• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ کراچی کے ایک محلّے میں ہونے والی اجتماعی قربانی کا منظر ہے۔تمام حصّے داروں میں گوشت وغیرہ تقسیم ہوچکا ہے۔ تاہم قربانی کے جانور کے بعض اعضا یا حصّے اب بھی تقسیم کے مرحلےسے گزرنے کے متقاضی ہیں۔ تمام سرگرمیوں کے منتظم ،سلیم صاحب، عجیب کش مکش میں مبتلا ہیں۔ ان کے سامنے پڑے جانور کے بعض اعضا یا حصّے کی تعداد یا مقدار کم ہے اور ان کے طلب گار زیادہ ہیں۔ ان کی مشکل یہ ہے کہ قصّاب اپنا کام کرکے جاچکا ہے اور طلب زیادہ ہونے کی وجہ سےان اعضا یا حصّوں کے ٹکڑے کرنا ضروری ہے۔ پھر باہمی رضامندی سے یہ طے پایا ہے کہ کسی حصّے دار کو پائے دے دیے جائیں، کسی کو مغز، کسی کو کلّے کا گوشت، کسی کو زبان، کسی کو نلّیاں تو کسی کو گُردے۔

یوں یہ مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے طے ہوجاتا ہے اور قربانی کے جانور کا تقریبا ہرعصو یا حصّہ لوگوں کے کام میں آجاتا ہے۔لیکن ،ہر جگہ یہ مراحل اتنے آسان نہیں ہوتے۔کہیں،کہیں ایسا بھی سننے کو ملتا ہے :’’ میرے چوں کہ تین حصّے ہیں، لہذا کم از کم دو پائے میرے ہیں اور جنید بھائی کے دو حصّے ہیں، لہذا مغز ان کا ہے‘‘۔ایسے موقعے پر اجتماعی قربانی کے بعض منتظمین بُری طرح جھنجلا جاتے ہیں اور بعض اوقات کچھ شکر رنجی بھی ہوجاتی ہے۔

عیدالاضحیٰ کے موقعے پر دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرح پاکستان کا بھی ہر صاحب استطاعت مسلمان یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ چھوٹے یا بڑے جانور کی قربانی کرے۔ تاہم ہوش ربا منہگائی نے بہت سے افراد کے لیے اکیلے قربانی کا جانور خرید کر راہ خدا میں اُسے قربان کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔ چناں چہ دس پندرہ برس سے اجتماعی قربانی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن ان کے منتظمین کے لیے یہ کام آسان ہرگز نہیں ہوتا۔ اس رجحان میں اضافے کی دوسری وجہ تن آسانی اور عدیم الفرصتی بھی ہے۔ بہت سے افراد مویشی منڈی جانا، قربانی کاجانور خریدنا، اُس کی دیکھ بھال کرنااور پھر قصائی کے پیچھے بھاگنا نہیں چاہتے۔چناں چہ وہ اجتماعی قربانی کو ترجیح دیتے ہیں۔

نصیرخان قائدآباد،لانڈھی میں رہایش پزیر ہیں۔ ان سے بھینس کالونی میں ملاقات ہوئی۔ وہ ایک دوست کی معرفت وہاں قربانی کا جانور خریدنے کے لیے آئے ہوئےتھے۔اُن کے بہ قول وہ اپنے محلّےمیں اجتماعی قربانی کرتے ہیں۔ چھ محلّے داروں کے ساتھ مل کر وہ تین برس سے یہ ذمےّ داری نبھا رہے ہیں۔ وہ چوں کہ کاروبار کرتے ہیں، لہٰذا ان کے پاس مذکورہ محلّے داروں کی نسبت تھوڑا زیادہ فارغ وقت ہوتا ہے۔ چناں چہ وہ نیک کام سمجھ کر اجتماعی قربانی کا انتظام کرتے ہیں۔ وہ کبھی اکیلے اور کبھی دو تین حصّے داروں کے ساتھ مل کر قربانی کا جانور خریدتےہیں۔ 

