• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ گیارہ جون 2021کی بات ہے۔ اس روز سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ نے کراچی کے باسیوں کو خوش خبری سنائی تھی کہ رواں برس کے آخر تک ڈھائی سو بسیں شہر کی سڑکوں پر آجائیں گی۔ ذرایع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے پانچ اضلاع کے لیے ٹرانسپورٹ لا رہے ہیں۔ نئے منصوبے کی بات نہیں کر رہا۔ منصوبے کے لیے بڈنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے اورریڈ لائن کی شروعات جلد ہو جائے گی۔ منصوبوں کی تاخیر کی وجہ پر نہیں جانا چاہتا، میری ٹیم نے دو سال میں منصوبہ بنایا ہے۔

یہ درست ہے کہ دنیا کے بہت سے بڑے شہروں میں نقل و حمل کے ذرایع کے ضمن میں مختلف مسائل موجود ہیں، لیکن کراچی کا حال بہت زیاہ بُرا ہے۔ شہروں کی حدود اور آبادی میں تیزی سے اضافے اور موٹر گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے بہ راہ راست پائے دار ترقی کو متاثر کیا ہے۔ شہروں میں نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والے ذرایع کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔

ذرائع نقل و حمل اور شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کے مطابق کراچی کے مخصوص حالات اور مسائل کے تناظر میں پائے دار نظامِ نقل و حمل کے اصول اپنانا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق شہر کےغیر مؤثر اور فرسودہ نظامِ نقل و حمل، بڑھتی ہوئی آبادی اور گھر کے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ معاشی سرگرمیاں کرنے پر مجبور لوگوں کےلیے ذاتی سواری کا مالک بننے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ 

دوسری جانب ٹریفک مینجمنٹ کا غیر مؤثر اور فرسودہ نظام ہے۔ شہر کی سڑکوں پر بڑی تعداد میں چلنے والی کافی پرانی اور ایسی گاڑیاں ہیں جن کی مناسب انداز میں دیکھ بھال نہیں کی جاتی۔ شہر کی اراضی کا نامناسب استعمال اور ٹرانسپورٹ سے متعلق نامناسب منصوبہ بندی جیسے مسائل ہیں۔ ان تمام وجوہ کی بناء پر مسافر شدید مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، سڑکوں پر طویل وقفوں کے لیے ٹریفک کی روانی میں خلل پڑتا رہتا ہے، سفر کا دورانیہ اور ایندھن کا خرچ بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں کئی سماجی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی تشویش ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ صرف بیالیس فی صد مسافروں کو خدمت فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے اور دنیا کے تیسرے سب سے بڑے شہرکی خستہ حال اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ظاہر کرتی ہیں کہ میگا سٹی 'سیاسی طور پر یتیم ہے۔ 2019میں دنیا کے سو بڑے شہروں کے سروے میں انکشاف ہوا کہ کراچی ان شہروں میں شامل ہے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا بدترین نظام ہے۔ اس شہر میں چلنے والی بسیں کئی دہائیوں پرانی ہیں ،ان میں بے پناہ رش ہوتا ہے اوراکثر مسافروں کو چھت پر بیٹھ کر سفر کرنا پڑتا ہے۔ کراچی میں گرین لائن بس کے منصوبے پر کام کا آغاز فروری 2016 میں ہوا تھا جو تاحال مکمل نہیں ہوسکا ہے۔

کراچی کا ٹرانسپورٹ کا نظام جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیےدس بارہ برس میں بسوں کے متعدد منصوبوں کا اعلان کیا گیا، لیکن یا تو وہ کبھی شروع نہیں ہوئے یا کچھ عرصے سے زیادہ برقرار نہیں رہ سکے۔ واضح رہے کہ کراچی کا ٹرانسپورٹیشن کا موجودہ نظام سفر کے طویل وقت، پرائیویٹ اور پیرا ٹرانزٹ طریقوں میں اضافے، ٹریفک کے کم زور انتظام اور پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کی وجہ سے اس مقصد کے لیے ٹھیک قرار نہیں دیا جاسکتا۔ شہر میں ٹرانسپورٹ سروسز، غیر رسمی پیرا ٹرانزٹ وہیکلز اور چار ہزار کے قریب نجی بسوں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں جس سے روزانہ اٹھائیس لاکھ مسافر مستفید ہوتے ہیں۔ یہ غیر منظم سروسز بے قاعدہ ہیں جن میں شیڈول، اسٹاپس کی کمی ہیں اور صارفین کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔

مسئلے کی بنیاد سمجھیں

کراچی میں ٹرانسپورٹ کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس ضمن میں بنیادی نکات کو ذہن میں رکھا جائے۔ بنیادی طور پر اس شہر کے دو مراکز ہیں جس میں سے ستّر فی صد تجارتی سرگرمیاں، خوردہ فروشی اور شخصی خدمات کی فراہمی کی تقریباً نصف سرگرمیاں وسطی تجارتی ضلع جنوبی (سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ) میں ہوتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر اور تھوک فروشی کے شعبوں کی پچاس فی صد ملازمتوں کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ 

دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کراچی کی آبادی کے بہت بڑے حصے کو روزانہ معاشی سرگرمیوں کےضمن میں ایک سے دوسرے کونے تک سفر کرنا پڑتا ہے یا بہت زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب 2002ء میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق شہر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد میں آبادی کے مقابلے میں دگنی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔ شہر میں رجسٹرڈ کُل گاڑیوں میں موٹر کارز اور موٹر سائیکلز کی تعداد بہت نمایاں ہے اور ان کا مجموعہ بانوے فی صد ہے۔ باقی چھ فی صد نیم سفری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی اور دو فی صد پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں ہیں۔

کراچی کو ترقی دینے کے لیے 1949ء سے اب تک پانچ ترقیاتی منصوبے تشکیل دیے گئے، مگر ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ اس صورت حال کی وجہ سے کراچی بنیادی سہولتوں کے لحاظ سے آج بھی بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ ان میں سے ایک بہت اہم مسئلہ ٹرانسپورٹ کا بھی ہے۔

رہائشی آبادیوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی نہ ہونے اور رہائشی اکائیوں کی کمی کی وجہ سے شہر کی آبادی کا تقریباً پچپن فی صد حصہ کچی آبادیوں میں رہتا ہے۔ یہ آبادیاں کاروبار اور روزگار کے بڑے مراکز سے بہت فاصلوں پر واقع ہیں۔ ان آبادیوں کے مکینوں کا شمار غریبوں میں ہوتا ہے جو زیادہ کرایہ ادا کرنے کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے کم درجے کی مسافر بردار گاڑیوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر نے مسافر بردار گاڑیوں کے پورے نظام پر بہت زیادہ بوجھ ڈال دیا ہے۔ 

سرکلر ریلوے کے 1999ء میں مکمل طور پر بند ہونے کے بعد شہر میں نقل و حرکت کا سارا بوجھ سڑکوں پر آگیا ہے۔ چناںچہ ملک میں چلنے والی تمام موٹر گاڑیوں کا تینتیس فی صد حصہ اس شہر کی سڑکوں پر چلتا ہے۔ شہر کے پچاس فی صد مسافر، مسافر بردار بسوں اور منی بسوں میں سفر کرتے ہیں۔ ان حالات میں شہر میں چلنے والی مسافر بردار گاڑیوں میں مسافروں کے مقابلے میں دست یاب نشستوں کا تناسب ایک اور چالیس کا ہے۔ ممبئی میں یہ تناسب ایک اور بارہ کا اور ہانگ کانگ میں ایک اور آٹھ کا ہے۔ اس تناسب کی وجہ سے ہمیں شہر کی سڑکوں پر بڑی تعداد میں ایسی مسافر بردار گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آتی ہیں جن کی چھتوں پر بیٹھ کر اور جنگلوں اور پائے دانوں پر لٹک کر لوگ سفر کررہے ہوتے ہیں۔

