آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
وزیراعظم نوازشریف نے چین کیساتھ 8نئے MOU دستخط کر دیئے ہیں جن موضوعات پر دستخط ہوئے ہیں وہ پاکستان اور نوازشریف کی دوررس نظر اورVision کا اشارہ دیتے ہیں۔ چین والے تو پاکستان کے ساتھ ہمیشہ تجارتی اور اقتصادی تعاون کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ذرا غور کریں ان 8دستاویز پر جو دستخط ہوئے ہیں انکا تعلق اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے ہے کئی سالوں کی منصوبہ بندی، لمبے لمبے پلان، بلٹ ٹرین، ہزاروں میل کے موٹر وے، شمال سے جنوب تک ریل کا نظام، ہانگ کانگ کی طرز پر گوادر کو کھڑا کرنا، بجلی کے منصوبے اور جانے کیا کچھ اس میں شامل ہوگا، میں ذرا پریشانی کے عالم میں غور کر رہا ہوں کہ ہمارے مقبول صدر جناب زرداری اپنے کوئی 25سرکاری اور نجی دوروں میں چین کے ساتھ چھوٹے اور بڑے کوئی 50 یا اس سے بھی زیادہ MOU پہلے ہی دستخط کر چکے ہیں اور کچھ تو ایسے تھے کہ جن میں اعلیٰ سرکاری افسروں نے دستخط کرنے سے انکار کردیا تو چین میں ہمارے سفیر مسعود خان کو حکم دیا گیا کہ وہ سیکرٹری صاحب کی جگہ انگوٹھا لگا دیں۔ جو انہوں نے بوجہ مجبوری لگا دیا۔ اب ان بے شمار معاہدوں کا کیا ہوگا۔ نواز شریف کے آٹھ معاہدے تو بڑی اسٹرٹیجک اور پورے خطے کی سیاست اور دوستیاں اور دشمنیاں دونوں کو نظر میں رکھتے ہوئے کئے گئے ہیں۔ جناب زرداری نے جو معاہدے کئے وہ اب کیا ختم ہوگئے اور

کیا کوئی PPP والا کم از کم ایک لسٹ ہی شائع کرے گا جس میں بتایا گیا ہو کہ کس کمپنی سے کیا معاہدہ ہوا اور کن شرائط پر اور کیا زرداری صاحب اب نواز شریف سے کہیں گے کہ ان تمام 50 یا اس سے زیادہ MOUs پر بھی عمل کیا جائے۔ سوچنے کی بات ہے زرداری صاحب ہر کمپنی سے الگ معاہدہ کرتے تھے اور حکومت کی گارنٹی دی جاتی تھی مگر نواز شریف ملک کی اگلے 20سے 25سال کی پلاننگ اور ترقی پر نظر رکھ کر بات کر رہے ہیں۔ چین تو ہمارا دوست ہے ہی وہ زرداری سے ون ٹو ون ڈیل کے لئے بھی تیار تھا اور لمبی مدت کے پلان بنانے نواز شریف کو بھی خوش آمدید کہہ رہا ہے۔ مگر یہ سب بڑی بڑی باتیں اپنی جگہ اور پھرتیاں بھی قبول جیسے3مہینے میں کراچی سے لاہور موٹروے کی تیاری اور ڈھائی سال میں سڑک تیار یا 35/ارب روپے زیادہ دے کر نندی پور بجلی کا منصوبہ دوبارہ شروع کرنے کا وعدہ، پاکستان کو ایک بات ضرور یاد رکھنی چاہئے کہ چین ایک بڑا بزنس پارٹنر رہے گا اور ہمیشہ وہی منصوبہ شروع کرے گا جس میں دو چار آنے کا فائدہ ہوگا اس لئے کئی ایسے منصوبے جو بنیادی اور اسٹرٹیجک نوعیت کے ہیں وہ تو چین کو ترجیحی بنیادوں پر دینے میں کوئی حرج نہیں مثلاً شمال سے جنوب