لو انجمن سے محسنِ بھوپال بھی گیا…

July 09, 2018
 

میں 29؍جون کو کراچی گیا۔ رات کو جناح یونیورسٹی برائے خواتین میں عید ملن پارٹی (میوزک و ڈنر) میں شرکت کی۔ پروگرام بہت دلچسپ تھا، کنول اور سینیٹر عبدالحسیب خان نے محفل لوٹ لی، چانسلر وجیہ الدین احمد نہایت نفیس، نرم گو، قابل ماہر تعلیم ہیں اور مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں جب انھوں نے مجھے دعوت دی تو انکار نہ کرسکا۔
30 تاریخ کو شام 5.30کراچی کی آرٹ کونسل کے آڈیٹوریم میں مرحوم، عزیز دوست، مشہور شاعر مُحسن بھوپالی کی کلیات (کلیات محسن ؔبھوپالی) کی تقریب رونمائی میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ محسن ؔبھوپالی میرے بھوپال جنت مقام کے اعلیٰ شاعروں (معین احسن جذبی، اصغر شعری بھوپالی، جاں نثار اختر، منظر بھوپالی، اَشکی بھوپالی وغیرہ) میں سے تھے۔ ترنم سے کلام پڑھتے تھے اور محفل لوٹ لیا کرتے تھے۔ میری طرح یہ بھی بھوپال سے ہجرت کرکے آئے تھے، کراچی میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرکے سرکاری ملازمت کی اور ایگزیکٹیو انجینئر کے عہدےسے ریٹائر ہوئے۔آپ کے عزیز دوست سحر انصاری نے آپ کی ہنرمندی پر اعلیٰ تقریر کی۔ ہمارے اپنے سینیٹر عبدالحسیب خان،استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے آپ کے کلام پر اعلیٰ خراج تحسین پیش کیا۔
میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بیگمات بھوپال اور نواب بھوپال حمید اللہ خان بہت ادب نواز تھے۔ اسکولوں میں اردو کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی تھی۔ بھوپال میںبیت بازی بھی عام تھی اور طلباء کو ہزاروں اشعار یاد تھے۔ دوسری جماعت سے دسویں جماعت تک یعنی 8 برس محمد وکی صدیقی کی گوہر ادب پڑھائی جاتی تھی اور اس میں ولی دکنی سے لے کر علّامہ اقبال کی سوانح حیات اور چیدہ چیدہ کلام پڑھایا جاتا تھا۔
یہی نہیں بلکہ ایک پرچہ امتحان میں خطِ شکست کا ہوتا تھا (یعنی حکیموں والی مُرلے والی تحریر)۔ ہر سال اعلیٰ مشاعرے کا انتظام ہوتا تھا جس میں ہندوستان کے مشہور ترین شعراء مثلاً جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی، حفیظ جالندھری، فانی لکھنوی، اصغر گونڈوی، فراق گورکھپوری اور دوسرے مشہور شعرا شرکت کرتے تھے۔ علّامہ اقبال کئی کئی ماہ نواب بھوپال کے مہمان رہتے تھے ،وہ سر راس مسعود (سر سید کے پوتے) کے بہت اچھے دوست تھے اور ان کے ساتھ ریاض منزل میں قیام کرتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد علامہ اقبال شاہی مہمان خانہ شوکت محل میں اور صدر منزل میں قیام کرتے تھے۔ نواب بھوپال نے آپ کا 500 روپیہ ماہانہ وظیفہ مقرر کیا تھا اس وقت سونا 15 روپیہ تولہ تھا اور جج کی تنخواہ 50 روپیہ ماہانہ تھی اور کلرک کی تنخواہ، 20 روپیہ ماہانہ تھی۔
علّامہ اقبال کے حلق میں کینسر کا اثر ہوگیا تھا۔ نواب بھوپال نے ڈاکٹر عبدالباسط کو لندن بھیج کر ریڈی ایشن مشین پر ٹریننگ دلوائی اور مشین منگوا کر پرنس آف ویلز اسپتال میں نصب کروا کر اُن کا علاج کیا۔ چائے کی دوکانوں پر غالبؔ، مومِنؔ، اِنشاؔ کے کلام پڑھا کرتے تھے اور حاضرین بے حد لطف اندوز ہوتے تھے۔معین احسن جذبی (جو بعد میں شعبہ اردو کے علی گڑھ یونیورسٹی میں پروفیسر اور سربراہ تھے) کے بعد اصغر شعری کا جواب نہیں تھا ان کی وہ غزل ہر بھوپالی کو یاد تھی۔
