آپ آف لائن ہیں
منگل9؍ربیع الاوّل 1442ھ 27؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے سے سول سروس اصلاحات کو تقویت ملی

اسلام آباد (انصار عباسی) عمران خان حکومت میں اصلاحاتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا ہے کہ حکومت کے سول ریفارم ایجنڈا کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے بڑا سہارا ملا ہے جس میں عدالت نے اس پروموشن پالیسی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے جو موجودہ حکومت نے متعارف کرایا ہے۔ 

دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سول سروس ریفارمز نے کہا کہ عدالت کے فیصلے کی وجہ سے پروموشن پالیسی، کارکردگی کا جائزہ نظام، قبل از وقت ریٹائرمنٹ اسکیم وغیرہ جیسی دیگر اصلاحات کے معاملے میں تحریک ملے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے گریڈ 19؍ سے 21؍ کیلئے پروموشن پالیسی کو برقرار رکھنا اور سی ایس بی کی جانب سے کیے گئے فیصلے قابل ستائش ہیں اور ان سے کابینہ کے منظور کردہ اصلاحات پر عملدرآمد میں مدد ملے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ سی ایس بی نے اپنے فیصلوں میں سینیارٹی یا فٹنس کی بجائے میرٹ کو بالادست رکھا تھا اور اسی لیے ایسے افسران کو نظرانداز کر دیا گیا جو بصورت دیگر مدت ملازمت کے لحاظ سے اہل تھے۔ 

عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ پروموشن سرکاری ملازم کا حق نہیں اور یہ معاملہ قواعد و ضوابط اور شرائط کے تحت چلتا ہے جس کا تعین حکومت وقتاً فوقتاً کرتی ہے اور لہٰذا یہ معاملہ مکمل طور پر مجاز اتھارٹی کا اختیار ہے۔ 

کوئی عدالت یا ٹریبونل طے شدہ رائے کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ وزیراعظم کے مشیر نے واضح کیا کہ کابینہ نے جن دیگر اصلاحات کی منظوری دی ہے، جو ایک دوسرے سے جڑی ہیں، ان میں سالانہ کارکردگی رپورٹ (اے سی آر) کے موجودہ نظام کی جگہ پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم لانا ہے۔ 

اس نئے نظام کے تحت، کسی بھی افسر کا جائزہ کارکردگی کے طے شدہ اشاریوں کے مطابق لیا جائے گا نہ کہ موجودہ صوابدیدی نظام کے تحت جس میں بمشکل ہی اچھی کارکردگی کے حامل افسر اور غیر اطمینان بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اسی طرح ایکس کیڈر اور نان کیڈر افسران کیلئے خصوصی تربیت اور ساتھ ہی مڈ کیریئر میں دیگر کیڈر والوں کیلئے بھی تربیت کا اہتمام کیا جائے گا، اس کی اہمیت افسر کے جائزے کے وقت دیکھی جائے گی اور اس طرح تکنیکی ماہرین اور اسپیشلسٹ کی صلاحیت کا اندازہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اسپیشلسٹس کیلئے اعلیٰ گریڈز پرپ اضافی عہدے تخلیق کیے جائیں گے اور انہیں بھی اسی اسکروٹنی کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ 

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں ایسے کارکردگی نہ دکھانے والے سرکاری ملازمین کو جلد ریٹائر کرنے میں بھی آسانی ہوگی کیونکہ قواعد میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک بورڈ مجاز اتھارٹی کو مذکورہ سرکاری ملازمین کی فہرست دے گا۔ 

تاہم، انہوں نے کہا کہ کابینہ کو ایک تجویز پر غور کرنا ہے جس کے تحت سینٹرل سروسز میں بھرتیوں اور امتحانات کے حوالے سے تبدیلیاں کی جائیں گی۔ یہ امتحانات فی پی ایس سی کے تحت ہوتے ہیں۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کو اُن افسران کی درخواست مسترد کر دی جنہوں نے ترقی کے معاملے میں خود کو نظرانداز کیے جانے کیخلاف درخواست دائر کی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 199؍ کے تحت عدالت خود کو اپیلیٹ کورٹ قرار نہیں دے سکتی اور بورڈ کی جانب سے قائم کی گئی رائے کو تبدیل کر سکتی ہے۔ 

عدالت نے سی ایس بی کے کردار کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ بورڈ ممبران کا ٹرائل نہیں کیا جا سکتا وہ بھی بدنیتی کے حوالے سے صرف مبہم بیانات کی بنا پر۔ 

عدالت کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت حکمرانی، قانون کا نفاذ، پالیسیاں تشکیل دینا اور ریاست کی خودمختاری کا دفاع ایگزیکٹو برانچ کا کام ہے۔ فیصلہ سازی اعلیٰ سطح پر ہوتی ہے اور اسی لیے وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ذمہ دار ہیں۔ 

یہ لوگ عوام کے منتخب کردہ ہیں اور پارلیمنٹ کو جواب دہ ہیں۔ یہ ان کا آئینی فرض ہے کہ وہ پروموشن کے ذریعے موزوں اپائنٹمنٹ کریں اور ان پر اعتماد کریں۔ ان کی کامیابی اور عوام کی توقعات پر پورا اترنے کا انحصار مستقل بیوروکریسی کی قابلیت، ساکھ اور صلاحیت پر ہے۔ 

ایسا سمجھنا ٹھیک نہیں ہوگا کہ وزیراعظم جان بوجھ کر نا اہل اور کرپٹ بیوروکریسی مقرر کرنا چاہیں گے۔ صرف مجاز اتھارٹی ہی پرموشنز کے حوالے سے پالیسیاں بنانے کی واحد جج ہے۔ 

عدالت غیر ضروری مداخلت کے ذریعے باصلاحیت سول سروس کو فروغ دینے کیلئے مجاز اتھارٹی کی متحرک، تخلیقی اور جدید پالیسیاں بنانے کی صلاحیت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ 

اس سے وہ عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے جس کے ذریعے نا اہل افسران کو نکال باہر کیا جا سکتا ہے یا پھر ایسے افسران کو بھی نکالا جا سکتا ہے جو کسی وجہ سے اعلیٰ عہدے پر تعیناتی کے اہل نہیں۔ 

پرموشن اور پالیسیاں بنانے کے معاملے میں بیجا مداخلت سے ریاست کی حکمرانی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اہم خبریں سے مزید