آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے آئسولیشن کی مدت 7 سے بڑھا کر 10 دن کردی گئی

لندن (پی اے) برطانیہ کے 4چیف میڈیکل افسران نے کورونا وائرس کے دوبارہ پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر کورونا کے پازیٹو ٹیسٹ یا وائرس کی علامات ظاہرہونے کی صورت میں آئسولیشن کی میعاد 7دن سے بڑھاکر10دن کرنے کااعلان کیاہے،یہ نئی ہدایات عالمی ادارہ صحت کی گائیڈنس کے مطابق ہیں ،یہ اعلان وزیر اعظم کی جانب سے جاری کئے جانے والے اس انتباہ کے بعد کیاگیاہے کہ یورپ کے بعض علاقوں میں کوروناوائرس کی دوسری لہر آنے کے اشارے ملے ہیں،اس اعلان سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر صحت میٹ ہنکوک نے کہاتھا کہ حکومت وائرس کی دوسری لہر ملک میں پہنچنے سے پہلے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہتی ہے۔دوسری جانب برطانیہ کے بعض علاقوں جن میں اولڈہیم ،ریکسہیم اور اسٹیفورڈ شائر شامل ہے مقامی سطرح پر کورونا پھیلنے کی خبروںپر تشویش پائی جاتی ہے ،دریں توقع کی جاتی ہے کہ حکومت لیسسٹر میں کورونا کی وبا میں اضافے کی وجہ سے مزید ایک ماہ لاک ڈائون جاری رکھنے کے فیصلے کے اب اس حوالے سے لگائی جانے والی پابندیوں پر نظر ثانی

کرے گی۔ پروفیسر پیٹر اوپن شائو نےجو کہ سانس سے متعلق وائرس پر حکومت کو مشورے دینے والی ٹیم کا حصہ ہیں بی بی سی کے پروگرام میں کہا ہےکہ کورونا کے جرثومے زیادہ تر علامات ڈیولپ ہونے کے دوران ہی یعنی علامات ظاہرہونے سے 2 دن قبل ہی دوسروں کو منتقل ہوئےتاہم انھوں نے کہا کہ 10 دن کی آئسو لیشن محفوظ مارجن ہے کیونکہ بہت کم معاملات میں کوئی 9 دن بعد کسی کو جرثومے منتقل کرنے کے قابل ہوتاہے ،انھوں نے کہا کہ ہمیں درست معلوم نہیں ہے کہ جرثومے زیادہ تر گزشتہ چند دنوں کے دوران دوسروں کو منتقل ہوئے ہیں، لیکن میں سمجھتاہوں کہ اب اس وائرس پر دبائو برقرار رکھاجانا چاہئے ،انھوں نے کہا کہ میں اچھی طرح سمجھتاہوں کہ حکومت یہ تبدیلیاں کیوں لانا چاہتی ہے ۔انھوں نے کہا کہ دوسرے ملکوں سے برطانیہ پہنچنے والوں کو بھی 14دن قرنطینہ کی ہدایت کی جارہی ہے۔جبکہ وزرا قرنطینہ کی موجودہ 14دن کی مدت میں کمی کرنے کا طریقہ کار تلاش کررہے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ قرنطینہ یعنی خود آئسولیشن اختیار کرنے کی معیاری مدت 10 دن کر دی جائے گی۔ وزیر صحت میٹ ہنکوک نے گزشتہ روز کہا کہ حکومت قرنطینہ کی مدت کم کرنے کیلئے ٹیسٹ کاسسٹم رائج کرنے پر غور کررہی ہے۔ لیکن فوری طورپر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔انھوں نے بتایا کہ چند دنوں کے اندر بہت سے دوسرے ممالک کوبھی قرنطینہ کی فہرست میں شامل کرلیاجائے گا ،اختتام ہفہت اسپین میں کورونا کے مریضوں کی شرح میں اضافے کے بعد گزشتہ روز حکومت نے ایک اجلاس میں اس بات پر غور کیاکہ مزید کن ممالک کو لازمی قرنطینہ والے ممالک کی فہرست میں شامل کیاجاسکتاہے۔ ایک سینئر سرکاری ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ رواں ہفتے لگژمبرگ کو اس فہرست میں شامل کئے جانے کاامکان ہے۔ جبکہ فی الوقت بلجیم میں کورونا کی شرح کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔بدھ کو ٹریول اور ایئر لائنز انڈسٹری کی اہم شخصیات نے برطانوی ہوائی اڈوںپر کورونا کے ٹیسٹ کی تجویز دی تھی لیکن زریعہ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی نیا سسٹم قابل عمل ہونا چاہئے جبکہ فی الوقت ایسا نہیں ہے حکام کا کہناہے کہ برطانیہ میں کورونا وائرس کاشکار ہوکر مزید 83افراد ہلاک ہوگئے اس طرح اس وائرس کاشکار ہوکر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 45,961 ہوگئی ہے جبکہ کورونا کے 763نئے کنفرمڈ کیس سامنے آئے ہیں جس سے متاثر ہ افراد کی تعداد 301,455 ہوگئی ہے۔

یورپ سے سے مزید