• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمارتیں ڈیزائن کرنے کا ایک نیا انسان دوست تصور

کرسٹوفر الیگزینڈر اپنی 4جلدوں پر مشتمل شہرہ آفاق کتاب "The Nature of Order"میں ایک ایسے تعمیراتی ڈیزائن کی بات کرتے ہیں ، جہاں عمارت اور فطرت انسانی ضروریات اور حسِ ادراک سے مطابقت میں ہے۔ یہ ناصرف دنیا کو دیکھنے بلکہ اس سے (اور خود سے بھی) جڑنے کا ایک نیا نظریہ اور انداز ہے۔ کرسٹوفر الیگزینڈر اسے انٹیلی جنٹ آرکیٹیکچر کا نام دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تعمیراتی ڈیزائن کا قدیم نظریہ بھی یہی تھا، جسے دنیا نے ترقی کے نام پر فراموش کردیا ہے۔

انٹیلی جنٹ آرکیٹیکچر بنیادی طور پر ایک عمارت یا شہری ماحول کو جانچنے کا طریقہ ہے کہ آیا وہ ہماری جذباتی صحت (ایموشنل ہیلتھ)کے لیے اچھا ہے یا بُرا۔ جی ہاں، ایک عمارت کئی سطحوں پر اچھی یا بُری ہوسکتی ہے۔ لوگوں کو یہ جاننے کے لیے کسی ماہر سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایک عمارت اچھی ہے یا بُری۔ وہ اس سوال کا جواب خود ہی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک عمارت اچھی ہے یا بُری، یہ جاننے کے لیے کرسٹوفر الیگزینڈر نے اپنی کتاب میں ایک طریقہ بتایا ہے، جسے وہ ’مِرر آف دی سیلف ٹیسٹ‘کا نام دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، آپ خود سے صرف ایک سوال کریں: ’یہ عمارت مجھے زندگی کا زیادہ احساس دِلا رہی یا کم‘؟

یہاں سوال کی مخصوص نوعیت کو ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ نہیں پوچھا گیا کہ: ’کیا آپ اس عمارت کو پسند کرتے ہیں‘؟ یا ’کیا یہ عمارت آپ کو ہیجان کا احساس دِلا رہی ہے‘؟ کیونکہ یہ سوالات ابہام کی طرف لے جائیں گے۔ پسند اور ناپسند انفرادی ترجیحات کا حصہ ہوتی ہیں اور ان کے تعین میں بیرونی عناصر کارفرما ہوتے ہیں۔ بیرونی عناصر میں پروپیگنڈا ایک بڑا جزو ہے، جو فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتا ہے۔

اسی طرح جذباتی ہیجان بھی دو کیفیات، لُطف (Pleasure)یا انتباہ (Alarm) کے باعث پیدا ہوسکتا ہے، اور اکثراوقات اس ردِعمل کی اصل وجہ جاننا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے بجائے کرسٹوفر الیگزینڈر کا تجویز کردہ سوال ہمارے نیم شعور کے ان گہرے دریچوںکو ٹٹولتا ہے، جسے انسانی ذہانت کہا جاتا ہے، جس کے بعد ہم ایک عمارت کو اپنے اندر کی وضع سے دیکھتے ہیں۔ کرسٹوفر الیگزینڈر کا انٹیلی جنٹ آرکیٹیکچر ہماری عصبی ساخت کو ہمارے تعمیراتی ماحول سے جوڑتا ہے۔

ایک اور سوال عمارت کے ربط یا باہمی وصل (Coherence)کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ سوال انتہائی پیچیدہ نظر آنے والی عمارتوں کے ربط کو جانچنے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ کسی بھی عمارت کے کسی ایک تعمیری حصے، جیسے دیوار، ستون، کھڑکی، کارنس وغیرہ کو دیکھیں اور خود سے ایک سوال پوچھیں:

’اگر میں اس ٹکڑے کی جگہ تبدیل کردوں یا اس کی شکل بڑی حد تک بدل دوں یا پھر اسے اس جگہ سے ہٹا دوں، تو کیا اس سے عمارت کی مجموعی پائیداری متاثر ہوگی‘؟

ایک اچھی عمارت میں اس کے حجم کے قطع نظر، ہر سوال کا جواب ’ہاں‘ میں ہوگا۔ ایک اچھی عمارت میں، اس کا ہر ایک حصہ، وہیں ہوتا ہے، جہاں اصولاً اسے ہونا چاہیے اور اس کی شکل اور مواد، عمارت کے مجموعی ربط پر مہر ثبت لگاتے ہیں۔ یہ عمارت کے ایکے اور تصرف پذیری کی علامت ہوتا ہے، جسے اس کی ساخت یا رسمی ماڈل سے گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔

ایک بے ربط عمارت میں، اس کے مختلف حصے ایک دوسرے سے لاتعلق معلوم ہوتے ہیں اور ان کی حیثیت محض ایک نمائشی ٹکڑے کی سی ہوتی ہے، جسے اس کی جگہ سے ہٹانے یا اس میں بڑی تبدیلی لانے سے عمارت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

انسان جب مادی دنیا (تعمیراتی ماحول جس کا حصہ ہے) سے رابطے میں آتا ہے تو اس کی کچھ بنیادی ضروریات ہوتی ہیں۔ ایک تعمیر شدہ ماحول جینیاتی حساب و شمار، ڈارون کے نظریہ ارتقاء کا عمل دخل اور قوت شعری کے مطابق کام کرتا ہے۔ ہم ان تصورات کو آرکیٹیکچرل زبان میں بیان کرسکتے ہیں، جنھیں آرکیٹیکٹس اپنے کام میں بہتری لانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

انسان جب آرکیٹیکچرل ڈیزائن میں حیاتیات، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کو لاگو کرتا ہے تو یہ انسانی تجربے میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ انسانی دماغ انتہائی پیچیدہ اور اعلیٰ نوعیت کے حساب کتاب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور فوری طور پر ایک عمارت کے جیومیٹریکل ربط کا اندازہ لگالیتا ہے۔

اس ارتقائی سیڑھی میں دماغ کا پیچیدہ عصبی نظام (نیورونل سسٹم) آتا ہے، جو ذہانت کو جنم دیتا ہے۔ انسان اس عصبی نظام میں معلومات کو اکٹھا کرنے کے علاوہ ، اکثر اپنے ارد گرد موجود تعمیراتی ماحول کو بھی توسیعی حیاتیاتی یادداشت کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ کتب، فن پارے، نغمے، زیبائش اور سماجی ہندسی نمونے، ایک ثقافت کی ’اجتماعی یادداشت‘ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ نمائندہ یادداشت، صدیوں سے روایتی عمارتوں کی صورت میں آرکیٹیکچر کی رہنمائی کرتی آئی ہے۔ اسی طرح، اجتماعی یادداشت ثقافت اور تہذیب کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔ 

تاہم، ایسے مشاہدات کو صرف حال ہی میں جینیاتی بنیادوں پر دیکھا گیا ہے۔ تعمیراتی علم جو تعمیراتی ماحول کی صورت میں سامنے آتا ہے، نا صرف پیچیدہ ہے بلکہ ناقابلِ تخفیف بھی ہے، جس کے باعث اسے سادہ بناکر تحریری شکل میں منتقل کرنا مشکل ہے۔ الیگزینڈر نے ’پیٹرن لینگویج‘میں یہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہرچندکہ، آرکیٹیکچر کی دنیا ان کے اس نظریے سے خوفزدہ نظر آتی ہے، تاہم ان کے اس نظریہ کو مختلف پیچیدہ آرکیٹیکچرل سوفٹ ویئرز تیار کرنے میں استعمال کیا جارہا ہے۔

جب ہم روایتی تعمیراتی ماحول کو انسانی یادداشت کی خارجی شکل یا توسیع کے طور پر دیکھنا شروع کرتے ہیں، تب جاکر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ حیاتیات کس پیچیدگی سے آرکیٹیکچر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان دوست آرکیٹیکٹس، ایک ڈیزائن تیار کرتے وقت، اس سے متعلق اپنے جذبات و تاثرات اور اس کےساتھ جُڑی ثقافت کے حوالے سے حساس رہتے ہیں۔