پھر دو تین روز تک اس کی دیکھ بھال کرنا اور جانور کے چارے کا بندوبست کرنا بھی اُن ہی کی ذمےّ داری ہوتی ہے۔ عیدالاضحیٰ کے پہلے دن وہ گلی میں خود جانور ذبح کرتے ہیں اورپھر حصّے داروں کے ساتھ مل کر گوشت کی بوٹیاں بنا کر انہیں مساوی طور پر تقسیم کر دیتے ہیں ۔تاہم ان کے بہ قول یہ کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ اس پورے عمل میں وہ ایک ہفتے تک کافی مصروف رہتے ہیں اور عید کے دن کسی بھی دوست یا عزیز سے ملنے کے لیے نہیں جاپاتے۔ نصیر خاں کے مطابق جانور کی خریداری ہر برس مشکل سے مشکل ترہوتی جاری ہے۔ اگرچہ اُن کا ایک دوست اس ضمن میں اُن کی کافی مدد کرتا ہے، تاہم یہ مرحلہ اُن کے لیے سب سے زیادہ تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ ایک جانب اُن کی جیب میں محدود رقم ہوتی ہے اور دوسری جانب بیوپاری منہ کھول کر جانور کی قیمت لگاتے ہیں۔

ایسے میں بعض اوقات اُنہیں یہ خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید اس برس وہ اجتماعی قربانی کے لیے محدود رقم میں جانور نہ خرید سکیں۔ لیکن پھر کوئی نہ کوئی بندوبست ہو جاتاہے۔ نصیر خان کے مطابق ایک برس ایسا بھی آیا کہ سیلاب کی وجہ سے منڈیوں میں جانور بہت کم تعداد میں تھےاور نرخ بہت چڑھے ہوئےتھے۔ چناں چہ جب بھینس کالونی میں بات نہیں بنی تو اُنہوں نے ملیر کی مویشی منڈی کا رُخ کیا۔ لیکن وہاں بھی اُنہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ پھر وہ سہراب گوٹھ پر لگنے والی مویشی منڈی پہنچے، لیکن وہاں بھی جانور اُن کی قوّتِ خرید سے باہر تھے۔ وہ پانچ گھنٹے تک اس منڈی میں گھومتے رہے اور رات گئے تین بجے ایک کم زور سی گائے لے کر گھر لوٹے تھے۔

سُپر ہائی وے پر لگنے والی موشی منڈی میں احمد ہمیش سے ملاقات ہوئی۔ وہ بھی قربانی کے لیے جانور خریدنے آئے تھے۔ اُن کے بہ قول پہلے وہ محلّے کی مسجد میں ہونے والی اجتماعی قربانی میں حصّہ لیتے تھے، لیکن دو برس سے وہ چند دوستوں کے ساتھ مل کر خود اجتماعی قربانی کرنے لگے ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور اسٹیل ملز میں ملازمت کرتے ہیں۔ وہ اسٹیل ٹائون سے پہلے بھینس کالونی گئےتھے،پھر وہاں سے یہاں پہنچے تھے۔ اُن کی کوشش تھی کہ کوئی فربہہ جانور اُنہیں مناسب قیمت میں مل جائے۔ لیکن جب ’’جنگ‘‘ کےاس نمائندے کی اُن سے بات ہوئی، اُس وقت تک وہ اس کوشش میں کام یاب نہیں ہو پائے تھے۔

ان کے بہ قول بیوپاری ستّر،اسّی ہزار روپے سے کم کسی جانور کا نرخ نہیں بتا رہے۔ احمد ہمیش کے مطابق وہ اتنے بڑھے ہوئے نرخ سن کر یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اگلے برس یہ مذہبی فریضہ وہ انجام دے سکیں گے یا نہیں؟ اُن کے مطابق قربانی کے جانور کی خریداری سے لے کر اسے ذبح کرنے تک کئی اقسام کے خرچے ہوتے ہیں۔ لہٰذا اُن تمام اخراجات کو مدّ ِ نظر رکھ کر اجتماعی قربانی کے لیے جانور خریدنا پڑتا ہے۔ جانور خریدنے کے بعد منڈی کے منشی سے پرچی بنوانا ہوتی ہے۔ 

