• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انکل سام نے افغانستان میں وہ ہی کیا جو مختلف ممالک میں اس کی تاریخ رہی ہے۔یعنی اپنا کام نکالنے کے بعد کسی کی پروا کیے بغیر بوریا بستر لپیٹ کر گھر کو لوٹ جانا۔چناں چہ اس مرتبہ تو امریکا کے صدر،جو بائیڈن نے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر صاف کہہ دیا کہ ہم افغانستان کے لیے ایک اور نسل کی قربانی نہیں دے سکتے۔عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نو جولائی کو وائٹ ہاؤس ایسٹ روم میں گفتگو کرتے ہوئے جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ افغان فوج طالبان کوپس پا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جن کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں بڑی پیش رفت کے باعث ملک میں دوبارہ خانہ جنگی کاخطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ یہ امریکی صدر کی جانب سے کی جانے حیرت انگیز بات تھی ، کیوں کہ زمینی حقایق کچھ اور ہی بتارہے ہیں۔

شاید انہوں نےیہ بات امریکی فوج کے وہاںسےانخلاپرسوال اٹھانے والوں کو جھوٹی تسلّی دینے کے لیے کی تھی اور دوسری جانب اس کے ذریعے اشرف غنی کی حکومت کو تھپکی دی گئی تھی کہ ڈٹے رہنا،بھاگنا نہیں،’’تُم کرسکتے ہو‘‘۔ لیکن اسی گفتگو میں انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ یہ جنگ ناقابلِ فتح تھی اوراپنے مستقبل کا فیصلہ خود افغانوں کو کرنا چاہیے۔ روئٹرز کے مطابق انہوں نے اکتّیس اگست تک امریکی افواج کا انخلا مکمل کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے افغانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا مشورہ دیا اور افغانستان سے انخلا کے اپنے فیصلے کا سختی سے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایک ناقابلِ فتح جنگ میں امریکیوں کی ایک اور نسل کی قربانی دینے کے بجائے افغانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہوگا۔

افغانستان میں امریکا کی بیس سالہ موجودگی کے مقاصد کےضمن میں جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکا وہاں اس لیے گیا تھا کہ القاعدہ کے عسکریت پسندوں کو جڑ سے ختم کیا جاسکے اور نائن الیون جیسے مزید حملوں کو روکا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ مقاصد حاصل کرلیے ہیں۔ ہم اسی وجہ سے گئے تھے۔ ہم قوم کی تعمیر کے لیے افغانستان نہیں گئے۔ یہ صرف اور صرف افغان عوام کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں کہ وہ اپنے ملک کو کس طرح چلانا چاہتے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جو بائیڈن نے اس موقعے پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہاتھا کہ کابل کا طالبان کے ہاتھوں میں چلے جانا کوئی قابلِ قبول نتیجہ نہیں ہوگا۔

یعنی یہ بھی بتادیا کہ وہاں جانا افغان عوام کی محبّت میں نہیں تھا،بلکہ امریکا کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایسا کیا گیا تھا اور وہاں افغان قوم کی بہتری کے لیے کچھ کرنا مقصود نہیں تھا۔

سوال یہ ہے کہ اب وہاں جو کچھ ہورہا ہے اور جو کچھ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ،کیا امریکا اس سے بے خبر تھا؟جی نہیں ۔وہ اپنے فوجیوں کے انخلا کے بعدپیدا ہونے والی ہرممکنہ صورت حال کا ادراک رکھتا تھا۔جب ہی تو رواں برس اپریل کے اواخر میں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کیتھ ایف میکنزی نے افغانستان میں القاعدہ اور داعش کے دوبارہ فعال ہو جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھاکہ یہ خِطّےکے ملکوں،خصوصاپاکستان کے لیے شدید تشویش کی بات ہے۔

افغانستان سے امریکی اور نیٹو کی فوجوں کے انخلا کے بارے میں امریکی وزارتِ دفاع میں ذرایع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھاکہ ان تنظیموں کا افغانستان میں دوبارہ فعال ہو جانے کا امکان، وسطی ایشیائی ریاستوں اور ایران کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔نیو یارک ٹائمز نے اس بریفنگ کی خبر میں کہا تھا کہ امریکا کے مشرق وسطی میں اعلی ترین فوجی کمانڈر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس سال گیارہ ستمبر تک افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد امریکاکی فوج کےلیے افغانستان میں القاعدہ جیسے دہشت گردی کے خطروں پر نظر رکھنا اور ان کا تدارک کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔

اب امریکی اور نیٹو کی افواج تو جاچکی ہیں،لیکن ان کے انخلانے خِطّےکے ممالک ،خصوصاپاکستان کے لیے شدید اندیشے اور مسائل پیداکردیے ہیں۔ساری دنیا کے سیاسی تجزیہ نگار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ اس انخلاسے جن ملکوں پر سب سے زیادہ اثر پڑ سکتاہے، ان میں پاکستان سرفہرست ہے۔پاکستان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کو امن کے عمل سے جوڑنا ضروری ہے،لیکن چوں کہ امریکیوں کا کام نکل چکا تھا، لہذا انہوں نے سوچا کہ وہ کیوں اس بکھیڑے میں پڑیں ،جو لوگ اس خِطّے میں رہتے ہیں وہ اس دردِ سر سے خود نمٹیں۔

اگرچہ بہ ظاہر گیارہ ستمبر2001کوامریکا میں ہونےوالی دہشت گردی افغانستان پر امریکا اور نیٹو کی چڑھائی کا سبب بنی تھی، لیکن اس بارے میں خود امریکا سمیت پوری دنیامیں بہت سی آرا پائی جاتی ہیں۔ خود کئی امریکی مصنّفین اور صحافیوں نے اس چڑھائی کو ’’جنگ‘‘ ماننے سے انکار کیا اور کئی نے اسے ’’تیل کےلیے کی جانے والی جنگ‘‘ قرار دیا ۔ان تمام نکات پر کئی کتب تحریر کی گئیں۔

عالمی سیاست کے داو پیچ اور طاقت کی سیاست کی حرکیات پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ امریکا جیسے ملک میں پالیسی روز مرہ کی صورت حال سے متاثر ہوکر نہیں بنائی جاتی اور نہ اس طرح کسی پالیسی میں ترمیم کی جاتی ہے۔بلکہ وہاں کم از کم بیس برس پہلے یہ کام کیا جاتا ہے۔ ایسے میں افغانستان پرچڑھائی کو کیسے ایک واقعے کا شاخسانہ قراردیا جاسکتاہے؟آنے والا وقت اس بارے میں بہت کچھ بتا سکتا ہے،لیکن بعض حقایق تو سامنے آچکے ہیں ناں۔

بعض حلقوں کا دعوی ہے کہ یہ جنگ برائے تیل تھی، خلیجِ فارس کو تیل کی ترسیل کے لیے کُھلا رکھناتھا،چین کی نگرانی مقصود تھی،بھارت کو خِطّے میں طاقت ور بنانا تھا، روس، چین ،پاکستان اور ایران کو دباو میں رکھنا تھا، افغانستان کی سرزمین پر نئے امریکی ہتھیاروں کی آزمایش مقصود تھی، وغیرہ وغیرہ۔لیکن ان بیس برسوں میں بہت کچھ بہت تیزی سے بدل گیا۔

شیل گیس کام یابی سے نکالنے پر امریکا کا تیل پر انحصار بہت کم رہ گیا، امریکا کی ہزار کوششوں کے باوجود چین زندگی کے ہر شعبے میں بہت تیزی سے آگے بڑھا ،بھارت اندرونی مسائل کی وجہ سے امریکا کی توقعات کے مطابق نتائج نہیں دے سکا ، طالبان امریکا کی توقعات سے زیادہ سخت جاں ثابت ہوئے، ایران پوری طرح اس کے قابو میں نہیں آیا، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ امریکا کا گریٹ گیم تھا۔ اس کھیل کے ذریعےافغانستان،عراق، لیبیا اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی،پاکستان اور ایران کو بری طرح اقتصادی اورسماجی نقصان سے دوچار کردیا گیا۔