ریل بیسڈ ماس ٹرانزٹ نظام سے محروم دنیا کا واحد میگا شہر

کراچی دنیا کا واحد ایسا میگا شہر ہے جہاں ریل بیسڈ ماس ٹرانزٹ نظام نہیں ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے کا آغاز 1964ء میں ہوا تھا۔ اس وقت شہر کی جوحدود اور آبادی تھی اس کا بڑا حصہ اس نظام کے تحت تھا۔ لہٰذا اندرون شہر سفر کرنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ یہ نظام استعمال کرتے تھے۔ اس وقت سرکلر ریلوے موثر اور سستا ذریعہ سفر تھا، چناںچہ 1978ء تک روزانہ تقریباً تین لاکھ افراد سرکلر ریلوے کے ذریعے سفر کرتے تھے۔ لیکن 1979 سے کے سی آر کا نظام تباہ ہونا شروع ہوگیا۔ 

ماہرین کے مطابق اس تباہی کی وجوہ اس نظام سے حکومت کا اغماص برتنا، اس کے بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال سے صرف نظر، اسے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کرنے کا جذبہ، 23؍لیول کراسنگ کی وجہ سے ریل گاڑیوں کا وقت مقررہ پر اسٹیشنزپرنہ پہنچنا اور ٹرانسپورٹ مافیا اور متعلقہ سرکاری حکام کی ملی بھگت تھی۔ پاکستان ریلویز کے ریکارڈز کے مطابق 1970ء کی دہائی میں کے سی آر کے تحت چلنے والی ریل گاڑیاں روزانہ 104 چکر لگاتی تھیں، لیکن 1990ء میں یہ تعداد یومیہ ایک چکر تک آگئی تھی جس کی وجہ سے ریلوے کو سالانہ 60؍لاکھ روپے کا خسارہ ہونے لگا تھا، چناںچہ کے سی آر بالآخر بند کردی گئی۔

کراچی سرکلر ریلوے کی بہ تدریج تباہی کے نتیجے میں اس کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں نے روزانہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے متبادل ذرایع تلاش کرلیے۔ اس صورت حال میں شہر کے مختلف علاقوں سے وقفے وقفے سے بسوں، منی بسوں اور کوچز کے نئے روٹس کا آغاز ہوا۔ لیکن چوں کہ ابتدا ہی سے کراچی کو ترقی دینے کے لیے موثر منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی اور شہر میں ٹرانسپورٹ کا نظام بھی اسی قسم کی صورت حال کا شکار رہا، لہٰذا شہر کاری اور ٹرانسپورٹ کا نظام، دونوں، غیر منظم انداز میں آگے بڑھے۔ اس کے نتیجے میں شہر میں کھٹارہ مسافر بردار گاڑیوں کا ڈھیر لگ گیا اور جو نئی گاڑیاں آئیں ان کی فٹنیس چیک کرنے کا نظام رشوت ستانی کی نذر ہونے کی وجہ سے مالکان نے ان کی مناسب انداز میں دیکھ بھال کرناچھوڑدیا۔

صرف کاغذی منصوبے

ایک اسکیم شہر میں منی بسوں کی تعداد کم کرکے ان کی جگہ بڑی بسیں چلانے کے بنیادی نکتے کے تحت تشکیل دی گئی تھی۔ اس اسکیم کے تحت ماحول دوست ایندھن کا استعمال کرنے والی ، آرام دہ اور سفر کے لیے محفوظ بسیں متعارف ہونی تھیں۔ چناںچہ شہر میں ایسی تین سو بسیں دس بارہ برس قبل درآمد کی گئی تھیں، لیکن بعد ازاں وہ ناقص منصوبہ بندی اور غیر مؤثر حکمت عملی کی وجہ سے سڑکوں سے غائب ہوگئیں۔ اس کے بعد شہر میں پچھہتّر نئی گرین بسیں متعارف کرائی گئیں، مگر وہ بھی مسائل کا شکار ہوکر سڑکوں سے غائب ہوگئیں۔ 

ان کے لیے ٹکٹ کے اجراء کا جونظام بنایا گیا تھا ،وہ دو تین ماہ میں ہی ناکام ہوگیاتھا۔ آج ان کے اکثرٹکٹ بوتھ سرے سے غائب ہوچکے ہیں اور جو موجود ہیں وہ مسافروں کو منہ چڑاتے ہیں۔ آگے چل کر ان بسوں کو ٹھیکے پر دے دیا گیا تھا۔ ان بسوں کے کنڈیکٹرز اور ڈرائیورزنے کچھ عرصہ تو باقاعدہ یونی فارم پہنا ،لیکن پھر وہ پرانے رنگ ڈھنگ پر آگئے تھے۔ 

وہ جگہ جگہ رکتی اور مسافر اٹھاتی تھیں۔ ان کے خودکار دروازے زیادہ تر کھلے رہتے اور پائے دان پر مسافر کھڑے ہو کر سفر کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔اور مسافر بری طرح ٹھنسے ہوئے ہوتے۔ اس اسکیم کے تحت شہر میں ایسی پانچ ہزار بسیں چلنا تھیں، لیکن برسوں گزر جانے کے باوجود اب تک ایسی چند سو بسیں بھی شہر کی سڑکوں پر نہیں آسکی ہیں۔

برسوں قبل کراچی میں کراچی پبلک ٹرانسپورٹ اسکیم اور اربن ٹرانسپورٹ اسکیم کے تحت بھی کوسٹرز ،بسیں اور ٹیکسیاں چلائی گئی تھیں۔ کراچی کےایک آدھ روٹ پر کے پی ٹی ایس کے تحت کوسٹرز آج بھی چل رہی ہیں، مگر ان کی حالت بھی خراب ہو چکی ہے، ٹیکسی سروس صرف ایئر پورٹ سے چلتی ہے۔ یو ٹی ایس کے تحت پہلے پہل کئی روٹس پر بڑی بسیں چلی تھیں، لیکن اب ان میں سے بیش تر روٹس بند ہوچکے ہیں اورصرف ایک روٹ پر خستہ حال بسیں چل رہی ہیں۔

منصوبے اور ان کے اثرات

کراچی میں دو شہری حکومتوں کے ادوار میں سڑکوں اور بالائی گزرگاہوں کے کئی بڑے منصوبے مکمل کیے گئے، بالخصوص دوسرے دور حکومت میں ،لیکن شہر کی سڑکوں پر مسافر بردار گاڑیوں میں روزانہ طویل فاصلے طے کرنے والے متعدد افراد یہ شکایت کرتے ہیںکہ ان منصوبوں کی وجہ سے ان کے سفر کے دورانیے پرنہ ہونے کےمساوی اثر پڑا ہے۔

دوسری جانب شہری منصوبہ بندی اور اربن ٹرانسپورٹ کے امور کے ماہرین کا یہ موقف ہے کہ دنیا کے کئی میگا شہروں کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ وہاں طویل اور کشادہ سڑکوں اور بڑی تعداد میں بالائی اور زیر زمین گزر گاہوں کی تعمیر پر خطیر رقوم خرچ کرنے سے ٹریفک کے اژدہام اور گاڑیوں کی رفتار پر قابل ذکر اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ وہ اس ضمن میں بیجنگ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہاں مذکورہ تمام اقدامات کے باوجود 1994ء میں گاڑیوں کی اوسط رفتارپینتالیس کلو میٹر فی گھنٹہ تھی جو 2005ء میں کم ہو کردس کلو میٹر فی گھنٹہ رہ گئی تھی، بالخصوص دوسرے اورتیسرے رنگ روڈز پر۔

