کراچی(اسٹاف رپورٹر، ایجنسیاں) کراچی میں بلدیاتی ٹیکس بجلی کے بل میں شامل کر کے شہریوں سے وصول کرنے کی تجویز یز پر وفاق اور صوبہ سندھ کی حکومت آمنے سامنے گئی ہے۔
وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ کے ایم سی ٹیکس بجلی بلوں میں نہیں لیں گے، اپنا کام خود کریں ہم ایسا کچھ نہیں کر رہے ہیں، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر سے بات کی ہے اور ہم اس کی اجازت نہیں دینگے۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل کا بھی کہنا ہے کہ یہ سندھ حکومت کا کراچی پر زبردستی تھوپنے والا فیصلہ ہے، دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ، نیپرا اور کے الیکٹرک سے بات ہوگئی ہے ، سب نے حامی بھرلی ہے۔
تفصیلات کے مطابق مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےوزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے بجلی کے بلوں کے ذریعے ایم کے سی ٹیکس جمع کرنے کی حمایت کی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور چیئرمین نیپرا سے بات ہو گئی ہے،کچھ لوگ جو کے ایم سی کو اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے وہ اس اقدام کی مخالفت کررہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ کے ایم سی نے ہر سال 1 ارب روپے پر فائر ٹیکس اور کنزروینسی کا کلیکشن ہدف مقرر کیا ہے لیکن یہ مشکل سے 250 ملین روپے اکٹھا کر پاتی ہے لہٰذا انھوں نے بجلی کے بلوں کے ذریعے ان کی شرح کو کم کرکے دونوں ٹیکس جمع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور مزید کہا کہ کے ایم سی کوئی نیا ٹیکس نہیں لا رہا بلکہ یہ پرانا ٹیکس جمع کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کے ایم سی نے ٹیکس وصولی کے بہتر منصوبے کے تحت اسے بجلی کے بلوں کے ساتھ جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہر اور اس کے عوام کے مفاد میں وصولی کے اہداف کو حاصل کیا جاسکے۔
انہوں نے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور چیئرمین نیپرا سے بات کی ہے تاکہ کے ایم سی کو بجلی کے بلوں کے ذریعے ٹیکس وصول کرنے کی اجازت دی جائے اور وہ اس بات کو لے کر گھمبیر بھی ہیں اور اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے ۔
دوسری طرف وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے ہفتہ کے روز اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں کے ذریعے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن ٹیکس وصول کرنے کے خیال کی مخالفت کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ میں نے توانائی کے وزیر حماد اظہر سے بات کی ہے اور ہم اس کی اجازت نہیں دینگے۔