آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جو نہ صرف اپنی خوراک کی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ یہاں کی زرعی اجناس دوسرے ممالک کو برآمد بھی کی جاتی ہیں لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے ملک میں گندم اور آٹے کے بحران کا سامنا ہے۔ کبھی گندم اور آٹا مکمل طور پر مارکیٹ سے غائب ہو جاتے ہیں تو کبھی اِن کی قیمت میں من چاہا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے گندم کی قیمتیں بڑھنے اور قلت کا ذمہ دار سندھ حکومت کو ٹھہرایا ہے۔ اُن کے بقول سندھ حکومت نے گندم نہیں نکالی ہے اور سندھ کے اپنے حصے کی گندم نہ دینے سے گندم مہنگی ہو رہی ہے۔ دوسری جانب پنجاب سندھ کی نسبت کافی سستا آٹا دے رہا ہے جبکہ وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ فخر امام کا کہنا ہے کہ حکومت نے اِس سال 66لاکھ ٹن گندم کاشت کاروں سےخریدی۔ اُنہوں نے کہا کہ گندم کی اِس قلت کے پیچھے کارٹیلائزیشن ہے جس کی نشاندہی کرنا صوبوں کی ذمہ داری ہے، صوبوں کو چاہئے کے کارٹلز ختم کریں۔ گندم کی ذخیرہ اندوزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ طلب اور رسد کے فرق کو ختم کرنے کیلئے گندم درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اِن سب حکومتی اقدامات کے باوجود صوبوں میں آٹے کی قیمت مختلف ہے۔ پاکستان گندم پیدا کرنے والے ممالک میں آٹھویں نمبر پر ہے لیکن ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ سے گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرکے کارٹلز مستفید ہو رہے ہیں جبکہ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ روٹی ہماری غذا کا بنیادی جزو ہے لیکن ذخیرہ اندوزوں اور انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے عوام روٹی سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں گندم اور آٹا بحران کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کے بجائے مل بیٹھ کر اِس بحران کے فوری خاتمے کی سبیل کریں۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998