یاد دہانی کے طور پر عرض ہے کہ کراچی کے ریل بیسڈ ماس ٹرانزٹ ماسٹر پلان کے تحت سرکلر ریلوے کی بحالی کے ساتھ تین مرکزی کوریڈورز کی نشان دہی کی گئی تھی اور سرکلر ریلوے کو اس کا لازمی جزو قرار دیا گیا تھا۔ان تین کوریڈورز کے کچھ حصے سطح زمین سے بلند اور کچھ زیر مین تجویز کیے گئے تھے، ان کے ساتھ کراچی سرکلر ریلوے کی پچاس کلومیٹر طویل لائن کی بحالی کا بھی منصوبہ بنایا گیا تھا۔لیکن کراچی کا وہ منصوبہ ہی کیا جو مکمل ہوجائے اور موثر ثابت ہو۔

مسئلے کے حل کے لیے ماہرین کی تجاویز

٭ ملازمتوں کے اور رہایشی مراکز کے درمیان طویل فاصلے کم کرنےکے لیے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں حد سے زیادہ ترقی پر قابو پایا جائے۔ اس کے لیے شہر میں سرگرمیوں کا ارتکاز کم کیا جائے یا مرکزیت ختم کی جائے۔ کثیر المقاصد کاروباری مراکز قائم کرکے نئے شہری اورنواحی علاقے قائم کیے جائیں۔ یہ کثیرالمقاصد کاروباری مراکز تیزی سے ترقی کے بنیادی اصولوں کے تحت قائم کیے جائیں، وہاں ملازمتوں اور رہایش کے مراکز کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔ ان علاقوں کا شہر کے مراکز سے نقل و حمل کے کئی ذرایع کی مدد سے رابطہ قائم ہو اور اس مقصد کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے سفر کو ممکن بنانے کے لیے ٹرانزٹ سسٹم تشکیل دیا جائے۔

٭ کراچی میں مربوط ٹرانسپورٹ کے نظام اور لینڈ یوزپلان نہ ہونے کی وجہ سے یہاں مختلف ادارے ماحولیاتی نظام، وسائل، سماجی اور معاشی اشاریوں کو مدنظر رکھےبغیراورآپس میں موثر رابطے کے بغیر ترقیاتی سرگرمیاں کرتے ہیں۔ 

شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کے مطابق شہر کے مختلف ڈھانچے (یعنی اراضی کے استعمال کے مختلف طریقے) مختلف انداز کے ٹرانسپورٹ کے نظام کے متقاضی ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں بڑے بڑے شہر اسی نکتے کے تحت ترقی کرتے ہیں۔ اس طرح اربن ٹرانسپورٹ سسٹم کی کارکردگی موثر ہوتی ہے، ماحول پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے اور شہر کے وسائل پر حد سے زیادہ دبائو نہیں پڑتا۔

٭ ماہرین کے مطابق شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیےدس پندرہ برسوں میں کی جانے والی ترقیاتی سرگرمیاں شہر کے ماحول،سماجی اور معاشی اشاریوں، اراضی کے استعمال اور نقل و حمل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر انجام نہیں دی گئیں اور ان سے زیادہ تر اپنی سواری رکھنے والوں کو فائدہ ہوا ہے۔ حالاں کہ پائے دار ترقی کے لیے معاشرے کے تمام طبقات اوردرج بالا عوامل کو باہم مربوط کرکے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہوتی ہے۔ 

اگر اربن ٹرانسپورٹ سسٹم اور پبلک ٹرانسپورٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر اور انہیں باہم مربوط کرکے نقل و حمل کا نظام تشکیل دیا جائے، جس میں ریل بیسڈ ماس ٹرانزٹ نظام کو مرکزی حیثیت حاصل ہو تو اقتصادی ترقی، ماحول کے تحفظ اور معاشرے میں سماجی تنوع کے مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

٭ اربن ٹرانسپورٹ کے لیے وضح کی جانے والی حکمت عملیوں میں ٹرانسپورٹ فنانسنگ کے وسائل کی واضح انداز میں نشان دہی ہونی چاہیے، منصوبہ بندی کے بنیادی اصول واضح ہونے چاہئیں اور سڑکوں کے استعمال، ٹرانسپورٹ کا نظام چلانے اور اس کی انتظام کاری سمیت دیگر تمام متعلقہ امور کے بارے میں ابہامات اور گنجلک پن سے پاک نکات طے ہونے چاہئیں۔ ٹرانسپورٹ کے بارے میں عوام میں شعور بے دار کرنے اور اس بارے میں انہیں تعلیم دینے کے ساتھ ٹرانسپورٹیشن کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے نتیجے میں پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال بڑھایا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں شہر میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کافی حد تک حل ہوسکتے ہیں۔