خلیجی ممالک اور ان کی دولت کو امریکا نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔اسلامی ممالک میں ایسے بیج بوئے گئے جو نفرت اور تباہی کے پھل آج تک دے رہے ہیں ۔ متعدد اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے مخالف صف آرا کردیا گیا۔ اسرائیل اس صورت حال میں بہت زیادہ طاقت ور بن گیا اور مشرقِ وسطی کی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے قابل بنادیا گیا۔ اس کے علاوہ بھی امریکا نے اس کھیل سے بہت کچھ حاصل کیاجس کی تفصیلات آنے والا وقت دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔

ان حالات میں یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان نے افغان حکومت اورمسئلے کے دیگر فریقین کے ساتھ بیٹھنے کے لیے طالبان کو قائل کرنے کا خاموش مگر اہم کردار ادا کیا۔ ماہرین کے مطابق اسلام آباد کی مکمل حمایت کے بغیر بین الافغان مذاکرات ممکن نہ ہو پاتے۔دسمبر2018میں پاکستان نے واشنگٹن اور طالبان کے درمیان بہ راہ راست بات چیت کا راستہ کھولنے میں مدد کی اور پھر دوحہ میں فریقین کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پایا۔ پاکستان کی مدد سے جولائی 2015میں افغان حکومت اور طالبان کے مابین پہلی باربہ راہ راست مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے۔ پھر یہ امن عمل اُس وقت رُک گیا جب طالبان نے اپنے رہنما ملا عمر کی موت کا اعلان کیا۔ اس سے طالبان میں اندرونی طور پر طاقت کی رسہ کشی شروع ہو گئی تھی۔

پاکستان کی ان کوششوں کی وجہ سے کئی مواقعے پر امریکی حکام نے پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے ۔ مگر دوسری جانب صدر بائیڈن نے کہا کہ بین الاقوامی جہادی تنظیموں کا افغانستان میں قیام روکنے کے وعدے پر امریکہ ’’طالبان کا احتساب‘‘ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نےخِطّے میں دوسرے ملکوں، خصوصاپاکستان، سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی مدد کے لیے مزید کوششیں (ڈو مور) کریں۔ ادہر پاکستان نے بارہا کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہمارے مفاد میں ہے۔ ہم افغانستان میں امن اور استحکام قایم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ ماضی کی طرح پاکستان اب طالبان پر بہت زیادہ اثر و رسوخ نہیں رکھتا۔ طالبان نے بھی اپنی حکمت عملی بدل لی ہے\۔وہ سفارتی طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں، انہوں نے کئی ملکوں سے رابطے قایم کیے ہیں اور اب قطر میں ان کا سیاسی دفتر بھی ہے۔چناں چہ اب پاکستان کے ضمن میں یہ سمجھنا درست نہیں کہ وہ واحد ملک ہے جو طالبان پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں ہے۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی صورت حال پر پاکستان کے بھی کچھ خدشات ہیں اور اسلام آبادچاہتا ہے کہ امریکا سمیت عالمی برادری ان خدشات پر غور کرے ۔پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو،وہاں بھارت کا اثر و رسوخ محدود کرنے کی ضرورت ہے اور ملک میں موجود افغان پناہ گزین کی واپسی ممکن بنائی جائے۔

طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی کے نتیجے میں اسلام آباد کو ممکنہ طورپر کئی محاذوں پر بہ یک وقت امتحان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔مثلا،اگر طالبان نے کابل فتح کرلیا تو پاکستان ان کی حکومت تسلیم نہ کرنے کی صورت میں ان کے غیض وغضب کا نشانہ بن سکتا ہے، وہاں بدامنی ہوئی تو ہزاروں افراد پاکستان کا رخ کرسکتے ہیں جن میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے افراد بھی شامل ہوسکتے ہیں ،منشیات کی اسمگلنگ بڑھ سکتی ہے،وسطِ ایشیاکی ریاستوں تک رسائی کاخواب چکنا چورہوسکتا ہے، طالبان نے چین اور وسطِ ایشا کی ریاستوں میںاسلامی شدّت پسندوں کی مدد کی تو یہ ممالک پاکستان کی مدد مانگیں گےاور مدد نہ کیے جانے پر ہم سے ناراض ہوں گے، وغیرہ وغیرہ ۔