پھر ایک شخص کی مدد حاصل کرکے اسے ٹرک یا پک اپ میں چڑھانا ہوتا ہے۔ اُس شخص کو کم از کم دو ،تین سو روپے دینے پڑتے ہیں۔ پھر ٹرک یا پک اپ والے کوکم از کم ہزار تا بارہ سو روپے ادا کرنے ہوتے ہیں۔ گھر پہنچ کر جانور کے لیے چارے پانی کا بندوبست کرنا ہوتا ہے۔ ایک گائے ایک وقت میں کم از کم ڈیڑھ سو روپے کا چارہ کھاتی ہے۔ پھر قصائی کو کم از کم تین، چار ہزار روپے ادا کرنے ہوتے ہیں۔ چٹائی خریدنے اور آلائش اٹھوانے پر بھی پیسے خرچ ہوتے ہیں۔

تنویر قریشی بفرزون میں رہتے ہیں۔ اُن سےبھی سُپرہائی وے پر واقع مویشی منڈی میں ملاقات ہوئی۔ وہ ایک مذہبی فلاحی تنظیم کے تحت ہر برس اپنے محلّےمیں اجتماعی قربانی کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے ان کی تنظیم کے ہر علاقے کے ذمّے دار علیحدہ علیحدہ جانور خریدتے تھے۔ لیکن چند برسوں سے یہ عمل اتنا مشکل ہوگیا ہے کہ گزشتہ برس سے اس کام کےلیے اُنہوں نے مویشیوں کے ایک بیوپاری کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔ وہ بیوپاری اُن کے لیے زیادہ سے زیادہ جانوروں کی ایک وقت میں فراہمی ممکن بناتا ہے۔ گزشتہ برس اُنہوں نے شہر کے سات ،آٹھ علاقوں کے لیے اس سےنوّے گائیں اور بیل خریدے تھے۔ وہ اس بیوپاری کی تلاش میں منڈی میں سرگرداں تھے۔ وہ بیوپاری فی جانور اُن سے ہزارروپے لیتاہے۔

وہ گزشتہ برس اُس کی جانب سے فراہم کیے گئے جانوروں کی صحت سے مطمئن تھے اس لیے اس برس بھی اُسی کی خدمات حاصل کی ہیں۔ تنویر قریشی کے مطابق سات،آٹھ برس سے عید الاضحیٰ کے موقعے پر جانووں کی خریداری کا عمل بہت مشکل ہوگیا ہے۔ منہگائی اور بارشوں کی وجہ سے بیوپاری بہانہ بنا کر جانوروں کےبہت اونچے نرخ بتاتے ہیں۔ ان بیوپاریوں سے معاملہ طے کرنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔ اُن کے بھید بیوپاری ہی جانتے ہیں۔ اس میں سے ایک بھید گزشتہ برس اُن پر بھی کھلا۔ انہوں نے جس بیوپاری کی خدمات حاصل کی تھیں اُس نے انہیں دس، بیس جانور کے علیحدہ نرخ بتائے اور ستّر جانوروں کے علیحدہ۔اُس کا کہنا تھا کہ کراچی میں زیادہ تر بیوپاری اندرون سندھ اور پنجاب سے جانور لے کر آتے ہیں۔ 

وہ ابتدا میں ایک ایک جانور فروخت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور مقامی بیوپاریوں سے بھی سیدھے منہ بات نہیں کرتے ۔ لیکن جوں جوں عید الاضحیٰ قریب آتی جاتی ہے، اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد تمام جانور فروخت کرکے گھر کو لوٹ جائیں۔ اگر یہ عمل اس طرح ہو جائے کہ اُنہیں مناسب دام بھی مل جائیں اور وہ عید اپنے گھر والوں کے ساتھ منا سکیں تو بہت سے بیوپاری اسے ترجیح دیتے ہیں۔ وہ بڑی تعداد میں جانور خریدنے والے گاہک یا بیوپاری سے کافی حد تک رعایت کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ کم اور زیادہ تعداد میں خریداری کے لیے علیحدہ علیحدہ نرخ ہوتے ہیں۔

تنویر قریشی کے مطابق گزشتہ برس اُنہوں نے جس بیوپاری کی خدمات حاصل کی تھیں ،اس نے عیدالاضحٰی سے بیس یوم قبل مختلف بیوپاریوں سے رابطے کرنا شروع کردیے تھے۔ ابتدا میں اس بیوپاری سے تیس جانوروں کا انتظام کرنے کے لیے کہا گیا تھا، لیکن اُس بیوپاری نے رابطے کرنے کے بعد یہ بتایا کہ اگر جانوروں کی تعداد پچاس کردی جائے تو نہ صرف اس کا کام آسان ہوجائے گا بلکہ جانوروں کے نرخ بھی مناسب حد تک کم ہوجائیں گے۔ 

چناں چہ اُسے پچاس جانوروں کا سودا کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ اس فیصلے کے اچھے نتائج برآمد ہوئے اور اس بیوپاری سے مزید جانوروں کی خریداری کا بھی معاہدہ کرلیا گیا۔ بڑے سودے کرنے سے یہ اندازہ ہوا کہ بیوپاری اِکّا دکّا جانور خریدنے والوں سے کتنا زیادہ منافع کماتے ہیں۔ شاید اسی لیے بعض حوصلہ مند بیوپاری آخری وقت تک بڑے کے بجائےچھوٹےسودے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ناگن چورنگی کے رہایشی محبوب احمد کئی برس سے انفرادی طورپرجانور خریدتےتھے ،مگر اس برس وہ بھی منہگائی کا سُن کر اجتماعی قربانی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق جانور منہگا کرنے میں ذرایع ابلاغ بہت غلط کردار اداکرتے ہیں۔ منڈی لگتے ہی خبریں آنے لگتی ہیں کہ خریداروں کے مقابلے میں جانور کم ہیں، اس لیے جانوروں کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ ایسی خبریں سُن کر بہت سے افراد منڈی جانے کا خیال دل سے نکال دیتے ہیں اور اجتماعی قربانی پر اکتفا کرلیتے ہیں۔

فیڈرل بی ایریا کے رہایشی سرفراز نامی نوجوان کا کہنا تھا کہ گھر میں تین لوگ کمانے والے ہیں، پھر بھی بڑھتی ہوئی منہگائی کی وجہ سے صرف بچّوں کی تعلیم اور ان کا پیٹ پالنےکا بندوبست ہی کیا جا سکتا ہے ۔اس لیے عید الاضحی پر قربانی کرنا ہمارے لیے ایک خواب بن چکا ہے اور عیدکے روزبھی ان کے والد ٹیکسی چلانے پر مجبور ہیں ۔ایک سرکاری ملازم خورشید کا کہنا تھا کہ جانوروں کی قیمت اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ ہم قربانی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ہیں ۔ 

اُن کے مطابق چندبرس قبل تک عید الاضحی کے موقعے پر وہ اہلِ خانہ سمیت اپنےگاؤں چلے جاتے تھے، لیکن اب کرایوں میں بے حد اضافے کی وجہ سے یہ بھی نا ممکن ہو گیا ہے ۔ ان کے بہ قول تقریباً پچّیس برس سے وہ سرکاری ملازمت کر رہے ہیں پھر بھی ان کی تنخواہ اٹّھائیس ہزار روپے ہے جس میں پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی کو پالنابہت مشکل کام ہے ۔ 

