خدا کرے کہ ایسا ہو جائے، تو............!

January 02, 2017
 

خدا کرے بلاو ل بھٹو زرداری کو رشتہ ازدواج میں باندھنے کی وہ کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوںجو ذوالفقار علی بھٹو کی اولاد میں واحد بقید حیات صنم بھٹو انتہائی خلوص اور درد دل کے ساتھ کر رہی ہیں۔ اس سے مرتضی بھٹو اور آصف علی زرداری کے خانوں میں بٹابھٹو خاندان اور انکی مایہ ناز پارٹی ایک صفحے پر آجائیں۔ کیونکہ اس واقعہ کا عام ووٹر کی رائے پر کچھ اثر مرتب ہو یا نہ ہو اس کے عام کارکنان میں جو ش اور ولولے کی لہر ضرور دوڑے گی۔جناب آصف علی زرداری کی سیاسی غلطیاں اپنی جگہ لیکن یہ خدا لگتی حقیقت ہے کہ وہ طبعاً فراخدل، صابر، صلح کل، جراتمند اور زیرک انسان ہیں جبکہ بلاول بھٹو بطوربیٹا سعادتمندی کا استعارہ ہیں لہٰذا اس سرے سے کامیابی کی راہ میں کوئی امر مانع دکھائی نہیں دیتا۔ متذکرہ امکان کی صداقت میں تبدیلی کا دارو مدار غنوی اور فاطمہ بھٹو کی سوچ اور رویہ پرمنحصرہے جو سیاسی اور خاندانی رقابت اور اختلاف کی وجہ سے خاصی تلخیوں کاشکار ہو چکی ہیں۔ان تلخیوں کی انتہا کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ میر مرتضیٰ بھٹو کے افسوس ناک قتل کے سلسلے میں جناب آصف علی زرداری کی طرف انگشت نمائی کرتی چلی آرہی تھیںحالانکہ اس واقعہ سے ان کا دور دور کوئی تعلق نہ تھا۔ راقم اس ضمن میں اپنی سیاسی خود نوشت"کئی سولیاں سر راہ تھیں"میںتفصیلاً لکھ چکا ہے۔ راقم کو دمشق اور کابل میں میر مرتضی بھٹو کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع میسر رہا جس بنا پر وہ بھٹو خاندان کے اندرون خانہ قیادت و سیادت کے سوال پر جاری ان کہی کشاکش کا قریبی ناظررہا ہے۔میر مرتضی اور شاہنواز بھٹو نے کابل میں قیام کے دوران دو بہنوں سے شادی کر لی تھی۔ پیرس میں شاہنواز بھٹو کی ہلاکت کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو نے اپنی بیوی کو طلاق دیکر غنویٰ بھٹو سے شادی کرلی جو اسکول میں اُن کی بیٹی فاطمہ بھٹو کی فیزیکلی ٹرینر تھیں اور اُس کی دیکھ بھال ماں کی طرح کرتی تھیں۔اُن کے اسی پہلو سے متاثر ہو کر میر مرتضی نے انہیں اپنے عقد میں لے لیا تھا۔محترمہ نصرت بھٹو میر مرتضیٰ کو ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کا وارث دیکھنا چاہتی تھیںجبکہ محترمہ بے نظیر بھٹو دیانتداری سے یہ سمجھتی تھیںکہ میر مرتضیٰ کو الذوالفقار سے جڑے اُن کے ماضی کی وجہ سے وطن واپس نہیں آنا چاہیے۔ اُن کے روکنے کے باوجود وہ وطن واپس آگئے اور وہی ہوا جس کا محترمہ بے نظیر کو خدشہ تھا۔ غنوی بھٹو کے زیر پرورش فاطمہ اور ذوالفقار علی جونیئر محترمہ بے نظیر سے ذہنی طور پر دو ر ہوتے چلے گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ مخالفت اور رقابت میں شدت آتی رہی اور اب جبکہ صنم بھٹو کے سوا سارا کنبہ گڑھی خدا بخش میں ابدی نیند سو چکا ہے،خاندان پارہ پار ہ ہے اور پارٹی خاتمے کے کنارے کھڑی ہے تو وہ خاندان کو یکجا کرنے اور پارٹی کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے اپنا کردار ادا رہی ہیں۔ اُمید ہے کہ صنم بھٹو کی یہ مثبت کوشش رنگ لائے گی۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس واقعہ کے ملک اور پی پی پی کی سیاست پر غیر معمولی اثرات مرتب ہونے کے امکانات ہیں؟ پارٹی کی حدتک اس کے مثبت اثرات سامنے آئینگے کیونکہ اس سے پارٹی کے فرقہ وارانہ ذہنیت کے حامل کارکنوں میں خوشی اور اُمید کے دیپ ضرور روشن ہونگے جبکہ عام ووٹر کی رائے پر شاید اس کے زیادہ اثرات مرتب نہ ہوں۔پیپلز پارٹی اپنے دور کے بنیادی سماجی سوالات کے جواب کے طور وجود میں آئی تھی اور اس کی تاریخ نہ صرف ملک و قوم کی خاطر دی گئیں عظیم قربانیوں بلکہ گراں قدر خدمات او ر کارناموں سے بھری پڑی ہے۔1970ء سے لیکر آج تک یہ کئی دفعہ زوال کے بادلوں میں گھری اور اُن کا سینہ چیر کرنصف و نہار پر سورج کی طرح چمکی۔آج ایک دفعہ پھر یہ اپنوں کی کوتاہیوں کے باعث مقبولیت کے بد ترین بحران کا شکار ہے۔
آصف علی زرداری کی وطن واپسی سے قبل بلاول ملکی سیاست میں جس انداز سے قدم بڑھا رہے تھے اُس سے ملکی سیاست میں ہلچل اور پارٹی کی صفوں میں جوش و ولولے کے آثار پیدا ہونا شروع ہو گئے تھے لیکن اُن کے آمد کے بعد یہ سلسلہ فضاء میں تحلیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک ایسی پارٹی جس کا خمیر محنت کش طبقات کے درد مشترک سے اُٹھا ہو، جو ہر قسم کی رجعت پسندی کے سامنے چیلنج ہواور جسے عوام نے اپنے خوابوں کی تعبیر سمجھ کر پروان چڑھایا ہو، صفحہ سیاست سے ہمیشہ کیلئے حرف غلط کی طرح مٹ سکتی ہے نہ مٹائی جا سکتی ہے۔2018کو بھول جائیے، ابھی تو اندھیرے اور گہرے ہونگے تاکہ اُن کے قلب سے اُتنا ہی تابناک سورج طلوع ہو۔ چشم تصور میں یہ منظر کھینچئے تو ملکی سیاست میں پیپلز پارٹی کے مستبقل کے سوال کا جواب جلی حروف میں لکھا سامنے آجائے گا.... جناب آصف علی زراری اور فریال تالپور پس منظر میں جا چکے ہیں، بلاول کے دائیں بائیں اور عقب سے بدعنوانوں کا ہجوم ختم ہوچکا ہے اور وہ فاطمہ، آصفہ اور ذوالفقار علی بھٹوجونیئر کے ساتھ ملکر رابطہ عوام مہہم پر نکلے ہوئے ہیںاور یہ سن2023 ہے۔ فطرت کے قوانین کی روشنی میں مستقبل کی ملکی سیاست کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اُمید ہے جلد کوئی خوش خبری سننے کو ملے گی۔




.


مکمل خبر پڑھیں