اگر کچھ تھی تو بس یہ تھی تمنا آخری اپنی
کہ وہ ساحل پہ ہوتے اور کشتی ڈوبتی اپنی
بہت پیاری آواز اور ترنم سے شعری صاحب اپنا کلام سنایا کرتے تھے۔
اب کچھ محسن بھائی پر۔ آپ کی کلیات ضخیم ہے اور 1359 صفحات پر مبنی ہے جوکراچی سے شائع کی گئی ہے۔ اس کی اشاعت میں ان کے بچوں نے مل کر بہت محنت کی ہے خاص طور پر کرنل (ر) راشد محسن اور شاہانہ جاوید نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔
جیسا کہ جناب ممتاز حسین نے اظہار خیال کیا ہے محسن بھائی احساسات کے شاعر تھے ان کا سازِ دل بڑا ہی نازک اور حساس تھا۔ ان کے کلام میں سوز و گداز اور گھلاوٹ تھی، خوبصورت آواز اور ترنم سے محفل پر چھا جاتے تھے۔ ان کا یہ قطعہ بے حد مشہور ہے جس کو کسی محفل میں سردار عبدالرب نشتر نے پڑھ دیا تھا اور لوگوں نے غلطی سے اس کو ان کا قطعہ سمجھ لیا تھا:
تلقین اعتماد وہ فرما رہے ہیں آج
راہ طلب میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
نیرنگئی سیاستِ دوراں تو دیکھئے
منزل اُنھیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
یہ مقامی لوگوں کے بارے میں طنز تھا جو بھکاریوں اور غریبوں سے رئوسا اور کروڑ پتی بن گئے تھے۔
جب ان کا انتقال ہوا تو میرے بڑے بھائی عبدالحفیظ خان اشکیؔ بھوپالی نے یہ قطعہ کہا۔
ماتم گُسار بزم ادب تو ہے بدنصیب
تیری جبیں کا گوہر نایاب بھی گیا
رنجِ جگرؔ، ناطقؔ، شعریؔ تو کم نہ تھا
لو انجمن سے محسنِ بھوپال بھی گیا
محسنؔ بھوپالی کا یہ شعر بھی کمال کا ہے اور محفل میں سنا کر جب میں نے کہا کہ اس شعر کی روشنی میں حسیب بھائی اور کمال بھائی کی سابقہ زندگی کی جانچ پڑتال کررہا ہوں تو لوگوں نے بہت داد دی:
ہر فسانہ غور سے سنتا ہوں محسنؔ اس لئے
ایک حقیقت کے بھی بن جاتے ہیں افسانے بہت
آپ نے دور حاضر کی روایت پر یہ طنزیہ قطعہ کہا ہے جو بے حد مناسب اور بموقعہ ہے:
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے
میخانے کی توہین ہے، رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
ایٹمی دھماکوں کے بعد آپ نے میرے لئے یہ قطعہ تہنیت لکھا، اس کے چند اشعار پیش خدمت ہیں:
صحرائے جستجو میں تھا صورت سراب
پچیس سال پہلے جو تھا محض ایک خواب
اسلاف کے اصول کو پیش نظر رکھا
دُشمن نے پہل کی تو دیا ہے اسے جواب
برحق ہے ہم محافظِ ملّت اگر کہیں
عبدالقدیرخان پہ جچتا ہے یہ خطاب
محسن ؔبھائی نے اپنی کلیات مجاز ؔکے نام انتساب کی ہے ۔ یہ وہی اعلیٰ شاعر ہیں جنھوں نے دہلی سے الہ آباد پہنچ کر یہ قطعہ کہا تھا:
الہ آباد میں ہر سو ہیں چرچے
کہ دِلّی کا شرابی آگیا ہے
گلابی لائو، چھلکائو لنڈھائو
کہ شیداء گلابی آگیا ہے
اللہ پاک مُحسنؔ بھوپالی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہل خانہ کو ہمت اور صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
(نوٹ) پچھلے ہفتہ کالم میں جناب خلیل نینی تال والا کی ملیر میں اکیڈمی کے بارے میں غلطی سے میں نے لکھ دیا تھا کہ عزیز و اقارب نے دس کروڑ کی رقم مہیا کی تھی۔ دراصل انھوں نے پچّیس کروڑ کی بڑی رقم اس نیک کام کے لئے دی تھی۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں