• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجٹ خسارے کا ابتدائی تخمینہ جی ڈی پی کا 7.5 فیصد یعنی 34 کھرب 10 ارب روپے

اسلام آباد (مہتاب حیدر) بجٹ خسارے کا ابتدائی تخمینہ جی ڈی پی کا 7.5 فیصد یعنی 34 کھرب 10 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سال میں بجٹ خسارہ یقینی طور پر پہلی مرتبہ جی ڈی پی کے 8 فیصد سے کم رہے گا۔ تفصیلات کے مطابق، پاکستان کے بجٹ کے خسارے کا ابتدائی تخمینہ جی ڈی پی کا 7.5 فیصد لگایا گیا ہے، جب کہ مالی سال 2020-21 کے لیے نظرثانی شدہ ہدف جی ڈی پی کا 7 فیصد رکھا گیا تھا، جس کی وجہ آمدنی میں کمی اور اخراجات میں اضافہ تھا۔ بجٹ خسارے کو ملک کے مجموعی محصولات اور اخراجات کے مابین مجموعی فرق کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے جو کہ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے اب تک جی ڈی پی کا 8 فیصد رہا ہے۔ بجٹ خسارے کو ملک کی معیشت کے لیے برا سمجھا جاتا ہے کیوں کہ اسے ملکی اور بیرونی قرضوں کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے۔ اعلیٰ حکام نے دی نیوز کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہمارے بجٹ خسارے کا ابتدائی تخمینہ جی ڈی پی کا 7.5 فیصد لگایا گیا تھا جو کہ 34 کھرب 10 ارب روپے بنتا ہے، جب کہ اس کا نظرثانی شدہ ہدف جی ڈی پی کا 7 فیصد رکھا گیا تھا جو کہ 31 کھرب روپے بنتا ہے۔ بجٹ خسارے کے حتمی ضمنی اعدادوشمار کا اجرا جلد کیا جائے گا اور یہ گزشتہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی کا 7 سے 7.5 فیصد کے درمیان رہے گا۔ اس کا بڑا انحصار تین عوامل پر ہوتا ہے، ان میں ترقیاتی فنڈز کا استعمال، صوبوں کا جمع کیا گیا ریونیو سرپلس اور شماریاتی تضاد سے متعلق اعدادوشمار۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بجٹ خسارہ بالخصوص بنیادی خسارے کو کسی بھی قرض لینے والے ملک کی اقتصادی حالت کے حوالے سے کلیدی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ گزشتہ مالی سال 2020-21 میں بنیادی خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کا منفی 0.5 فیصد رکھا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کے گزشتہ 3 سالہ دور حکومت میں پاکستان کا بجٹ خسارہ بلند رہا ہے اور مالی سال 2018-19 میں یہ جی ڈی پی کا 8.9 فیصد یعنی 3444 ارب روپے رہا۔ جب کہ مالی سال 2019-20 میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 8.1 فیصد یعنی 3375 ارب روپے رہا۔ اب حکومت نے رواں مالی سال 2021-22 کے لیے بجٹ خسارے کو 34 کھرب 20 ارب روپے تک محدود کرنے پر توجہ مرکوز کرلی ہے، جس میں صوبوں کے پیدا کردہ 570 ارب روپے کو بطور ریونیو سرپلس کے طور پر رکھا جائے گا۔ صوبوں کے ریونیو سرپلس کے بغیر وفاقی بجٹ خسارہ 3990 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ گزشتہ مالی سال کی ابتدائی تین سہ ماہی (جولائی تا مارچ) میں ملک کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.6 فیصد یعنی 1652 ارب روپے رہا۔ جب کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں بنیادی توازن جی ڈی پی کا مثبت 1 فیصد رہے۔ پاکستان کے بجٹ خسارے کو کسی بھی مالی سال کی پہلی اور دوسری ششماہی میں 40:60 کی شرح پر تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ بجٹ دستاویز 2021-22 میں ظاہر کردہ اعدادوشمار کے مطابق ایف بی آر نے جو ٹیکس جمع کیا وہ 4732 ارب روپے تھا، جب کہ مقررہ ہدف 4963 ارب روپے تھا، اس طرح 231 ارب روپے کی کمی رہی۔ وزارت خزانہ نے تخمینہ لگایا تھا کہ صوبے 242 ارب روپے بطور ریونیو سرپلس بنائیں گے اور یہ بجٹ خسارے کو 7.5 فیصد تک محدود رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں گزشتہ تین سال میں بجٹ خسارہ یقینی طور پر پہلی مرتبہ جی ڈی پی کے 8 فیصد سے کم رہے گا۔

اہم خبریں سے مزید