طالبان نے1996میںافغانستان میں حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت پاکستان ان تین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اس حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ لیکن اب صورت حال مختلف ہے۔ پاکستان نے کھل کر کہاہے کہ وہ اس خیال کی حمایت نہیں کرتا کہ طالبان کابل میں دوبارہ اقتدار پر قابض ہو جائیں۔ اس بیان نے طالبان کو خوش نہیں کیا۔

اس جنگ میں تقریبادس کھرب امریکی ڈالرز پھونک دیےگئےاور تیئس سوسے زیادہ امریکیوں نے جانیں گنوائیں۔ ہزار ہا افغانی بھی جان سے گئے۔اس جنگ کے اثرات ہم پر بھی بہت بھیانک انداز میں پڑے ،لیکن آج بھی ہم ہی سے مزید کچھ کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ کابل کی حکومت پاکستان پر اعتماد نہیں کرتی اور اپنی ناکامی کا ذمے دار اسلام آباد کو قرار دیتی ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن امن کے موجودہ عمل میں پاکستان کا کردار تسلیم توکرتا ہے مگر ہم پر مکمل طور پراعتماد نہیں کرتا اور اب طالبان بھی پہلے جتنا پاکستان کے قریب نہیں رہے ۔ 

چناںچہ پاکستان مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔ ایسے میں اس مسئلے کے حل کے لیے واحد راستہ تلاش کرنے کےبجائے چین، روس، ترکی اور ایران جیسے ممالک سے رابطے قایم کرنا بہترین حکمت عملی ہو گی ۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان اسی حکمت عملی پر کام کررہا ہے۔چناں چہ وزیر خارجہ ،شاہ محمود قریشی ،مختلف ممالک کے دورے کررہے ہیں۔چین، روس اور ایران بھی اس ضمن میں متحرک ہیں۔

دوسری جانب طالبان بھی ماضی کے مقابلے میں کچھ بدلے ہوئے نظر آرہے ہیں۔وہ سفارتی عملے،سفارت خانوں اور افغانستان میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے تحفظ کی یقین دہانی کراتے نظر آرہے ہیں ، روس چین اور ایران کےساتھ مذاکرات بھی کررہے ہیں اور ہتھیار ڈالنے والے افغان فوجیوں کے ساتھ بہتر انداز میں پیش آرہے ہیں۔ ایسے میں ان کی تیز رفتار پیش قدمی کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ علاقے پر قبضہ کرکے ستمبر میں ہونے والے بین الافغان مذاکرات میں اپنی پوزیشن بہت زیادہ مستحکم بناکر پیش کرنا چاہتے ہیںتاکہ ان کے مخالف فریقین ان کی زیادہ سے زیادہ شرایط ماننے پر مجبور ہوں۔

یاد رہے کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہاتھا کہ بین الافغان مذاکرات میں آنے والے دنوں میں تیزی آئے گی اور طالبان اگلے ماہ تک تحریری امن منصوبہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ان کے مطابق امن مذاکرات کا حال ہی میں ہونے والا مرحلہ اہم تھا۔ اگر چہ ہمارا (طالبان) محاذِ جنگ پر پلڑا بھاری ہے پھر بھی ہم امن اور مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں۔اس بیان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ماضی اور حال کے طالبان کی فکر کس حد تک مختلف ہے۔

ایسا نہیںہے کہ افغانستان کے موجودہ حالات میں ہمارے لیے صرف خطرات ہی پوشیدہ ہیں۔اگر ہم نے اپنے کارڈ مناسب انداز میں کھیلے تو بہت کچھ حاصل بھی کرسکتے ہیں۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ان حالات میں روس اور چین مل کر نیا علاقائی نظام بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں اور موجودہ حالات کی وجہ سے دونوں کونئے علاقائی نظام کی تشکیل میں آسانی ہوئی ہے۔ اگرچہ روس اور چین کا کہنا ہے کہ ان کےباہمی تعاون کا ہدف کوئی تیسرا ملک نہیں اور امریکا کو چیلنج کرنا ان کے مقاصد میں شامل نہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکا،چین اور روس پر اپنے دباو میں جتنا اضافہ کررہا ہے، بیجنگ اور ماسکو اس کا توڑ کرنے کے لیے اسی قدر قریب آتے جارہے ہیں۔ وہ امریکی دباؤ خاطر میں نہیں لارہے بلکہ واشنگٹن کو اسی کی زبان میں جواب دے رہے ہیں۔

