اسلام آباد(خصوصی نامہ نگار،خصوصی نمائندہ) تھانہ بنی کے علا قے میں واقع رفاعی ہسپتال میں پیدائش کے عمل کے دوران ڈاکٹر نے مبینہ غفلت سے نومولود بچے کی گردن مبینہ طور پر کاٹ ڈالی، پولیس نے بچے کے والد محمد بلال کی رپورٹ پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ۔ ،بچے کے والد کے مطابق اس کی بیوی کو گزشتہ رات رازی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں بچہ پیدا ہوا ، لیڈی ڈاکٹر نے دوران ڈلیوری کمسن بچے کی گردن کاٹ ڈالی۔ ہسپتال کے مینیجر عبدالحمید نے جنگ کو بتایا کہ خاتون کی ڈلیوری ابنارمل تھی،بچے کے والدین کو بتایا گیا تھا کہ بچے کی پیٹ میں ہی موت واقع ہو چکی ہے ،آپریشن سے نکالا جا ئے گا۔بچے کو جب مردہ حالت میں والدین کےحوالے کیا گیا اس کی گردن پر کوئی کٹ یا زخم نہیں تھا ،چار گھنٹوں بعد بیسوں افراد نے ہسپتال پر حملہ کر دیا نہ صرف ڈاکٹروں اور عملے کو زدو کوب کیا بلکہ ہسپتال کو نقصان بھی پہنچایا ۔مینیجر کے مطابق ہسپتال ایک رفاعی ادارہ ہے ،جہاں روزانہ تین درجن سے زائد بچے جنم لیتے ہیں،واقعہ ادارے کو بد نام کرنے کی ایک سازش ہے ،پولیس کو ادارے کی طرف سے بھی درخواست دی گئی ہے ۔راولپنڈی پولیس کے ترجمان کے مطابق تھانہ بنی کے علاقہ میں واقع ہسپتال میں پیدائش کے دوران بچے کی وفات پرمعاملے پر ڈاکٹرز کے بیانات کے مطابق بچہ مردہ پیدا ہوا۔پیدائش کے وقت بچے کی گردن کٹی ہوئی تھی ۔ ادھر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ الخدمت رازی ہسپتال ڈاکٹر عثمان ظفر نے کہا ہے کہ ہاسپٹل میں بچے کی پیدائش بغیر آپریشن نارمل طریقے سے ہوئی اور بچہ مردہ پیدا ہوا، والدین کو چھ ماہ قبل پیدائشی بیماری کے حوالے سے آگاہ کر دیا گیا تھا جس میں ہاتھ لگانے سے جلد پھٹ جاتی ہے بچے کوگھر لے کر جانے کے بعد بچے کی جلد پر بیماری کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوئے جس سے والدین کو محسوس ہوا کہ بچے کی گردن کٹ گئی ہے جویقینی طور پر اس کی بیماری کے سبب ممکن تھا، جس پر اہلخانہ پریشانی کے عالم میں دیگر افرادکے ہمراہ ہاسپٹل آئے دراز ہ تو ڑا، عملے کو تشدد کانشانہ بنایا جس پر پولیس کو کال کی گئی ۔اہلخا ن کی تسلی کے لیے ہمارے مشورے پر مردہ نومولود بچے کا گورنمنٹ ہاسپٹل ہولی فیملی سے پوسٹ مارٹم بھی کروایا جارہا ہے ۔