• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا نے بگرام اڈا خالی کردیا، کنٹرول افغان فورسز کے حوالے، غیرملکی افواج کے انخلا میں تیزی، طالبان کا خیرمقدم، افغان حکومت کا امتحان شروع

امریکا نے بگرام اڈا خالی کردیا، کنٹرول افغان فورسز کے حوالے


کابل، ماسکو، واشنگٹن(جنگ نیوز، خبر ایجنسیاں)امریکا نے بگرام اڈا خالی کردیا ،کنٹرول افغان فورسز کے حوالے، غیر ملکی افواج کے انخلا میں تیزی، طالبان کاخیرمقدم، افغان حکومت کا امتحان شروع، امریکی انخلا کے بعد کی صورتحال پرروس نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہاہےکہ افغانستان میں داعش منظم ہورہی ہے جبکہ وسط ایشیا میں نیٹو کی موجودگی بھی قبول نہیں دوسری جانب پریس سیکریٹری وائٹ ہائوس جین پساکی نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلا آئندہ دنوں میں نہیں، آئندہ ماہ اگست میں ہوگا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا جاری ہے اور امریکا نے 20سال بعدسب سے بڑی بگرام ائیربیس افغان حکام کے حوالے کر دی،امریکا کے اعلیٰ حکام نے بگرام ائیربیس مکمل طور پر افغان نیشنل سکیورٹی ڈیفنس فورس کے حوالے کر دی ہے۔

امریکی دفاعی حکام کے کہنا ہے کہ امریکا اور نیٹو کے آخری فوجی دستوں نے افغانستان کی بگرام ایئر بیس کو خالی کر دیا ہے جو گزشتہ 20 سال سے عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کا مرکز تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کےمطابق بگرام اس بات کی علامت ہے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے، امریکی فوجی قوت کی علامت یہ اڈہ کبھی سوویت افواج کے زیر اثر تھا، اب افغان سکیورٹی فورسز کے لیے یہ چیلنج ہو گا کہ وہ شہر کے اندر اس شہر کو کیسے قابو میں رکھ سکتی ہیں،بگرام علامتی طور پر بھی اور اسٹرٹیجک اعتبار سے بھی اہم ہے۔

ایک افغان عہدیدار نے غیتر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ بگرام کی منتقلی کی باضابطہ تقریب آج ہفتے کو متوقع ہے، 650کے قریب امریکی فوجی متوقع طور پر افغانستان میں ہی رہیں گے تاکہ سفارت کاروں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی حفاظت میں مدد دی جا سکے،ایئرپورٹ کی حفاظت پر ان کے ساتھ امریکا کے نیٹو اتحادی ترکی کے فوجی بھی ہیں اور افغان حکومت کے ساتھ اس کی سکیورٹی کے ایک نئے معاہدے پر کام جاری ہے۔ 

فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کی بگرام پر کنٹرول برقرار رکھنے کی صلاحیت کابل کا دفاع کرنے اور طالبان کے خلاف مزاحمت کرنے میں اہم کردار کی حامل ہو گی۔ادھر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اے ایف پی سےگفتگو کرتے ہوئے بگرام سے امریکی افواج کے انخلا کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اس سے ’افغان اپنے مستقبل کا فیصلہ آپس میں خود کر سکیں گے۔‘

اس جنگ میں اندازے کے مطابق 47 ہزار افغان شہری اور 70 ہزار کے قریب افغان سپاہی ہلاک ہوئے جبکہ دو ہزار 442 امریکی سپاہی اور 3800 سے زائد امریکی نجی سکیورٹی ٹھیکیدار بھی ہلاک ہوئے، دیگر اتحادی ممالک کے 1144 فوجی ہلاک ہوئے۔ براؤن یونیورسٹی میں کوسٹ آف وار پراجیکٹ نے اس جنگ پر امریکی اخراجات کا تخمینہ 20 کھرب 260 ارب ڈالر کے قریب لگایا ہے۔

ترجمان افغان وزارت دفاع نے بھی بگرام ایئربیس سے امریکی اتحادی افواج کے انخلا کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بگرام ایئر بیس کا کنٹرول باضابطہ طور پر افغان فورسز کے حوالے کردیا گیا ہے،افغان فوج اب بگرام ایئربیس دہشتگردی کیخلاف جنگ کیلئے استعمال کرے گی۔

علاوہ ازیں عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے کہا ہے کہ افغانستان کے شمالی علاقوں میں داعش جنگجو دوبارہ سے منظم اور مضبوط ہو رہے ہیں، روسی وزیر خارجہ سر گئی لیوروف نے افغانستان سے امریکا اور نیٹو افواج کے انخلا کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امن کی مکمل بحالی اور عسکریت پسندوں کو جڑ سے ختم کیے بغیر افغانستان سے نکلنا عقل مندی نہیں۔

تازہ ترین