انہوں نے بچّوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اچھے وقتوں میں عید کے روز جب گھر میں قربانی کی جاتی تو کافی گہما گہمی ہوا کرتی تھی جس سے بچّے بھی خوش ہو جاتے تھے ۔ لیکن اب عید کے روز بچّوں میں سے کوئی کسی دوست کی طرف تو کوئی پارک میں سیر کے لیے گیا ہوا ہوتا ہے ۔

تنگ آمد، بجنگ آمد

احمد شرف الدین کھوکھرا پار، ملیر کی بستی گیلان آباد میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ دس برس سے محلّے میں اجتماعی قربانی کا اہتمام کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اُن کے مطابق پہلے وہ ایک مذہبی فلاحی تنظیم کی جانب سے کی جانے والی اجتماعی قربانی میں حصّے دار ہوتے تھے۔ لیکن اس تنظیم کے لوگ ہمیشہ بہت ہلکے جانور لاتے تھے۔ ان کا انتخاب عام طور پر تھر پار کرکے بڑی سینگوں والے سفید رنگ کے بیل ہوتے تھے۔ جو کم زور اور اڑیل ہوتے تھے۔ وہ چلتے چلتے رک جاتے تو کبھی ان کی دُم مروڑ مروڑ کر انہیں چلایا جاتا اور جب یہ طریقہ بھی ناکام ہو جاتا تو دُم کے بالوں کو ماچس کی تیلی دکھائی جاتی تھی۔ تب کہیں جا کر وہ چلتے تھے۔

ایسے جانور کے گوشت کے جب سات حصّےکیے جاتے تو بہ مشکل آٹھ،دس کلوگرام گوشت اور ہڈّیاں ایک شخص کے حصّے میں آتی تھیں۔ وہ کئی برس تک اس صورت حال پرکُڑھتے رہے، کیوں کہ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا۔ پھر ایک روز اُنہوں نے اپنے خاندان کے لوگوں اور چند محلّے داروں سے اس بارے میں بات کی تو انہیں حوصلہ افزا جواب ملا۔ اُن کے خاندان کے تین افراد اور تین محلّے داروں نے اُنہیں ہمّت دلائی کہ وہ خود کوئی جانور خرید لائیں تو وہ اس میں قربانی کے حصّے دار بننے کے لیے تیّار ہوں گے۔

چناں چہ دس برس قبل پہلی مرتبہ وہ خود مویشی منڈی جا کر اجتماعی قربانی کے لیے جانور لائے اور اسے گلی میں ذبح کرکے گوشت حصّے داروں میں تقسیم کردیا ۔اس تجربے نے اُن کا حوصلہ بڑھایا اور پھر وہ ہر سال اجتماعی قربانی کا اہتمام خود کرنے لگے۔ ان کے بہ قول اس عمل کے ذریعے اُن کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ اپنی اور حصّے داروں کی استطاعت کو مدّ ِ نظر رکھ کر نسبتاً بہتر جانور کی قربانی کرسکیں۔ پھر یہ کہ اب وہ دن کے ایک بجے تک قربانی کے تمام مراحل مکمل کرکے فارغ ہو جاتے ہیں۔ اس سے پہلے قربانی کا گوشت اُن کے گھر شام کے پانچ چھ بجے پہنچتا تھا۔

حصّے کی رقم بڑھتی اور گوشت کم ہوتا گیا

سلیم احمد گلشن اقبال کے بلاک نمبرچھ میں رہایش پزیر ہیں۔ وہ چار برس سے اپنے محلّے کی مسجد میں ہونے والی اجتماعی قربانی میں حصّہ لے رہے ہیں۔ وہ پہلے فیڈرل بی ایریا میں کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔ وہاں وہ محلّے میں واقع ایک دینی مدرسے میں کی جانے والی اجتماعی قربانی میں حصّہ لیتے تھے۔ اُن کے مطابق اُنہوں نے پہلی مرتبہ 1987میں اجتماعی قربانی میں حصّہ لیا تھا، وہ جانور کافی فربہ تھا اور اس کے گوشت پر بڑی مقدار میں لگی ہوئی چربی آج بھی اُنہیں یاد ہے۔