٭ کراچی ٹرانسپورٹ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کام یاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ موٹرکاروں کے نرخوں پر نظرثانی کی جائے، ہر علاقے کے لحاظ سے لائسنس جاری کرنے کے اصول طے کیے جائیں اور شہر کے وسطی کاروباری مراکز میں پارکنگ فیس کی شرح بلند کردی جائے، ان منصوبوں پر سنگاپور، ہانگ کانگ اور لندن میں کام یابی سے عمل درآمد کیا جاچکا ہے۔

٭ دنیا بھر کے بڑے بڑے شہروں میں انجن کے بغیر چلنے والے ذرایع نقل و حمل (نان موٹرائزڈ ٹرانسپورٹ )کے لیے بھی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اور ان کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ مثلاً چین میں آج بھی لوگ بڑی تعداد میں بائیسکلز استعمال کرتے ہیں۔ تاہم کراچی میں امن و امان کی خراب صورت حال، چوری چکاری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں، پیدل چلنے والوں کے لیے بنائے گئے راستوں کی خراب حالت اور بائیسکلز کے لیے علیحدہ راستے نہ ہونے کی وجہ سے شہر میں بائیسکلز کا استعمال روز بہ روز کم ہوتا جارہا ہے۔ سائیڈ واکس، کراس واکس، موثر وقت کے ساتھ کام کرنے والے سگنلز، اسٹریٹ لائٹس اور بائیسکلز کے لیے مخصوص راستے بنانے جیسے اقدامات کرکے صورت حال بہتر بنائی جاسکتی ہے۔

٭ شہر میں تمام تر ترقیاتی سرگرمیوں، بالخصوص ٹرانسپورٹ، اراضی کے استعمال اور بنیادی نوعیت کے کام کے لیے فیصلے ایک چھت تلے ہونے چاہئیں۔ شہر کا انتظام مرکزی طور پر ایک ادارے کے تحت چلایا جانا چاہیے اور ایک چین آف کمانڈ ہونی چاہیے۔

عوام کے دکھڑے

ایک جانب مسافر بردار گاڑیاں نہیں اور دوسری جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے کرائے عوام کے اشتعال میں اضافہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک جانب سفر کرنے کے لیے مسافر بردار گاڑیوں کی بہت کمی ہے، مختصر فاصلہ طے کرنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے، گاڑیوں کی حالت بہت خراب ہے اور دوسری جانب بہت تیزی سے بڑھتے ہوئے کرائے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔

میری ویدر ٹاور اور صدر بازار کے علاقے شہر کے ٹرانسپورٹ کے نظام کے دو بہت اہم مراکز ہیں۔ کیوں کہ شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والی مسافر بردار گاڑیاں یا تو ان مقامات سے گزرتی ہیں یا یہاں سے مختلف مقامات کے لیے روانہ ہوتی ہیں۔ میری ویدر ٹاور کے قریب نصیر، اعجاز، غضنفر، مستنصر، تاشفین، خدابخش وغیرہ سے گفتگو کا موقع ملا۔ یہ تمام افراد مختلف علاقوں میں واقع اپنے گھروں کو جانے کے لیے شام کے وقت مسافر بردار گاڑیوں کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ان میں سے کورنگی اور لانڈھی میں رہایش پزیر افراد نے دو کوچز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ذرا ان کا حال دیکھیں۔ 

ان کوچز کی چھتوں، جنگلوں اور پائے دانوں پر مسافر موجود نظر آئے۔ وہ کوچز شہد کی مکھیوں کے چلتے پھرتے چھتّے نظر آرہی تھیں۔ ان افراد کا موقف تھا کہ وہ ان کوچز کی حالت دیکھ کر دور ہی سے پہچان جاتے ہیں کہ وہ کون سی کوچ ہے۔ ان کے اندر لوگ شدید گرمی میں بھی بری طرح ٹھنسے ہوئے ہوتے ہیں، ان کی نشستیں ایسی ہیں کہ دو درمیانے قد وکاٹھ کے افراد ایک ساتھ آرام سےنہیں بیٹھ سکتے۔ ایک نشست بہ مشکل ایک فٹ چوڑی ہے، دوسرا شخص ساتھ بیٹھ جائے تو اس کا آدھا جسم نشست سے باہر ہوتا ہے۔ درمیان کی جگہ میں دو قطاروں میں مسافروں کو کھڑا کردیا جاتا ہے، ایسے میں بیٹھے ہوئے مسافر کوچین ہوتا ہے اور نہ کھڑے ہوئے مسافر کو۔

لیاقت آباد کے علاقے میں رہائش پزیر افراد کے مطابق ڈبلیو گیارہ کے روٹ کی منی بسیں کافی تعداد میں ہیں اور وہ ہر تھوڑی دیر بعد دست یاب ہوتی ہیں، لیکن اس روٹ پر سفر کرنے والے افراد کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ دن بھر ان منی بسوں میں مسافر بری طرح ٹھنسے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ اس روٹ کی منی بسوں کی حالت نسبتاً بہترنظر آتی ہے، لیکن دیگر روٹس کی منی بسوں کی حالت بہت خراب ہے۔ ڈبلیو اٹھارہ، ڈی سیون، ڈی ون وغیرہ کے روٹس پر چلنے والی منی بسوں کی حالت بہت خراب ہے۔ زیادہ ترمسافر بردار گاڑیوں کی نشستیں بہت خراب حالت میں ہیں اور ان پر بیٹھنے سے آرام ملنے کے بجائے جسم کو تکلیف پہنچتی ہے۔

ملیر میں رہائش پزیر افراد کے مطابق ٹاور سے سعود آباد اور کھوکھراپار جانے کے لیے صرف ایک مسافر بردار گاڑی یو ٹی ایس بارہ یا چوّالیس اے چلتی ہے۔ اگرچہ یہ یو ٹی ایس کی گاڑیاں دس بارہ برس قبل سڑکوں پر آئی تھیں، لیکن ان کے مالکان ان سے بے تحاشا رقم کمانے کے باوجود ان کی دیکھ بھال پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ یو ٹی ایس بارہ کے روٹ کی زیادہ تر بسوں کی چھتیں، فرش اور نشستیں بہت بری حالت میں ہیں۔ 

بعض بسوں کی چھتیں چھلنی ہوچکی ہیں، ان میں نشستوں کی تعداد روز بہ روز کم ہوتی جارہی ہے، بہت سے شیشے ٹوٹ چکے اور فرش ادھڑ چکے ہیں اور ان پر بھونڈے انداز میں لکڑی کے موٹے موٹے تختے جڑ دیے گئے ہیں، جن پر کھڑے ہوئے مسافر کا آدھا پیر اوپر اور آدھا نیچے ہوتا ہے۔ خودکار دروازے بہت پہلے غائب ہوچکے تھے۔ ابتداء میں نشستوں کا جو انداز تھا، وہ بالکل بدل چکا ہے، حتیٰ کہ بعض بسوں کا نقشہ اندر اور باہر سے بالکل تبدیل کردیا گیا ہے۔

ٹاور سے سرجانی ٹائون جانے والی مسافر بردار گاڑیوںکے انتظار میں کھڑے ہوئے انیس الرحمن، جمن خان، شبیر، احراز، محمد دانش، خلیل وغیرہ کے مطابق چند برس قبل اس روٹ پر گرین بس سروس متعارف کرائی گئی تھی۔ابتدامیں یہ سروس بہت اچھی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی خدمت اور بسوں کا معیار گرتا چلا گیا،ان کے ٹکٹ بوتھ تباہ ہوگئے، یہ بسیں صرف مقررہ اسٹاپس کے بجائے جگہ جگہ رکنے لگیں، ان کے دروازے زیادہ تر کھلے رہتے اور پائے دان پر لوگ کھڑے نظر آتے۔ یہ سروس آرام دہ سفر کے لیے شروع کی گئی تھی، لیکن اس کا یہ حال ہوا کہ ایک بس میں دو بسوں کے مسافر ٹھنسے ہوئے ہوتےتھے۔ ان کی تعداد اتنی کم تھی کہ ایک کے بعد دوسری بس اوسطاً بیس پچیس منٹ کے بعد آتی لہٰذا زیادہ سے زیادہ مسافر اس میں سوار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن پھر وہ سروس بھی بند کردی گئی۔

ناظم آباد بورڈ آفس کے اسٹاپ پر مانی میاں، شرجیل، زرمین خان، رضا خان وغیرہ بنارس اور اورنگی کے علاقوں میں جانے کے لیے بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ان کے بہ قول اس روٹ پر سی این جی فور کی بسیں چلائی گئی تھیں۔ وہ اچھی سروس تھی، پہلے ان بسوں کی حالت بہت اچھی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ سروس تیزی سے تباہی کی طرف چلی گئی اور با لآخر بند ہوگئی۔

وہ جن گاڑیوں میں سفر کرتے ہیںان سے بہت سوں میں فاضل ٹائر نہیں ہوتا لہٰذا ٹائر پنکچر ہوجانے کی صورت میں کنڈکٹر مسافروں کو دوسری بس کے آنے تک انتظار کرنے کو کہتا ہے اور جب دوسری بس آتی ہے تو اس میں مسافروں کو ٹھونس دیا جاتا ہے کیوں کہ وہ پہلے ہی بھری ہوئی ہوتی ہے۔ کئی بسوں کے پچھلے دروازے کے قریب نشستوں کے ساتھ بس کا فاضل ٹائر رکھا ہوا ہوتا ہے لہٰذا ہر مسافر کو وہ ٹائر پھلانگ کر آگے بڑھنا پڑتا ہے۔

صدر بازار کے علاقے میں ایمپریس مارکیٹ کے قریب ارشاد الٰہی، مخمور خاں، فیاض، الٰہی بخش، تاثیر احمد وغیرہ سے گفتگو کا موقع ملا۔ ان کے مطابق گل برگ، لیاقت آباد، ناظم آباد، لسبیلہ جانے والی زیادہ تر بڑی بسوں کی حالت بہت خراب ہے۔ ان میں سفر کرنے والے مسافر اکثر کوئی کیل یا پتری لگنے کی وجہ سے زخمی ہوجاتے ہیں یا ان کے کپڑے پھٹ جاتے ہیں اور نشستیں تباہ حال ہیں۔ ڈرائیور اپنی مرضی سے بس روکتے اور چلاتے ہیں۔ جگہ جگہ اسٹاپ بنے ہوئے ہیں، مسافروں سے غیر منطقی کرائے وصول کیے جاتے ہیں۔

کرایہ نامہ طلب کیا جائے تو کہا جاتا ہے کہ وہ خواتین کے حصے میں چسپاں ہے، وہاں جاکر دیکھ لو۔ زیادہ بات کی جائے تو کنڈکٹر جھگڑا کرنے لگتے ہیں لہٰذا زیادہ تر مسافر ان سے الجھنے سے بہتر منہ مانگا کرایہ ادا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بس کی رفتار بڑھانے، جگہ جگہ نہ روکنے اور طویل وقفوں کے لیے اسٹاپ پر بس کھڑی نہ کرنے کے لیے مسافر آواز اٹھائیں تو ان کی بے عزتی کی جاتی ہے اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے، چناں چہ اکثر مسافر بردار گاڑیوں میں جھگڑے ہوتے نظر آتے ہیں، عوام کیا کریں؟ وہ بے بس ہیں، لیکن متعلقہ سرکاری حکام سب ٹھیک ہے کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں۔