آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دنیا کے ہر قدیم، معروف اور مقبول پکوان کی طرح بریانی کی روایت، تاریخ، تہذیب اور شناخت بھی متنازع ہے اور وقت گزرنے کےساتھ ساتھ اس سے وابستہ حوالے پیچیدہ تر ہوتے جارہے ہیں۔ اگرچہ کئی قسم کے ماہرین بریانی کو برصغیر پاک و ہند کی مشترکہ میراث سمجھتے رہے ہیں مگر وزیراعظم نریندر مودی کے نئے بھارت میں اسطرح کی آرا کو نہ صرف انتہائی سختی سے مسترد کردیا جاتا ہے بلکہ ایسی سوچ کو ملک دشمن گردان کر اسے قابل گردن زنی شمار کیا جانے لگا ہے۔ انواع و اقسام کے مسالے دار اور مرغن غذاؤں کے ہندوستان میں بریانی اب مکمل طور پر نام نہاد اسلامی شدت پسندی کی علامت سمجھی جانے لگی ہے۔ یہاںتک کہ اس سے باضابطہ اور علی الاعلان نفرت کا اظہار بدلتے ہوئے قومی منظرنامے اور اس سے جڑے ہوئے بیانیہ کیلئے انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ بریانی سے اس قدر نفرت کیوجہ مسلمانوں کیساتھ اس کی نسبت ہے اور اسی وجہ سے اسے غیر ملکی قرار دیکر اس پر پابندی یا اس کا سماجی بائیکاٹ کرنیکا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ مگر ہندوتوا کے کئی پرستار بریانی سے اپنے معاندانہ جذبات کا اظہار کرنے کےساتھ ساتھ اس کے ہندوستانی الاصل ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ مثلاً چند دن پہلے مودی جی کے پرستار، تین کتابوں کے مصنف اور کالم نویس آبھاس ملدہیار نے بریانی کو بھارت کی اپنی ڈش قرار دیا جسے پہلی بار لگ بھگ دو ہزار سال قبل جنوبی بھارت کے علاقے تامل ناڈو میں پکایا گیا مگر ملدہیار اس کی شہرت کو ’’اوور ہائپڈ‘‘ قرار دیتے ہیں۔ وکی بھارت کے نام سے ٹویٹر اکاؤنٹ چلانے والوں کا دعویٰ ہے کہ بریانی مغل بادشاہوں سے بہت پہلے دکن میں ظہور پذیر ہوئی تھی۔ ماڈرن ڈے وورئیرنامی ٹویٹر اکاؤنٹ، جس کو وزیراعظم مودی بھی فالو کرتے ہیں نے بریانی کے مقابلے میں اپنے دھرم کو ترجیح دینے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ دھرم کے سامنے بریانی کی کیا حقیقت ہے؟ ایسے ماحول میں بریانی کی بقا بظاہر خطرے میں نظر آرہی ہے مگر وہی چیز نام بدل کر مارکیٹ میں اب خالص پلاؤ کی شکل میں دستیاب ہے اور لوگ اسے اسی شوق سے تناول فرما رہے ہیں البتہ مسلمانوں کیلئے احتیاط لازم ہے مبادا کہ اس پر بیف پلاؤ کا الزام لگ جائے جس کی پاداش میں اب تک درجنوں مسلمانوں پر حملے کرکے انہیں زخمی یا قتل کیا جاچکا ہے۔

شکر ہے کہ پاکستان میں بریانی پر ہونے والے جھگڑوں نے ابھی تک مذہبی، مسلکی یا فقہی رنگ اختیار نہیں کیا گو کہ اس قسم کے امکان ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ مگر اسکے نام پر رونما ہونے والی مخاصمت کے اشاریے تبدیلی اوقات اور حالات کی وجہ سے مزید گہرے ہوتے جارہے ہیں لیکن یہ زیادہ تر سیاسی وابستگی، سماجی مرتبے یا لائف اسٹائل چوائسز کی وجہ سے پیش آرہے ہیں۔ چند سال قبل ایک اعلیٰ پائے کے منجھے ہوئے معروف ماہرِ خوردنی نے آلو گوشت کو پاک و ہند کی مشترکہ میراث قرار دیا تو اس پر بہت بڑا ہنگامہ کھڑا کردیا گیا اور اس طرح کی اتفاقی اور غیرسنجیدہ تاریخ نویسی کی کوششوں پر غداری تک کے سنگین الزامات لگائے گئے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بعد میں ازلی مخالفین کی ایک ٹیم نے ان صاحب کیساتھ بریانی کا لاحقہ بھی لگادیا جو ایک بےلگام اور متواتر پروپیگنڈے کے طفیل انکے پرستاروں تک کی پہچان کا حصہ بنادیا گیا۔ یہ تبدیلی کن حالات و واقعات کے تناظر میں عمل پذیر ہوئی، وہ بذاتِ خود ایک دردناک داستان ہے جس کو یہاں بیان کرنا چنداں مقصود نہیں مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ زمانہ حال میں بریانی کے ذریعے عوام الناس کو خاندانی حکومتوں کی بحالی کیلئے جمع کرنے کیلئے چارے کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس قسم کی خبروں یا الزامات سے آخر کیا مقصود ہے؟ اس سے قطع نظر یہ بات بغیر کسی لگی لپٹی کے ثابت ہوتی ہے کہ ملک میں گزشتہ دور کے نوابی دسترخانوں پر پیش کیے جانے والے طباقوں میں رکھی یہ ضیافت ہنوز بہت مقبول ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں پر بیک وقت ایسی طاقتیں موجود ہیں جو اسے محبوب اور معتوب بنانےکی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اگرچہ یہ کوئی مثبت یا نفع بخش صورتحال نہیں مگر اس سے شاہی درباروں سے نکل کر سڑکوں یا چوراہوں پر ملنے والی بریانی کی قدر و منزلت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

پچھلی ایک دہائی سے پاک و ہند میں ہونے والی سیاسی اور نظریاتی اتھل پتھل اور اسکی وجہ سے خود اختیارکردہ یا ٹھونسی ہوئی شناختوں کے بڑھتے ہوئے اور مسلسل ٹکراؤ نے بریانی کو قومی اور سیاسی بیانیوں یا لاشعور میں چھپائے گئےسیاسی منشور میں وہ مقام عطا کیا ہے کہ اگر مستقبل میں اسکی عفت و عصمت کے شرطیہ بچاؤ کیلئے خونریز خانہ جنگی یا بین الملکی جنگوں کا امکان پیدا ہوجائے تو اچنبھا نہیں ہونا چاہئے۔

تازہ ترین