اس وقت ہر حصّے دار کے حصے میں پندرہ تا سترہ کلو گرام گوشت آیا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ فی حصّہ رقم بہت تیزی سے بڑھتی گئی، مگر حصّے داروں کو ملنے والا گوشت کم ہوتا گیا۔ گزشتہ برس اُنہوں نے گائے کی اجتماعی قربانی کے ایک حصّےکے عوض بارہ ہزار روپے ادا کیےتھے، اور ہر حصّے دار کو تقریباً گیارہ کلوگرام گوشت ملا تھا۔

بس اتنا سا گوشت

کلیم اختر اورنگی توسیعی کے علاقے میں رہتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ پندرہ بیس برس سے علاقے میں ایک فلاحی تنظیم کی جانب سے کی جانے والی اجتماعی قربانی میں حصّہ لیتے ہیں۔ اُن کے بہ قول چند برسوں میں جس تیزی سے منہگائی میں اضافہ ہوا ہے اس نے عید الاضحیٰ کے موقعے پر کی جانے والی جانوروں کی قربانی کے عمل کو بھی بُری طرح متاثر کیا ہے۔ 1988ء میں وہ قربانی کے لیے جو بچھیا تیرہ ہزار روپے میں خرید کرلاتے تھے اب ویسی بچھیا تقریباً ستّر ہزار روپے میں ملتی ہے۔ اجتماعی قربانی میں چوں کہ تمام حصّے داروں کی استطاعت اور سہولت کو مدّ ِ نظر رکھنا ہوتا ہے، لہٰذا جانور بھی اُسی لحاظ سے خریدا جاتا ہے۔

گزشتہ برس اُنہوں نے اجتماعی قربانی میں حصّہ لیا۔ منتظمین کی جانب سے وہ بتائے ہوئے وقت پر اپنے حصّے کا گوشت لینے پہنچے تو وہ تول کر ایک کونے میں رکھا جا چکا تھا۔ انہوں نے اُس کی بابت دریافت کیا تو ایک جانب اشارہ کردیا گیا۔ جب اُنہوں نے گوشت کا تھیلا اٹھایا تو انہیں اُس کا وزن گزشتہ برسوں کی نسبت کم محسوس ہوا۔ اُنہوں نے اپنی تسلی کےلیےمنتظمیں سے پوچھا کہ کُل اتنا ہی گوشت اُن کے حصّے میں آیا ہے یا کچھ اور بھی ہے؟ تو جواب ملا کہ کُل اتنا ہی ہے۔ وہ گوشت کا تھیلا لے کر گھر پہنچے اور اسے ایک اخبار بچھا کر اُلٹا تو اُن کی اہلیہ نے حیرانی سے پوچھا: ’’بس! اتنا سا گوشت؟‘‘ اس کے جواب میں وہ صرف سر ہلا کر رہ گئے۔ کیوں کہ اُنہیں معلوم تھا کہ اتنا گوشت اُن کے بڑے خاندان میں تقسیم کرنے کے لیے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مصداق ثابت ہوگا۔

سری پائے کی تقسیم بہت مشکل کام

احمد شرف الدین کے مطابق اجتماعی قربانی کے عمل میں سری پائے کی تقسیم سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ کسی کو مغز یا بھیجا درکار ہوتا ہے، کوئی کم از کم دو پائے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اور کسی حصّےدار کو صرف گائے کی زبان درکار ہوتی ہے۔ جس کے زیادہ حصّے ہوتے ہیں۔ وہ مطالبہ کرتا ہے کہ اسے زیادہ پائے دیےجائیں۔ ایسے میں وہ پائے کے ٹکڑے کرکے تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اُنہیں یہ کہہ کر روک دیا جاتا ہے کہ اس طرح تو ہر حصّے دار کے حصّے میں پائے کے محض ایک یا دو ٹکڑے آئیں گے۔ اسی طرح مغز کو بھی تقسیم کرنے سے روکا جاتا ہے۔ 

