آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہماری بدقسمتی دیکھئے کہ میاں برادران کے ساتھ ہمارا معاشقہ بام عروج تک پہنچا ہی تھا کہ اقتدار کی دیوی ایک بار پھر ان پر مہربان ہونے لگی۔ پیپلزپارٹی کی عبرتناک شکست اور تحریک انصاف کے مس فائر نے نواز شریف کو تیسری مرتبہ وزیراعظم بنا دیا ہے اور پنجاب کی وزارت ِ اعلیٰ تو پہلے ہی ان کے گھڑے کی مچھلی تھی۔ بہرحال اس سانحے سے جو نقصان ہمیں ہواہے وہ یہ کہ اب ہمیں ان دونوں کی دوستی سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
لگتا ہے تاریخ ایک بار پھر ہمارا اور آصف علی زرداری والا قصہ دہرانے جارہی ہے۔ ہمارے پرانے پڑھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ بی بی مرحومہ کی دردناک موت کے بعد آصف علی زرداری صاحب دیگر لاتعداد چیزوں کے ساتھ ساتھ ہماری ہمدردیاں”اُچکنے“ میں بھی کامیاب ہوگئے۔ پھر جلد ہی ہمیں موصوف کو نہایت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور محبت کا وہ سمندر جو ہمارے دل میں ٹھاٹھیں مارنے لگا تھا، جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ وہ دن اور آج کا دن ہم نے کبھی پیچھے مڑ کر اس گم گشتہ محبت کا مزار دیکھنے کی زحمت بھی گوارہ نہ کی۔
زرداری صاحب میں چند ایسی خوبیاں موجود ہیں کہ دشمن بھی جن کے معترف ہیں مثلاً حق دوستی ان سے زیادہ شاید اور کوئی نہ نبھاتا ہو اور دوسرا یہ کہ بہادری میں بھی آپ اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ایڑی چوٹی کا زور

لگا ڈالا مگر زرداری صاحب کو خوفزدہ نہ کرسکی۔ ہم نے ساڑھے چار برس ان جیسے بہادر آدمی کی مخالفت صرف اس بنا پر کی کہ ہماری دانست میں پاکستان ان کی اولین ترجیح نہیں تھا اور پھر اس پر مستزاد کرپشن کے لامتناہی قصے۔
ہماری دعا ہے کہ نواز شریف ایسا کچھ نہ کریں کہ ہمیں ان کو بھی اپنے ”حلقہ ٴ دوستاں“ سے خارج کرنا پڑے البتہ شہباز شریف کے بارے میں ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایسا کچھ نہیں کریں گے کیونکہ ہم نے پورے پانچ سال ان کی وزارت ِ اعلیٰ کو خوردبین کے نیچے رکھ کے دیکھا اور انہیں انتہائی باکمال شخص پایا۔ اس لئے ان کی طرف سے تو تسلی رکھئے البتہ بڑے میاں صاحب کو ہم نے جب جب حکومت کرتے دیکھا، ہمیں پریشانی ہی ہوئی۔ لیکن ہمارا دل کہتا ہے کہ اس بار موصوف بہت عمدہ اور نپی تلی اننگز کھیلیں گے۔
منظوروٹو، قمر کائرہ اور گیلانی گروپ کی عبرتناک شکست کو مدنظر رکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان احباب کو پارٹی کی مرکزی قیادت ہی نہیں بلکہ سیاست سے ہی استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا لیکن بھاگتے چور کی لنگوٹی کے مصداق فی الحال ان کا استعفیٰ بھی بہت ہے۔ ان سب میں کائرہ معقول ترین آدمی ہیں مگر افسوس کہ انہوں نے بھی اپنا وقت عاقبت نا اندیشی میں ہی ضائع کیا۔تاہم یہ تمام استعفے انتہائی معمولی نوعیت کی خبر ہیں۔ اصلی خبر تو یہ ہے کہ صدر ِ مملکت قبلہ آصف علی زرداری نے بھی بالآخر ایوان صدر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اگلے چند ہفتوں میں ان کا استعفیٰ بھی متوقع ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ہماری چشم تصور رضا ربانی کو اگلا صدر بنتے دیکھ رہی ہے جبکہ آصف علی زرداری صاحب پہلی فرصت میں ہی بیرون ملک تشریف لے جاتے اور ایک بار پھر ڈاکٹر ڈاکٹرکھیلتے نظرآتے ہیں۔ ڈمنشیا کا مرض انہیں لاحق ہے یا نہیں اس بارے میں ہم کچھ زیادہ تو نہیں جانتے البتہ اتنا ضرور جانتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک عدد سرٹیفکیٹ ضرور موجود ہے جس سے تصدیق ہوتی ہے کہ آپ کو بھولنے کا مرض بڑی شدت کے ساتھ لاحق ہے۔ آپ عنقریب دوبئی یا نیویارک تشریف لے جائیں گے اور بقیہ عمر زندگی کے مزے از سر نو لوٹنے میں گزاریں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں