آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کئی دنوں بعد اپنے ورجینیا کے گھر آیا تو ایک حکومتی خط انتظار کر رہا تھا۔خط لکھنے والا ہماری کاؤنٹی کا چیئرمین سکارٹ یارک تھا۔ ایک دن پہلے ہی میں نے میاں نواز شریف کا بیان اپنے ہی اخبار میں شہ سرخیوں سے چھاپا تھا جس میں شریف برادران نے صوبے میں بلدیاتی حکومت کا نقشہ تیار کیا تھا۔ خط کھول کر پڑھا تو ہنسی بھی آئی اور رونا بھی۔ دونوں کی وضاحت ابھی کرتا ہوں۔ہماری کاؤنٹی جس کانام لاؤڈن کاؤنٹی ہے واشنگٹن سے کوئی20میل مغرب میں واقع ہے اس کا کل رقبہ 520میل ہے یعنی تقریباً 23میل لمبی اور 23میل چوڑی ۔ اس کا2013ء کا کل بجٹ 1.78ارب ڈالر یعنی187/ارب روپے تھا اور 2014ء میں یہ190/ارب روپے ہو گا۔ کل آبادی ساڑھے تین لاکھ ہے۔ 82ہائی اسکول ہیں جو 12کلاس تک مفت تعلیم دیتے ہیں۔ 7کالج اور یونیورسٹیاں ہیں۔
فی کس سالانہ آمدنی 57,242ڈالر تھی۔ 2012ء میں ہر ادارے کے عہدیدار لوگ خود منتخب کرتے ہیں جن میں پولیس کا سربراہ یعنی شیرف سے لیکر عدالت کا کلرک تک۔ کاؤنٹی کا چیئرمین اسکاٹ یارک ہے جس نے خط بھیجا اور اس کے ساتھ7منتخب ممبر بورڈ کے سپروائزر ہیں اور ایک نائب چیئرمین ۔ اب سنئے اسکاٹ صاحب کیا لکھتے ہیں۔ ان کا کام اپنے علاقے میں ٹیکس لگانا، سڑکیں بنانا، فائر بریگیڈ چلانا، پارک اور لائبریریاں چلانا، پولیس کا نظام، بجٹ بنانا اور دیگر کام ہیں۔

23جولائی کو لکھے گئے اس خط میں اسکاٹ صاحب فرماتے ہیں کہ ان کے7منتخب ارکان بورڈ میں سے ایک کے خلاف تحقیقات ہو رہی تھی۔ ایک گرانڈ جیوری بٹھائی گئی اور 31گواہوں کے بیان لئے گئے ۔ جیوری نے سب کو سننے کے بعد فیصلہ کیا کہ یوجین ڈل گاڈیو کے خلاف کوئی مجرمانہ کارروائی تو نہ کی جائے لیکن ایک رپورٹ جاری کی جائے اور اس رپورٹ میں جیوری نے یوجین کے خلاف اپنے خدشات یوں بیان کئے کہ انہوں نے سرکاری چیزوں کو غلط استعمال کیا ۔ 2۔ اپنے اسٹاف کو اپنے لئے چندہ جمع کرنے کیلئے استعمال کیا۔ 3۔ اپنے اسٹاف کو اپنی سیاسی مہم چلانے کے لئے گھر گھر بھیجا۔ 4۔ اپنے اسٹاف کے لوگوں سے بدکلامی کی ۔ 5۔ اور عام پبلک سے بدسلوکی سے پیش آئے۔
ان سارے الزامات پر پورا بورڈ کافی سوچ بچار کرتا رہا کہ یوجین کو کیا سزا دی جائے۔ یوجین کو مکمل موقع دیا گیا اور سنا گیا۔ پھر فیصلہ ہوا کہ 1۔ یوجین کی سخت سرزنش اور تنبیہ کی جائے۔2۔اس کو کسی کمیٹی بورڈ اور کمیشن میں نہ بیٹھنے دیا جائے ۔3۔اپنے علاقے کے فنڈ خرچ کر نے سے اس کو روک دیا جائے اور جہاں ضروری ہو پورے بورڈ سے اجازت لی جائے۔4۔اس کے اسٹاف کے خرچ بند کر دیئے جائیں۔ اس طرح بورڈ نے یوجین کی تو سرزنش کی لیکن کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا جس سے عوام کا کوئی کام رک جائے۔