ایک مرتبہ اس ضمن میں حصّے داروں کے درمیان نوبت تلخ کلامی تک جا پہنچی تھی۔ تاہم اس موقعے پر محلّے کے ایک بزرگ نے آگے بڑھ کر لوگوں کو سمجھایا کہ قربانی کے جانور کے گوشت اور ہڈّی کے معاملے پرجھگڑنا بہت بُری بات ہے۔ عید الاضحیٰ تو قربانی کا درس دیتی ہے۔ یہ معاملہ ایثار اور محبّت سے حل کرنا چاہیے۔ پھر انہوں نے مغز اور پائے کے ٹکڑے کرکے مساوی طور پر تمام حصّے داروں میں تقسیم کرنے کے لیے کہا۔ لیکن جوں ہی ٹکڑے کرنے کےلیے قصائی نے مغز اٹھایا، دو حصّے داروں نے اُسے ایسا کرنے سے روک دیا اور آپس میں طے کیا کہ کسی کو پائے، کسی کو مغز اور کسی کو زبان وغیرہ دے دی جائے۔ 

اس برس تو یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوگیا، لیکن اُس کے بعد ہر برس ان چیزوں کی تقسیم ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوتی ہے۔ تاہم تمام حصّے دار پھر خود ہی آپس میںیہ مسئلہ حل کرلیتے ہیں کہ کس کو کتنے پائے دیے جائیں، کون مغز لے جائے اور کس کے حصّے میں کتنی زبان آئے۔ اب انہوں نے یہ اصول باہمی رضا مندی سے طے کرلیا ہے کہ جس کے دوسے زاید حصّے ہوں گے اُسے ایک پایا دیا جائے گا۔ تاہم مغز کا معاملہ ہر برس حصّے دار خود طے کرتے ہیں۔

عجیب شرائط

اپنے محلّے میں اجتماعی قربانی کا اہتمام کرنے والے ایک شخص نے آن دی ریکارڈ مختلف باتیں کرنے کے بعد کچھ باتیں آف دی ریکارڈ اس شرط پر کیں کہ اُنہیں ان کے نام کے ساتھ تحریر نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ نام ظاہر ہونے پر ان کے محلّےداروں سے تعلّقات خراب ہو جانے کا خدشہ ہے۔ ان کے بہ قول وہ کئی برس سے چند محلّے داروں اور عزیزوں کے تعاون سے دوگایوں کی اجتماعی قربانی کا اہتمام کرتے چلے آرہے ہیں۔ ہر برس اُن کا واسطہ ایک عجیب مسئلے سے پڑتا ہے۔ اجتماعی قربانی میں حصّہ لینے والے دو محلّے دار ہر برس اُنہیں یاد دہانی کراتے ہیں کہ قربانی کا جانور کب اُن کے گھر کے سامنے باندھا جائے گا۔ 

مذکورہ افراد کی خواہش ہوتی ہے کہ کم از کم ایک روز تک قربانی کا جانور اُن کے گھر کے سامنے باندھا جائے۔ اُن میں سے ایک صاحب خا ص طور سے اپنی یہ شرط ہر برس دہراتے ہیں کہ عید سے ایک روز قبل صبح سے رات گئے تک جانور اُن کے گھر کے سامنے باندھا جائے گا۔ مذکورہ افراد یہ بہانہ کرتے ہیں کہ ان کے بچّے اور گھر والے جانور کو دیکھنا اور اس کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کام کے لیے وہ دن کیوں مخصوص کرتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ایک برس اس مسئلے پر حصّے داروں کے درمیان شکر رنجی بھی ہوگئی تھی ۔

اُس برس اجتماعی قربانی کا ایک پرانا حصّے دار کسی وجہ سے حصّہ نہیں لے سکا تھا، چناں چہ محلّے کے ایک اور شخص کو حصّے دار بنایا گیا۔ نئے حصّے دار نے بھی عید سے ایک روز قبل اپنے گھر کے سامنے جانور باندھنے کی فرمائش کی، تاہم یہ مسئلہ سکّہ اچھال کر طے کر لیا گیا تھا۔

