کراچی والوں کے حقوق لوٹا دو

May 27, 2018
 

گزشتہ دنوں ہمارے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ جو سابق وزیراعلیٰ سندھ مرحوم عبداللہ شاہ کے صاحبزادے ہیں ،سند ھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں جو ش جذبات میں یہ کہہ گئے کہ میں الگ صوبے کا مطالبہ کرنے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں ۔انہوں نے ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی کے اراکین کو بھی لتاڑاکہ وہ اپنے قائد کی ہاں میں ہاں ملاکر صوبے کویر غمال بناکر رکھتے تھے ،اور 10سال سے دہشت گردی پھیلانے میں مصروف تھے ۔ہم نے اس صوبے میں امن وامان پیدا کرکے عوام کی خدمت کی ہے، خصوصاً کراچی کے اُردو بولنے والوں کو سکون کی نیند فراہم کردی ہے اور آئندہ عوام ان کو مسترد کردینگے وغیرہ وغیرہ ۔سب سے پہلے تو میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو یاد دلادوں کہ سب سے زیادہ دہشت لیاری گینگ وار پیپلز امن کمیٹی جن کی سرپرستی خود پی پی پی کی حکومت کررہی تھی انہوں نے پھیلا رکھی تھی ۔ایم کیو ایم تنہا بھتہ اور دہشت گردی میں ملوث نہیں تھی۔ اے ا ین پی ،پختون اتحاد ،بلوچ اتحاد ،سنی تحریک سب ہی مل کر کراچی کو یر غمال بنائے ہوئے تھے۔صرف رینجر ز اور فوج کے مشترکہ ایکشن سے ان دہشت گردوں کا صفایا ہوا ۔برائے مہربانی خود کریڈٹ نہ لیں قوم کھلی آنکھوں سے یہ تماشا دیکھتی رہی۔ گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، موبائل،اغوا برائے تاوان، دن دہاڑے ڈاکہ ،گھیرائو جلائو میں سب کے سب ملوث تھے۔ رہا مسئلہ الگ صوبے کےمطالبہ کاتو یہ بھی بتاتا چلوں کہ قیام پاکستان کے وقت کراچی خودمختار انتظامی یونٹ کے ساتھ ساتھ ملک کا دارالحکومت بھی تھا۔ قیام پاکستان کے وقت متروکہ سندھ میں 45نشستیں ہندوئوں کی ہوتی تھیں اور 55نشستیں سندھی بولنے والوں کی ہوتی تھیں۔ جب ہندو پاکستان سے بھارت چلے گئے تو اصولاً اُس متروکہ سندھ کی 45نشستیں اُردو بولنے والے یعنی بھارت سے مسلمان آنے والوں کی ملکیت ہونی چاہئےتھیں۔جبکہ اُس وقت کراچی سمیت سندھ کی کل آبادی 3لاکھ تھی ۔آج ڈھائی 3کروڑ کی آبادی میں بھی 45نشستیں نہیں دی جارہی ہیں ۔کراچی کی آبادی کو بھی آدھی سے کم دکھا کر اُس کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے ۔اگر بھارت سے مہاجرین نہ آتے تو آج بھی سندھی وڈیرے ،جاگیر دار تمام کے تمام ہندو سود خور مہاجنوں کے قرض دار ہوتے اور اُن کی زمینیں بھی اُن کے پاس گروی پڑی ہوتیں ۔ان کو مہاجرین کا شکر گزار ہونا چاہیے اور متروکہ املاک جو ہندو چھوڑ کر گئے تھے مہاجروں سے نہیں چھیننی چاہیے تھیں۔ اردو اور دیگر زبانیں بولنے والے آج سندھی بولنے والوں سے زیادہ ہوچکے ہیں ۔مگر مردم شماری سے ان کی تعداد آدھی کرکے اُن کے حصے کی سیٹیں اور ملازمتوں پر حقیقت میں قبضہ کرکے اُن کو اقلیت میں ظاہر کیا جارہا ہے۔ جبکہ نادرا کے مطابق کراچی میں 95لاکھ نادرا کے جاری کردہ شناختی کارڈ کا ریکارڈ اور بقایا پورے سندھ میں ایک کروڑ 5لاکھ شناختی کارڈ جاری ہوئے ہیں گویا 55فیصد پورے متروکہ سندھ کے ووٹروں کی تعداد ہے اور صرف کراچی کے 45فیصد ووٹروں کی تعداد ہوچکی ہے جس کو مردم شماری کی آڑ میں کم کرکے مہاجروں کے حقوق غصب کررکھے ہیں تو وہ کیوں نہ متروکہ سندھ کا مطالبہ کرکے اپنے حقوق واپس لیں ۔آج سندھی بولنے والے پورے سندھ بشمول کراچی ،حیدرآباد میں 10صنعتکار ،بینکرز ،انشورنس مالکان نہیں ملتے جبکہ 75فیصد صنعتی ادارے بینک ،تجارتی مارکیٹیں اکثریت اُردو بولنے والوں سے تعلق رکھتی ہیں ۔جبکہ بیوروکریسی ،پولیس اور دوسرے حکومتی اداروں میں اُردو بولنے والوں کو کوٹہ سسٹم کے نام پر باہر کیا جاچکا ہے ۔رہی سہی کسر کے ایم سی ،کے ڈی اے ،واٹر بورڈ جیسے اداروں کوحکومت سندھ نے کنٹرول کرکےپوری کردی ہے ۔بلدیاتی میئر صرف نام کا رہ گیا ہے کراچی کے مزید ٹکڑے بخرے کرکے ملیرڈویلپمنٹ اتھارٹی (MDA)لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA)بناکر بقایا زمینوں پر قبضہ کیا جاچکا ہے۔
آخر میں صوبوں کے مطالبہ پر آتاہوں دنیا کے 202ممالک میں پاکستان واحد ایسا ملک ہے جس میں صوبے کے نام پر عوام کو محکوم بنارکھا ہے ۔سندھی سوچ سے باہر آکر مسلمان بن کر سوچئے۔ عوام کے لئے آسانیاں پیداکرنے کا نام صوبہ بندی ہے۔جس طرح یونین کونسلیں ،ڈسٹرکٹ بنائے جاتے ہیں تاکہ عوام کی نمائندگی اور عوام کوآسانیاں ہوں ،اسی طرح ڈویژن اور صوبے بنائے جاتے ہیں ۔اگر صوبے بنانے والوں پر لعنت ہوتی تو آج دنیا کے 201ممالک کے صوبے بنانے والوں پر بھی لعنت ہوتی ۔قیام پاکستان کے وقت پاکستان کے 14صوبے تھے اور ہندوستان کے 13صوبے تھے ۔آج پاکستان کے 4اور ہندوستان کے 39صوبے کیوں بن چکے ہیں ۔مرُاد علی شاہ صاحب آپ جلاوطنی میں کئی ممالک میں رہے ہیں میں ان کا نام نہیں لیتا کیوں کہ آپ کے والد مرحوم بھی پرویزمشرف کے مارشل لا کے ڈر سے دیار غیر میں جاکر روپوش ہوگئے تھے ۔آپ کی اطلاع کے لئے سب سے بڑے صنعتی ملک جاپان کی آبادی صرف 17کروڑ ہے اور اُس کے 47صوبے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کی آبادی 70لاکھ ہے اُس کے 26کنٹین (صوبے ) ہیں ۔سنگاپور صرف 18لاکھ کی آبادی اور 16یونٹ یعنی صوبے ،یوکے کی آبادی 65ملین 48صوبے نما کائونٹی ہیں ۔امریکہ 32کروڑ کی آبادی اور 50ریاستیں یعنی صوبے ہیں ۔یورپی ممالک فرانس 66ملین کی آبادی پر 18صوبے ہیں ۔ہمارے پڑوسی مسلمان ملک ایران 8کروڑ کی آبادی اور 31 صوبے ہیں ۔ترکی کی آبادی 88ملین اور 81 صوبے ہیں ۔سعودی عرب 33ملین کی آبادی اور 13صوبے ہیں ۔دنیا کی ایک تہائی زمین والا ملک آسٹریلیا 24ملین آبادی اور 6صوبے ہیں ۔ایک چھوٹا ترین ملک آئس لینڈ جس کی آبادی لیاقت آباد سے بھی کم یعنی 4لاکھ سے بھی کم ہے اُس کی 74میونسپلٹی ہیں ۔غریب ترین ملک افغانستان کی آبادی 3کروڑ ہے اور 33صوبے ہیں۔۔
کیا ان سب پر بھی آپ لعنت بھیجیں گے؟ جن کی ترقی کے سامنے آج ہم خود تنزلی کی طرف برق رفتاری سے بڑھ رہے ہیں ۔ اس سے ثابت ہوا کہ صوبے عوام کی بھلائی کے لئے ہوتے ہیں۔ جناب وزیراعلیٰ بتائیں کہ وفاق سے 6000کروڑ سندھ کو ملے ہیں ۔کراچی پر کیا خرچ کیا ہے بس صرف 10گرین بسیں؟لعنت بھیجیں ان بسوں پر ۔اور سندھ کی ترقی کونسی ہوئی ہے جس کی بنا پر آپ آئندہ عوام میں جائیں گے۔ خود کا محاسبہ کرنے کے لئے تیارہیں یا پھر آسمان کی طرف منہ کرکے تھوکتے ہی رہیں گے۔ویسے بھی آپ کے اقتدار کا بھی چل چلائو ہے۔ اچھا کیا کہ وزیراعلیٰ ہائوس چھوڑ کر اچھی مثال قائم کی۔کاش اس حقیقت کو بھی سمجھتے کہ اصل ترقی عوام کی حقیقی خدمت ہے نہ کہ اپنی ذاتی انا کی ۔آج نہیں تو کل عوام اپنے حقوق کے لئے میدان میں ضرور نکلیں گے۔ آج تو صرف آپ کی افطار پارٹی کا بائیکاٹ ہوا ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں