آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لاہور موٹروے کے بعد تونسہ میں بھی خاتون کے ساتھ بچوں کے سامنے زیادتی کے افسوسناک واقعہ نے پوری پاکستانی قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پنجاب، کراچی، خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں میں ایسے دلخراش واقعات اب معمول بنتے جارہے ہیں۔ کراچی میں چند روز قبل معصوم بچی کے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ملک بھر میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جرائم میں اضافہ لمحہ فکریہ اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ امن و امان کی ذمہ داری براہ راست حکومت پر عائد ہوتی ہے مگر ملک میں لاقانونیت کی انتہا ہو چکی ہے۔ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے بجا طور پر درست کہا ہے کہ ملک میں پولیس کمانڈ غیرپیشہ ورانہ افراد کے ہاتھوں میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ محکمہ پولیس کی ساکھ کو بحال کرنا ہوگا تاکہ عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ ہو۔ حکومت ایمرجنسی کال ریسپانس سسٹم کو موثر کرے۔ پاکستان میں کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم کے مطابق رواں سال کے ابتدائی 6ماہ کے دوران ملک بھر میں یومیہ 8سے زائد بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سالانہ کے حساب سے یہ اوسط تعداد 2920بنتی ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 6ماہ میں 173بچوں کو حوس کا نشانہ بنایا گیا جبکہ 497بچوں کے ساتھ زیادتی، 227کے ساتھ زیادتی کی کوشش اور 38بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔

لاہور موٹروے پر خاتون سے زیادتی کا افسوس ناک واقعہ بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت کی انتہا ہو چکی ہے۔ تاثر یہ قائم ہو رہا ہے کہ پنجاب پولیس کےجو افسران حکومت کی مرضی کے مطابق کام نہیں کرتے، ان کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پنجاب پولیس اپنے پیشہ وارانہ فرائض میں غفلت کی مرتکب ہو رہی ہے۔ جب تک پنجاب پولیس سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا اس وقت تک امن و امان قائم نہیں ہو سکے گا۔ ابھی حال ہی میں آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کے درمیان محاذ آرائی سے میڈیا میں پنجاب پولیس کی بدترین صورتحال سامنے آئی ہے۔ اس لئے پنجاب کا اب پانچواں آئی جی بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سانحہ موٹروے لاہور کے واقعہ کے خلاف اس وقت پورے ملک میں عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل پایا جارہا ہے۔ اسی تنا ظر میں لاہور میں جماعت اسلامی سینٹرل پنجاب کے تحت چند روز قبل وزیراعلیٰ ہاؤ س مال روڈ کے باہر ایک بڑے عوامی احتجاجی دھرنے کا انعقاد کیا گیا۔ احتجاجی دھرنے سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اور دیگر عہدے داران نے خطاب کیا۔ دھرنے میں ہزاروں مرد،خواتین اور بچوں سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کیا اور مال روڈپر زبردست اور تاریخی احتجاج کیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت اور دو بڑی جماعتیں میچ فکسنگ کرتی ہیں۔ تینوں بڑی جماعتیں بین الاقوامی ایجنڈے پر ایک ہیں اور مل کر آئی ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی کے قانون بناتی ہیں۔ یہ پارٹیاں ایف اے ٹی ایف کیلئے قانون سازی پر ایک ہو سکتی ہیں تو جنسی درندوں کو نشان عبر ت بنانے کیلئے کیوں متحد نہیں ہوتیں۔ عوام جب بھی حکمرانوں سے تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں حکمران کسی چیف سیکرٹری، آئی جی یا پولیس آفیسر کو تبدیل کردیتے ہیں۔ تبدیلی چھوٹے ملازمین کے تبادلوں سے نہیں بلکہ حکمرانوں کے رویوں میں تبدیلی سے آئے گی۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں جس ملک میں بچے اور بچیاں محفوظ نہ ہوںوہاں کے حکمرانوں کو شرم آنی چاہئے۔ جنسی درندوں کو سر عام پھانسی پر لٹکایا جائے۔ دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موٹروے کا واقعہ نہایت افسوسناک اورپاکستان کے لئے شرمناک ہے اور ملک کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے، آج پورا ملک صدمے کی کیفیت میں ہے، مائیں، بہنیں، بیٹیاں سراپا احتجاج ہیں مگر حکومت کو یہ ظلم اور زیادتی نظر نہیں آرہی، لاہور کے واقعہ نے پنجاب کے وزیراعلیٰ اور ان کی پوری ٹیم کی بدانتظامی اور نااہلی کو واضح کردیا ہے۔ حکمراں اگر پنجاب کے عوام کو جان و مال اور عزت کا تحفظ نہیں دے سکتے تو انہیں گھر چلے جانا چاہئے۔ عوام کو اس طرح کے بےبس حکمرانوں کی ضرورت نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہا کہ ملک بھر میں درندگی کے واقعات بڑھ گئے ہیں لاہور کی گلی محلوں میں وارداتیوں کے ڈیر ے ہیں، امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت لاہور موٹروے جیسے دلخراش اورروح فرسا واقعات کو مستقبل میں روک پاتی ہے یا نہیں؟