بیش قیمت جانوروں کی قربانی

ایک جانب غریب ہیں اور دوسری جانب عیدالاضحی کے موقعے پر قربانی کے بعض جانور اور اُن کے خریدار ذرایع ابلاغ کی خصوصی توجّہ کا مرکزبنتے ہیں۔کسی جانور کے بارے میں خبر آتی ہے کہ وہ میوے، مکھن اور جلیبی کھاتا اور دودھ پیتا ہے، توکسی کے بارے میں اطلاع ملتی ہے کہ وہ چارپائی پر بیٹھتا اور صرف اپنے پالنے والے کے ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے۔ ایسے جانوروں کے نرخ دیگر جانوروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتے ہیِں، جو عموماً چار،پانچ لاکھ روپے سے شروع ہوکر دس ،بارہ لاکھ روپے تک ہوتے ہیں۔ اُنہیں خریدنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مال دار افراد ہوتے ہیں، جو بہت خوب صورت، صحت مند اور اعلیٰ نسل کے جانوروں کی قربانی کا شوق رکھتے ہیں۔

ان میں سے بعض افراد اپنے شوق کی تکمیل کےلیے شہر کی تمام مویشی منڈیاں اور کیٹل فارمزجاتے ہیں اور بعض افراد دیگر صوبوں اور شہروں تک کا سفرکرتے ہیں۔ ان میں سے بعض افراد عیدالاضحی سے کئی ماہ قبل اچھے جانوروں کی تلاش شروع کردیتے ہیں اور اپنے مطلب کا جانور ملنے پر اس کا سودا کرلیتے ہیں اور بعض ایک ہفتہ یا ایک ماہ قبل تلاش کا کام شروع کرتے ہیں۔ تاہم اب وٹس ایپ نے ایسے افراد کا کام کچھ آسان کردیا ہے۔

ایسے بیش قیمت جانور خریدنے والوں کی طرح انہیں دیکھنے کے شوقین افراد کی بھی کمی نہیں اور خریداروں کی طرح وہ بھی اپنے شوق کی تکمیل کے لیے کافی فاصلہ طے کرتے ہیں۔ ایک جانب یہ شوقین ہیں اور دوسری جانب ان کے ناقدین ہیں۔ ناقدین کے مطابق کچھ عرصے سے بیش قیمت جانوروں کی قربانی فیشن بنتی جارہی ہے اور اس ضمن میں باقاعدہ مقابلہ ہونے لگا ہے۔ 

چناں چہ اب بہت سے افراد شہرت حاصل کرنے اور اپنی دولت اور شان و شوکت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایسے جانور خریدتے ہیں جو لوگوں کی توجّہ کا مرکز بنیں۔ ممکن ہے کہ ایسے بعض افراد کے بارے میں یہ رائے درست ہو، لیکن بیش قیمت جانوروں کی قربانی کرنے والے ہر شخص کے بارے میں یہ بات درست نہیں کہی جاسکتی۔

امیروں اورغریبوں کے درمیان فرق پاکستان میں روزبہ روز بڑھتاجا رہا ہے۔ایسی صورتِ حال میں غریبوں کے لیے عیدالاضحی کے موقعے پر قُربانی کرنا تو دور کی بات ہے، وہ تو دو وقت کی روٹی کے لیے بھی پریشان رہتے ہیں۔پاکستانی میں طبقاتی تفریق پہلے اس قدر زیادہ اور اتنی نچلی سطح تک نہیں تھی، جتنی آج ہے۔چناںچہ اس برس بھی بڑی تعداد میں ہم وطن عیدِ قرباں پر بہت سی خوشیوں اور لذّتوں کے لیے ترستے رہیں گے اور دوسری جانب بہت سے گھروں میں تِکّے اور کباب بن رہے ہوں گے۔