• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تشدد کے بعد سمجھ نہیں آیا کہاں جاؤں، پارک چلی گئی، بیٹی افغان سفیر

اسلام آباد (آئی این پی / جنگ نیوز) افغان سفیر کی بیٹی نے پولیس کا جاری بیان میں کہا ہے کہ گھر سے کچھ فاصلے پر ٹیکسی میں سوار ہو کر شاپنگ کرنے گئی، واپسی پر ایک اور ٹیکسی میں سوار ہوئی کچھ دیر بعد ٹیکسی رک گئی، اچانک ایک شخص آکر گاڑی میں بیٹھ گیا اور بیٹھتے ہی تشدد کرنا شروع کیا جس کے باعث میں بیہوش ہوگئی، جب آنکھ کھلی تو گندگی کے ڈھیر پر تھی، گھر کے بجائے پارک چلی گئی، بعد ازاں والد کے آفس عملے کو بلایا اور وہ مجھے گھر لے گیا۔ 

تفصیلات کے مطابق افغان سفیر نجیب اللہ کی بیٹی نے پولیس کو جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ اپنے بھائی کے لئے تحفہ لینے وہ گھر سے تنہا پیدل گئی تھیں اور ’ایک ٹیکسی والے نے کہا کہ اسے دکان کا پتا ہے اور مجھے لے جاسکتا ہے۔ میں رضا مند ہوگئی‘۔

’تحفہ خریدنے کے بعد میں (واپسی کے لیے) ٹیکسی ڈھونڈ رہی تھی۔ ایک ٹیکسی میرے سامنے رُکی، میں اس میں بیٹھ گئی۔ قریب پانچ منٹ چلنے کے بعد یہ ٹیکسی رکی اور ایک مزید شخص کو بٹھا لیا۔‘ 

ان کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے شکایت کرنے پر اس شخص نے ان پر تشدد دیا اور ان کے والد کا ذکر کرتے ہوئے انھیں دھمکیاں دیں۔ ’میں اتنی ڈر گئی تھی کہ میں بے ہوش ہو گئی۔‘ 

انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کی آنکھ جب کھلی تو وہ گندگی کے ڈھیر میں لیٹی ہوئی تھیں مگر وہ سڑک دیکھ سکتی تھیں۔’گھر پر ملازمین تھے اس لیے مجھے سمجھ نہیں آیا کہ کہاں جاؤں۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ مجھے ایسی حالت میں دیکھیں۔ 

تو میں نے ایک ٹیکسی سے کہا کہ مجھے (ایف نائن) پارک لے جائے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ایف نائن پارک سے ’میں نے اپنے والد کے ایک ساتھی کو بلایا اور وہ مجھے گھر لے گئے۔‘

تازہ ترین