آج کی حقیقت یہ ہے کہ امریکا جہاں سےبھی مسائل حل کیے بغیر فرار اختیار کر رہا ہے وہ خِطّے روس اور چین کے زیرِ اثر آرہے ہیں۔یہ ہی معاملہ افغانستان اور اس خِطّے کاہے۔ بیجنگ اور روس، شنگھائی تعاون کی تنظیم کے تحت افغانستان میں نئے کردار کی تیاری کر رہے ہیں اور امریکی انخلا سے پیدا ہونے والا خلا پُر کرنے کی کوشش کریں گے۔ امریکی قیادت میں بننے والے چار فریقی اتحاد کو بھی بیجنگ اور ماسکو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ یادرہے کہ رواں برس مارچ میں امریکا کی سربراہی میں بننے والے چار فریقی اتحاد کا اجلاس ہوا تھاجس کے بعد ماسکو نے سخت ردعمل دیا اور کہا تھا کہ امریکا، چین مخالف کھیل میں بھارت کو استعمال کر رہا ہے۔

چین ،جو ماضی میں افغانستان کے معاملے میں زیادہ دل چسپی نہیں رکھتا تھا،وہ کچھ عرصے سے اس مسئلے کے حل کے لیے کا فی مستعد دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ، جس کا ایک چھوٹا سا حصہ سی پیک ہے، افغانستان کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ امریکی انخلا کے بعد چین، پاکستان اور ایران میں بڑی سرمایہ کاری کی حفاظت کے لیے افغانستان میں استحکام کی کوشش کرے گا اوریہ امکان بھی ہے کہ خانہ جنگی کی صورت میں چین امن فورس تعینات کرے تاکہ افغانستان سے ملحق اپنے صوبے سنکیانگ صوبے کو ممکنہ بدامنی سے بچاسکے۔ادہر ایران کے ساتھ معاہدے کے تحت چین پہلے ہی وہاں پانچ ہزار فوجی تعینات کرنے کی اجازت لےچکاہے۔

غیر ملکی فوجیوں سے پاک افغانستان ،چین کو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ تیزی سے آگے بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔ چین کےافغانستان میں فعال ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ یورپی طاقتوں اوربھارت کا کھیل وہاں ختم ہو جائے گا۔کابل پربھارت کا اثر ورسوخ ختم ہونے سے ہمیں کچھ فایدہ ہوسکتا ہے،کیوں کہ کابل کی موجودہ انتظامیہ میں پاکستان کے دشمنوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں اشرف غنی کے قومی سلامتی کے مشیر، حمداللہ محب سرفہرست ہیںجنہوں نے پچھلے دنوں پاکستان سے متعلق ایک گھٹیا تبصرہ کیا تھا۔اس پر پاکستان نے افغان حکومت سےاحتجاج کیاتھا۔اس کے علاوہ امراللہ صالح اور اس جیسے کئی عہدے دار ہیں جو اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالتے رہتے ہیں۔

بھارت، کابل انتظامیہ کو پاکستان کے خلاف اس لیے استعمال کرتا ہےکہ پاکستان اپنی پوری توجہ اور فوجی صلاحیت پاک ،افغان سرحد پر مرکوز رکھے۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان میں جاری پاکستان مخالف طاقتوں کاکھیل موثر خارجہ پالیسی اور مستعد سفارت کاری کے ذریعے ان ہی پر پلٹ دیا جائے۔ اس کے لیے ہمیں کھلی آنکھوں اور بے دار کانوں کےساتھ نئے بننے والے اتحادوں میں جگہ بنانی اور مستحکم کرنا ہوگی۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کام یاب ہوگئے تو خِطّے میں سکیورٹی کا جو نیا نظام تشکیل پا رہا ہے اس میں نہ صرف شریک ہوجائیں گے بلکہ بہتر انداز میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کی حالت میں بھی آجائیں گے۔