ساتھ ہی خط میں یہ بتایا گیا کہ کیونکہ میں یوجین کے علاقے میں رہائش پذیر ہوں اس لئے مجھے یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ اس فیصلہ سے مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو گی اور میرا کوئی کام نہیں رکے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا کیونکہ یوجین کو ہم لوگوں نے اپنے ووٹوں سے منتخب کیا تھا اس کوبورڈ میں کام سے نہیں روکا جائے گا اور وہ اپنی مدت کے 4سال پورے کرے گا۔ اس کو ووٹ دینے کا اختیار ہو گا اور وہ اپنے ووٹروں کے مسئلے اس طرح دیکھتا رہے گا جیسے پہلے۔ اس کو آفس بھی ملے گا، فون بھی رہے گا اور ای میل بھی۔ ساتھ ہی یہ لکھا گیا کہ اگر کسی وجہ سے اس فیصلہ سے مجھے کوئی تکلیف ہو یا میرا کوئی کام رکے تو میں خود چیئرمین اسکاٹ سے رابطہ کروں۔ آخر میں یہ لکھا کہ یوجین کو اس فیصلے پر تنقید کرنے کا پورا حق ہے مگر کیونکہ یوجین کے طرز عمل نے بورڈ کو مجبور کیا کہ وہ کوئی ایکشن لیتا اس لئے یہ سب ہوا۔
اسکاٹ صاحب نے یہ خط بھیج کر مجھے حیران بھی کیا اور پریشان بھی ، ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی۔ ہنسی اس لئے کہ جو الزامات لگائے گئے وہ ہمارے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے مقابلے میں کوئی وزن ہی نہیں رکھتے۔ ہمارے یہاں تو ہر آدمی یوجین ہے۔ ہر افسر یوجین کا باپ ہے اور بدسلوکی تو ہمارا قومی وتیرہ ہے۔ ہمارے ملک میں کسی منتخب لیڈر کو کوئی اس قسم کے الزامات پر کسی کام سے روک سکتا ہے۔ ہاں اگر مخالف پارٹی کا کوئی لیڈر کسی دوسری پارٹی کے ناظم یا میئر کے نیچے پھنس گیا تو خیر نہیں۔ پریشان یوں ہوا کہ دنیا میں لوکل حکومت کا نظام اتنا مضبوط اور مروجہ ہو گیا ہے کہ ہر طرح کے اختیارات اور کام تفصیل سے بتائے جا چکے ہیں تو پھر ہمارے وزیراعظم اور ان کے برادر کن نئے نظاموں کی تخلیق میں مصروف ہیں دنیا میں جمہوریت چلتی ہی لوکل سطح کے نظام سے ہے۔ جب آپ کا پولیس کا SSPلوگ خود منتخب کریں گے تو وہ پھر اپنے علاقے میں امن رکھنے کا نہ صرف ذمہ دار ہو گا بلکہ اس قابل بھی ہو گا کہ امن قائم کر سکے ورنہ اسے ڈر ہو گا کہ اگلے الیکشن میں لوگ اسے نکال باہر کریں گے۔ اسی طرح عدالتوں میں بھی منتخب لوگ، اسکولوں کے بورڈ بھی عوام کے ووٹوں سے آئے ہوئے لوگ جب چلاتے ہیں تو ہر کام ٹھیک چلتا ہے۔ سڑکیں صاف رہتی ہیں۔کئی ٹن برف منٹوں میں صاف کر دی جاتی ہے۔ فائر بریگیڈ صرف 5یا6منٹ میں ہر جگہ موجود ہوتی ہے۔ ساری فائر بریگیڈیر کی نفری Volunteersکی ہوتی ہے اور لوگ دل کھول کر چندہ دیتے ہیں۔ یہ ساری جمہوریت اسی لوکل سسٹم پر قائم ہے۔ اسمبلی اور سینیٹ میں جو لوگ جاتے ہیں وہ صرف قانون بنانے اور ملکی مفاد کی پالسیاں بنانے جاتے ہیں۔ تو اگر ہمارے ملک میں لوکل حکومتیں ہی نہیں تو کیسی جمہوریت اور لوگ کس سے جا کے اپنے مسئلوں کا حل تلاش کریں۔
دراصل جہاں سیاست صرف کھانے پینے اور مال کمانے کیلئے ہو وہاں ہر حکومت اور ہر پارٹی اور ہر لیڈر اس محکمے اور کرسی پر اپنا قبضہ جمانا چاہتا ہے جہاں مال پانی کا موقع ہو۔ اب اگر مسلم لیگ (ن) اپنی 5سالہ صوبائی حکومت میں بلدیاتی انتخاب نہیں کروا سکی اور کراچی میں متحدہ کو لارے لپے دیکر پانچ سال پیپلز پارٹی الّو بناتی رہی تو مطلب آپ خود نکال لیں۔
میں نے ابھی تک اسکارٹ یارک کے خط کا جواب نہیں دیا مگر سوچ رہا ہوں کہ لکھ دوں کہ آپ کس چکر میں پھنس گئے ہیں بھائی اگر مال پانی نہیں بنانا تو نہ سہی یوجین کو تو کام دکھانے دیں، بے چارہ یوجین۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں