آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
ویب ڈیسک
ویب ڈیسک | 27 اکتوبر ، 2020

سوات میں زیتون کی 6 اقسام کے باغات


آڑو، سیب اور مالٹے کے بعد سوات کے کسانوں نے اب زیتون کے باغ بھی لگا دیئے۔

سوات میں زیتون کی 6 اقسام کے باغات لگائے جا رہے ہیں جو سب کسانوں کیلئے مفید ہیں۔

پھلوں کی سر زمین وادیٔ سوات میں، زرعی ماہرین نے جنگلی زیتون کے پودوں میں پیوند کاری کے کامیاب تجربے کیئے ہیں۔

ماہرین پہلے سے موجود جنگلی زیتون کے پودوں میں قلم کاٹ کر پیوند کاری کے کامیاب تجربات بھی کر رہے ہیں، کسان کہتے ہیں کہ زیتون منافع بخش پھل ہے۔

یہاں زیتوں کی کاشت کسانوں کیلئے اس لئے مفید ہے کہ ایک درخت سے 70 کلو گرام تک کی پیداوار ہوتی ہے، جبکہ اس کے لیے اسپرے اور کھاد کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

زرعی تحقیقاتی مرکز سوات میں زیتون کی پھل سے تیل نکالنے کیلئے جدید مشین بھی لگائی گئی ہے، جہاں 15 کلو گرام زیتون سے ایک لیٹر تیل نکالا جاتا ہے۔

زرعی ماہر ڈاکٹر محمد فیاض کہتے ہیں کہ سوات میں پیدا ہونے والے زیتون میں تیل کی مقدار زیادہ ہے۔


انہوں نے بتایا کہ یہاں زیتون کی 6 اقسام موجود ہیں، جن میں تیل کی مقدار زیادہ ہے، زیتون لگانے سے یہاں کے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔

ڈاکٹر محمد فیاض کے مطابق یہاں پر زیتون کی زیادہ تیل دینے والے اقسام میں اربیکونا، کورنیکی، کورنٹینا، اریسونا اور پرانٹوبی لگائی جا رہی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ سوات کی آب و ہوا زیتون کی فصل کیلئے انتہائی مفید ہے، اگر اس کی پیداوار بڑھائی جائے، تو اس کے پھل سے پیدا ہونے والے تیل سے نہ صرف مقامی ضرورت پوری ہو سکتی ہے بلکہ اس کو برآمد کرنے سے قیمتی زرِمبادلہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