تک ریل یا موٹروے لیکن چند منصوبے ایسے بھی ہیں جو پاکستان کیلئے اصلی نہیں بلکہ حقیقی سونے کی کانیں ہیں یعنی جیسے ریکوڈک کی سونے اور تانبے کی کانیں جہاں اربوں ڈالر کے ذخائر دبے ہوئے ہیں اور امریکی اور کینیڈین کمپنیاں کئی سو ملین ڈالر لگا کر بھی اس تاک میں ہیں کہ ان کو موقع مل جائے اور وہ ان ذخائر کو نکال سکیں حالانکہ دنیا میں سونے کی قیمت گر گئی ہے لیکن پھر بھی دنیا بھر سے بڑی بڑی کمپنیاں تیاری کر رہی ہیں کہ جیسے ہی پاکستان ریکوڈک کے بین الاقوامی ٹینڈر کا اعلان کرتا ہے وہ سو سے150/ارب ڈالر تک کی بولی لگانے کو تیار ہیں۔ مجھے ڈر یہ ہے کہ نواز شریف صاحب چین سے دوستی میں لمبی لمبی پینگیں بڑھاتے ہوئے کہیں اس سونے کی کان کا سستا سودا نہ کر دیں اور بجائے ایک شفاف اور دنیا بھر کی سونا نکالنے والی کمپنیوں کو ٹینڈر کے ذریعے موقع دینے کے مُک مُکا کر کے چین کو یہ ذخیرے حوالے نہ کر دیئے جائیں کیونکہ باقی سب پروجیکٹ یعنی بلٹ ٹرین اور موٹر وے اور گوادر اور ہانگ کانگ تو بنتے ہی رہیں گے اور پاکستان کو ان کی قیمت بھی دینی ہوگی لیکن اگر اس طرح کے منصوبے جیسے ریکوڈک سستے داموں چین کو دوستی کی بنیاد پر دے دیئے گئے تو بڑا نقصان ہو جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ اگر پاکستان دو تین سال میں ریکوڈک سے دو یا چار ارب ڈالر سالانہ کما سکتا ہے تو یہی ڈالر ان بڑے بڑے چینی منصوبوں پر خرچ ہو سکیں گے اور ہمیں مزید چین سے یا IMF سے قرضے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی پھر چین کی ان کمپنیوں سے بھی پوچھ گچھ کی ضرورت ہے جنہوں نے ماضی میں دھوکہ دیا جیسے ہماری ریلوے کا بھٹہ اس لئے بیٹھ گیا کہ چینی انجن بیکار تھے اور اب وزیر سعد رفیق صاحب چینی انجن لینے کو تیار نہیں۔ تو میری گزارش یہ ہے کہ پالیسی اور اسٹرٹیجی ایک طرف لیکن جہاں بزنس اور فائدے کی بات ہو وہاں توازن رکھنا ضروری ہوگا۔
ویسے تو میں آج کے کالم میں کچھ مفت مشورے دینے کے موڈ میں تھا مگر نوازشریف کے کامیاب دورہ چین نے موضوع ہائی جیک کر لیا۔ مشورے تو خیر ویسے بھی دیئے جا سکتے ہیں مثلاً میں نے ایکTV ٹاک شو میں ایم کیو ایم کے الطاف بھائی کو مفت مشورہ دیا کہ آپ فوراً سے پیشتر ایک اپنا جانشین نامزد کر دیں تاکہ آپ کی پارٹی میں کوئی طوفان نہ آ جائے اور آپس میں خانہ جنگی نہ شروع ہو جائے کیونکہ لندن سے آج کل خبریں کچھ ملی جلی آ رہی ہیں اور لندن پولیس کے تیور کچھ اچھے نہیں نظر آتے تو اگر کسی وجہ سے الطاف بھائی کو وہ ٹیلیفون خطاب کرنے سے منع کر دیتے ہیں تو یہاں پاکستان میں ان کا کوئی تصدیق شدہ لیڈر موجود ہونا چاہئے تاکہ وہ معاملات کو کنٹرول کر سکے۔ اس مشورے کے بعد فوراً ہی خبر آئی کہ تین اہم لیڈر لندن روانہ ہو گئے ہیں اور اب مجھے یقین ہے ان میں سے کوئی ایم کیو ایم کا امین فہیم بن کر واپس آئے گا آخر بے نظیر نے اور نواز شریف نے بھی تو جانشین نامزد کر دیئے تھے یہ الگ بات ہے وہ چل نہ سکے یا زرداری صاحب نے چلنے نہیں دیا۔ اب متحدہ کا امین فہیم یا زرداری کون ہوگا اس کے لئے انتظار اب شاید زیادہ دن نہیں کرنا پڑے گااور ان کا اتوار کا خطاب وضاحت کر چکا ہو گا اگر نہیں کیا تو کر دینا چاہئے۔ مشورہ زرداری صاحب کو بھی مفت میں دینے میں کوئی حرج نہیں۔ خبر آئی ہے کہ اویس مظفر ٹپی کو کراچی کے پانی اور فضلے کے محکمے کا بڑا افسر لگا دیا گیا ہے یعنی ٹپی صاحب اب کراچی کا گند صاف کریں گے اور پانی کیلئے لوگوں کو ٹپی سے درخواست کرنی پڑے گی یعنی حقہ فری پانی ٹپی کا۔ اس سے اچھا کام ٹپی صاحب کو نہیں دیا جا سکتا تھا سب کو معلوم ہے کراچی میں پانی کے ٹینکرز کی مافیا کتنی مضبوط ہے اب اتنی بڑی مافیا کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی بڑا ڈان ہی چاہئے۔ وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ تو اپنے بال اور مونچھیں کالی کر کے اسمارٹ تو لگتے ہیں مگر جب بولتے ہیں تو کمزوری دکھا جاتے ہیں۔ ٹپی صاحب کو یہ پہلا امتحان پاس کرنا ہوگا یعنی کراچی کا گند اور فضلہ اگر وہ صاف کر گئے تو پھر کچھ دن بعد وہ وزیر اور وزیراعلیٰ کیلئے زرداری صاحب کو درخواست دے سکیں گے مگر میرا مشورہ یہ ہے کہ اب زرداری صاحب کے پاس کچھ ہفتے ہی رہ گئے ہیں اور سوئس کیس بھی پھر کھل سکتے ہیں تو جلدی کریں اور ٹپی کو فوراً وزیراعلیٰ بنا دیں اس سے پہلے کہ کوئی حادثہ ہو جائے اور معاملات ہاتھ سے نکل جائیں۔ ایک مفت مشورہ PTI والوں کے لئے بھی ہے عمران خان صاحب کو چاہئے کہ فوراً ایک کریش کورس کرائیں اور اپنے نئے منتخب اسمبلی کے ممبران کو سکھائیں کہ کس طرح وہ اپوزیشن کریں۔ انہیں شیخ رشید کی خدمات فوری طور پر حاصل کر لینا چاہئے اچھا نتیجہ نکلے گا۔ آخری مشورہ اپنی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح کیلئے ہے جو ہمیشہ ایسی ٹینشن میں نظر آتے ہیں کہ آج تک میں نے ان کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی۔ وہ کرکٹ کھیلتے ہیں کوئی زبردستی جنگ کے میدان میں ان کو نہیں دھکیلا جاتا تو مصباح ویسے تو بہت کول ہیں مگر اتنے سنجیدہ نظر آتے ہیں کہ کوئی جیسے بیگم سے لڑ کر آیا ہو۔ کھیل کھیلیں بھائی ذرا مسکرائیں، ہارنا جیتنا تو لگا رہتا ہے قوم آپ کو خوش دیکھنا چاہتی ہے کسی قیدی کی طرح پریشان نہ ہوں۔ آپ سلی مڈ آف (Silly Mid off) کے فیلڈر تو نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں