مجھے یہ قرض ادا کرنا ہے!

June 25, 2018
 

یکم جون 2018ء کو میں نے یہ خبر پڑھی کہ ’’لاہور میں 20ارب روپے کی خطیر لاگت سے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ ‘‘ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ۔ میرے ذہن میں فوراً آیا کہ اس اسپتال کا افتتاح تو 25دسمبر 2017ء کو وزیراعلیٰ پنجاب کر چکے ہیں۔ پھر جب تفصیلات معلوم ہوئیں کہ وقار احمد اور محمد کلیم نامی دو مریضوں کے گردوں کی مفت پیوندکاری کی گئی ہے تو میری خوشی دوبالا ہوگئی کیونکہ پاکستان میں ایسے مریضوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو بیرون ملک جا کر گردے اور لیور ٹرانسپلانٹ کی استعداد نہیں رکھتی اور حکومت بھی ہندوستان سے ایسے مریضوں کے علاج پر ڈیڑھ ارب روپے سے زائد خرچ کر چکی ہے پاکستانیوں کیلئے یہ بہت بڑی خوشخبری ہے کہ یہاں اسٹیٹ آف دی آرٹ یہ پہلا اسپتال ہے، جو دنیا کے بہترین معیار کے مطابق بنایا گیا ہے۔پاکستان میں یہ واحد اسپتال (JCIA) کے معیار کے مطابق ہے، امریکہ کا ادارہ جائنٹ کمیشن انٹرنیشنل ایکر یڈیشن جو دنیا میں صحت کے اداروں کے معیار کے آڈٹ کا ذمہ دار ہے۔ میری رائے میں یہ اسپتال دیکھنے سے بھی تعلق رکھتا ہے چونکہ عام آدمی جب یہاں داخل ہوتا ہے تو وہ ورطہ حیرت میں ڈوب جاتاہے۔ سچی بات ہے کہ میں ایک طرح سے ورطہ حیرت میں ہی ڈوبا ہوا تھا کہ 2جون 2018ء کو میری نظروں سے یہ خبر گزری کہ ’’ کس قانون کے تحت اسپتال پر 20ارب روپے خرچ کر دیئے گئے، پھر کیا تھا کہ الیکٹرانک اور خصوصاً سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہوگیا ۔ جسکے جو جی میں آیا کہا، پاکستان کے ایک معزز ترین ڈاکٹر پر بغیر کسی ثبوت اور تحقیق کیچڑ اچھالنا شروع کر دی لیکن ایک دود ن کے وقفے کے بعد بیرون ملک خصوصاً امریکہ سے پاکستانی کمیونٹی نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نہ صرف اس قبیح فعل کی مذمت کی بلکہ ڈاکٹر سعید اختر کی خدمات کے حوالے سے ٹھوس قسم کی چیزیں بھی وائرل ہوئیں۔ میںنے کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کے حوالے سے اور خصوصاً ڈاکٹر سعید اختر اور انکی 70رکنی اس ٹیم سے متعلق مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کی ہیں وہ اپنے قارئین کو بھی بتانا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنی رائے بناتے وقت پورے سچ کو سامنے رکھیں ، ڈاکٹر سعید اختر نے بطور ممبر ’’ اپنا‘‘ پوری دنیا میں میڈیکل کے حوالے سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر 2008ء میںجب غزہ میں جنگ شروع ہوئی وہ میڈیکل ٹیم کے پہلے ڈاکٹر تھے جو اس سرزمین پر پہنچے اور بمبوں کی گونج میں لوگوں کے آپریشن کئے ۔ 2004ء میں انڈونیشا میں سونامی آیادوسرے دن وہاں موجود تھے ۔ جب پاکستان میں 2005ء میں زلزلہ آیا ، تب بھی انکی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ہیٹی کے زلزلہ کے بعد وہاں گئے، یہ APPNAکے 30سال سے ممبر ہیں۔ جسمیں نارتھ امریکہ کے 18 ہزار فزیشن شامل ہیں اور پاکستان میںبطور اسکے ممبر فلاحی کام کر رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر سعید اختر کا پروفائل بہت بڑا ہے ۔ یہاں سب کچھ نہیں لکھا جا سکتا ۔ انہوں نے ٹیکساس یونیورسٹی کے یورالوجی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین کے طورپر بھی کام کیا ہے۔ انہیں دنیا کے معتبر ترین 29میڈیکل ایوراڈ مل چکے ہیں، حکومت پاکستان انہیں تمغہ امتیاز سے بھی نواز چکی ہے۔ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کی کہانی 17سال پرانی ہے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ یہ مرض پاکستان میں بہت زیادہ ہے جس کیلئے انہوں نے2004ء میں شفا اسپتال میں 4بیڈ سے فلاحی ادارہ قائم کیا اور غریب مریضوں کا مفت علاج کرتے رہے ۔ اس نجی فلاحی اسپتال میں 2014ء تک ایک لاکھ پچاس ہزار مریضوں کا علاج کر چکے تھے اور تقریبا ًایک ہزار میجر سرجریزجن میں رینال ٹرانسپلانٹ اور کینسر سرجری شامل ہیں ۔ میری معلومات کے مطابق 2003ء میں جب شہباز شریف نے امریکہ سے موذی مرض کینسر کا علاج کروایا ۔ تب ڈاکٹر سعید اختر سے انکا تعارف ہوا تھا۔ اب اگر انہیں یہاں12لاکھ میں چیف ایگزیکٹو رکھا ہے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ انہوں نے اس اسپتال کے اندر امریکہ ، یوکے اور مڈل ایسٹ میں کام کرنیوالے ایسے 70ہیروں کو اکٹھا کیا ہے جو ہمارے یہاں کے ڈاکٹروں کو نہ صرف ٹرینڈ کریں گے بلکہ اس اسپتال کے ذریعے سے گردے اور جگر کے امراض پر قابو بھی پائیں گے۔
جہاں تک پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کے قیام اور تعمیر میں بے ضابطگیوں کی بات ہے اسکی نہ صرف تحقیقات ہونی چاہئیں بلکہ ذمہ داروں کو سرعام پھانسی پر لٹکانا چاہئے تاکہ لوگ عبر ت حاصل کر سکیں کہ قوم کا پیسہ ہڑپ کرنے والے ایسے ہی سلوک کے مستحق ہوتے ہیں —چیف جسٹس نے اس کیلئے کوکب جمال زبیری کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن بنایا ہے ۔ کمیشن کو ایک ماہ میں حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کمیشن نے جو جزوی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی ہے ۔ اسمیں اٹھائے گئے نکات کے حوالے سے واقعتاً تحقیقات کی ضرورت ہے۔
(1)رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے اس اسپتال کا تین مرتبہ افتتاح کیا ، جس پر دس کروڑروپے خرچ کئے گئے۔ تین مرتبہ افتتاح یا فنکشن کا انعقاد کوئی مذائقہ نہیں لیکن دس کروڑ روپے غریب عوام کے ہیں اس حوالے سے ذمہ داروں کاتعین ضرور ہونا چاہئے۔ (2) نجی سوسائٹی بنا کر حکومت پنجاب نے غیر قانونی طور پر عطیات اکٹھے کئے ،یسا کوئی بھی بڑا پروجیکٹ مخیر حضرات کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ اس حد تک تو ٹھیک ہے لیکن عطیات لینے کی فرانزک آڈٹ کی ضرورت ہے کہ جس مقصد کیلئے یہ اکٹھے کئے گئے وہاں خرچ ہوئے یا نہیں۔(3) ابتدائی تعمیر اور میڈیکل آلات کی خریداری کا ٹھیکہ تیرہ سے بڑھا کر 19ارب کیا گیا ۔ اس کی بھی فرانزک آڈٹ کرانیکی ضرورت ہے۔ اگر 13ارب کے آلات 19ارب میں خریدے گئے تو یہ بہت بڑی بددیانتی ہے اور صدقہ ، خیرات کے ان پیسوں کا ضیاع انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ (4) جس کمپنی کو ٹھیکہ دیاگیا وہ بہت بڑا جرم ہے کیونکہ اسکا مالک کڈنی انسٹیٹیوٹ کے بورڈ آف گورنر کا ممبر بھی ہے۔ یہ وہ شخص ہے جسکو میٹرو بس میں بھی ٹھیکے دیئے گئے۔ اسکی تہہ تک پہنچنا اور اسکے پیچھے اصل چہروں کو بے نقاب کرنا چاہئے ۔(5) انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ساڑھے دس ہزار مربع فٹ کا جو ٹھیکہ حاصل کیا وہ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ دیا گیا ہے۔ جو بہت تشویشناک صورتحال ہے ۔ یہ کمپنی فروری2016ء کو باقاعدہ ایک ایکٹ کے تحت قائم کی گئی جو دیگر بیسیوں پروجیکٹ کر رہی ہے۔ اس کمپنی نے 31دسمبر2017ء تک 131بیڈ مکمل کر کے دینے تھے مگر 16دیئے گئے جبکہ12میں سے صرف 2آپریشن تھیٹر فراہم کئےوہ بھی غیر معیاری ۔ یہ سب تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا جان بوجھ کر اس اتھارٹی نے کیا ہے یا اس پر حکومت کا پریشر تھا کہ افتتاح کرنا ہے ۔ اگر تو بدنیتی سے ایسا کیا گیا تو ذمہ داروں کا نہ صرف تعین ہونا چاہئے بلکہ سرعام سزائیں بھی دینی چاہئیں ۔(6) سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انفرااسٹرکچر اتھارٹی نے ناقص میٹریل کااستعمال کیا اور معاہدے کی خلاف ورزی کی، اسکے باوجود کڈنی انسٹیٹیوٹ نے مکمل ادائیگی کر دی یہ بہت ہی تشویشناک صورتحال ہے، کڈنی انسٹیٹیوٹ کے بورڈ آف گورنر کےچیئرمین سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف تھے اور تمام ٹھیکے انکی منظوری سے دیئے گئے۔ انہیں تفتیش میں ضرور شامل کرنا چاہئے ۔ میں وزیراعلیٰ شہباز شریف سے ہزار اختلافا ت رکھتا ہوں اور میرا شمار انکے ناپسندیدہ صحافیوں میں ہوتا ہے لیکن جتنا میں انہیں جانتا ہوں وہ سمجھتے ہیں کہ قاعدے ، قانون ، بے ضابطگیاں کوئی معنی نہیں رکھتیںبس کام مکمل ہونا چاہئے ۔ اسلئے اس پہلو کو ضرور مد نظر رکھنا چاہئے کہ یہ سب کچھ انہوں نے کسی بدنیتی اور خصوصی لوگوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے کیا ہے یا پھر اپنے دور ِحکومت میں اسپتال کو مکمل کرنے کاکریڈٹ لینے کی نیت سے ۔
آخر میں ، میں چیف جسٹس ثاقب نثار کا بہت مشکو ر ہوں جو عوامی نوعیت کے کیسوں میں از خود نوٹس لے کر اس ملک کے پسے ہوئے لوگوں کو ریلیف فراہم کرنیکی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کیس کی اگلی سماعت کے دوران ڈاکٹر سعید اختر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’میں آپکی خدمات کا معترف ہوں ، عدلیہ سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو میں خود آکر معذرت کرونگا ، آپ کروڑوں کی مراعات چھوڑ کر آئے ، اسکی قدر کرتے ہیں‘‘،بس ہمیں سورۃ الجرات کی اس آیت کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جب کوئی فاسق آپ کے پاس خبر لیکر آئے تو تحقیق کر لیا کریں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو چیزوں کو اصل حالت میں دیکھنے کی بصارت عطا فرمائے۔ (امین )
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں