• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا وائرس کی صورتِ حال کے بعد پاکستان سے چین، یورپ اور امریکا تجارتی مال کی آمدورفت کئی گنا مہنگی ہو گئی۔

شپنگ لائنز کا منافع بلند ترین سطح پر آ گیا ہے، عالمی شپنگ فریٹ ایک سال میں تقریباً 250 فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔

کورونا وائرس کی وباء کے بعد چین سے امریکا بحری جہازوں کے کرایے 5 گنا بڑھ گئے۔

بعض ماہرین کے مطابق یہ سب کنٹینرز کی قلت کے سبب ہے لیکن دوسری طرف عالمی شپنگ لائنز کا نفع تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

پاک چین تجارت کے لیے کنٹینر کا کرایہ 250 ڈالر سے بڑھ کر 900 ڈالر کی سطح کو چھو گیا ہے۔

پاکستان کا آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے لیے کرایہ 1000 ڈالر کی سطح سے بڑھ کر 4000 ڈالر ہو چکا ہے۔

عالمی سطح پر تاجر شکایت کر رہے ہیں کہ شپنگ لائنز 48 گھنٹے کے اندر بکنگ کینسل ہونے کے بھی کئی سو ڈالرز وصول کر رہی ہیں۔

جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف بندر گاہوں کے لیے اگست 2020ء کے مقابلے میں شپنگ فریٹ بہت بڑھا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاطینی امریکا اور کچھ افریقی بندرگاہوں کے لیے کرائے 500 فیصد تک بھی بڑھے ہیں۔

پاکستا ن سمیت تیسری دنیا کے ممالک شپنگ لائنز سے وضاحت طلب نہیں کرتے، لیکن امریکی فیڈرل میری ٹائم کمیشن نے 8 شپنگ لائنز سے سر چارجز اور دیگر شکایات پر پوچھ کچھ شروع کر دی ہے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ نامناسب کرایے ثابت ہونے پر ایکشن لیا جا سکتا ہے۔

تجارتی خبریں سے مزید