کیا تھا۔
پاکستان پیپلزپارٹی اپنے انہی کارکنوں کی اپنے قائد ذوالفقار علی بھٹو شہید سے وابستگی اور عقیدت کی بدولت11مئی کو ہونے والے انتخابات میں اس امید کے ساتھ حصہ لے رہی ہے کہ پاکستان کے عوام اسے کامیابی سے ہمکنار کریں گے۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری بجا طور پر کریڈٹ اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے معاملہ فہمی سے ناموافق حالات میں اپنی حکومت کی پانچ سالہ میعاد مکمل کی ہے۔ قائد عوام کا34واں یومِ شہادت خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ 4/اپریل کو پاکستان پیپلزپارٹی محترم آصف علی زرداری کی رہنمائی اور اس کے بانی شہید کے نواسے بلاول بھٹو زرداری کی نگرانی میں گڑھی خدا بخش سے انتخابی مہم کا آغاز کرے گی اس لئے اسے پی پی پی کے عہد نو کا آغاز بھی کہا جا سکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں