آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

معلوم ایسا ہوتا ہے کہ پنشن اسکیم کو بعض اصلاحات کے ذریعے زیادہ موثر اور قابل عمل بنانے کی تدابیر و تجاویز زیر غور ہیں۔ بعض بیانات، میڈیا رپورٹوں اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کے حوالے سے آنے والی اطلاعات اس باب میں ایسی سوچ بچار کی طرف اشارہ کررہی ہیں جس کا مقصد پنشن کے اس بڑھتے بل کو قابو میں لانا سمجھا جاسکتا ہے جو مبینہ طور پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے بھی بڑھ جائے گا۔ ایک ذریعے نے ان اخراجات کو ’’پنشن بم‘‘ کا نام دیا جو پنشن کا موجودہ نظام بہتر اور تبدیل نہ کرنے کی صورت میں کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ اس باب میں پنجاب اور سندھ میں صورت حال کو زیادہ قابل توجہ کہا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ڈاکٹر عشرت حسین نے پنشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر حکومت کی پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پے اینڈ پنشن کمیشن کا تقرر کردیا گیا ہے جو اصلاحات لانے کے لئے تجاویز دے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمیشن حصہ داری پر مبنی نئے پنشن سسٹم (Contributory Pension Scheme) کی تجویز پر بھی غور کرے گا جس کے تحت حکومت پنشن فنڈ کے لئے بنیادی رقم فراہم کرے گی اور سرکاری ملازمین بھی حصہ ڈالیں گے اسٹاک ایکسچینج اور شیئرز کے ذریعے اس فنڈ کو مزید بڑھانے کے طریقے بھی اختیار کئے جاتے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی آئی ایم ایف کی اس خواہش کے باعث بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان قرضوں کی ادائیگی کے سوا دیگر اخراجات کو قابو میں رکھے۔ پنشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث حکومت کی پریشانی اپنی جگہ لیکن تقریباً ایک صدی سے جاری اسکیم کو تبدیل کرنے کے لئے مختلف ملکوں کے مفید تر ماڈلز سامنے رکھتے ہوئے زیادہ سوچ بچار کرنا، اپوزیشن سمیت تمام حلقوں کو اعتماد میں لینا اور اس کی ضرورت و افادیت پر سرکاری ملازمین اور عوام سمیت تمام سیاسی مکاتبِ فکر کو قائل کرنا ضروری ہوگا۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998