25 جولائی کے انتخابات اور تحفظات

July 23, 2018
 

25 جولائی 2018ء کو عام انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے ، جن سے پاکستانی قوم کو بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں اور کچھ حلقے خاص طور پر ’’ تبدیلی ‘‘ کی امید لگائے ہوئے ہیں لیکن انتخابات سے پہلے کی صورت حال میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ 25جولائی کے انتخابات سے اس ملک کے مسائل حل ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے بلکہ یہ مسائل بہت گمبھیر ہوسکتے ہیں ۔ ہم ان انتخابات کے ذریعے الجھی ہوئی سیاسی صورتحال اور معلق پارلیمان کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ اسکے کئی ٹھوس اسباب ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو جماعتی سیاسی نظام کی بجائے سہ جماعتی سیاسی نظام کے تحت انتخابات ہو رہے ہیں ۔ سیاسی پولرائزیشن بہت زیادہ ہے اور شاید پہلی مرتبہ عام انتخابات ’’ غیر نظریاتی بنیادوں ‘‘ پر ہو رہے ہیں ۔ کوئی بھی سیاسی جماعت قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت تو کیا ، 272 نشستوں میں سے 100نشستیں بھی حاصل کرتے ہوئی نظر نہیں آ رہی ۔ عام انتخابات کے بعد بڑا سیاسی بحران دکھائی دیتا ہے ۔
پاکستان سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں بظاہر کثیر الجماعتی سیاسی نظام ہے ۔ یعنی زیادہ سے زیادہ سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہیں لیکن ہر جگہ دویا تین بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہی مقابلہ ہوتا ہے ۔ اس طرح از خود دو جماعتی نظام رائج ہو جاتا ہے ۔ باقی چھوٹی سیاسی جماعتیں کبھی کبھار حکومت سازی میں اہمیت اختیار کر جاتی ہیں لیکن سیاست دو جماعتوں کے گرد گھومتی ہے ۔ پاکستان میں بھی ایسا ہی رہا ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد نیشنل عوامی پارٹی ( نیپ ) جیسی عوامی سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں ۔ ( یاد رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی سے پہلے پیپلز پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت قیام پاکستان کے بعد وجود میں آئی تھی ، جس پر اس وقت کی حکمراں اشرافیہ نے پابندی عائد کر دی تھی اور یہی حشر نیپ کا ہوا ) ان کے مقابلے میں راتوں رات ’’ مسلم لیگ ‘‘ کے نام سے کنگز پارٹی قائم کی جاتی رہی اور یہ کنگز پارٹی بھی تھوڑے ہی وقفے میں ختم کر دی گئی ۔ یہ کھیل جاری رہا تاوقتیکہ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی قائم ہوئی اور مشرقی پاکستان میں آل پاکستان عوامی مسلم لیگ کو شیخ مجیب الرحمن نے ’’ عوامی لیگ ‘‘ بنا دیا ۔ یہ سیاسی جماعت بنگالی قوم پرستوں نے مسلم لیگ سے الگ ہو کر قائم کی تھی ۔ سانحہ سقوط ڈھاکا کے بعد باقی ماندہ پاکستان میں صرف پیپلز پارٹی رہ گئی ۔ اسکے مقابلے میں کوئی دوسری جماعت مقابلے کیلئے باقی نہ رہی ۔ راتوں رات نئی مسلم لیگ بنانے کا حربہ بھی کامیاب نہ رہا تو تحریک استقلال سامنے آئی لیکن وہ بھی پیپلزپارٹی کے سامنے ٹھہر نہ سکی ۔ اس مرحلے پر تو پہلے والا دو جماعتی نظام بھی نہیں رہا ۔ اگرچہ ملک میں سینکڑوں مذہبی ، سیاسی اور قوم پرست جماعتیں تھیں ۔ اسکے بعد ضیاء الحق کے مارشل لاء میں ایک بار پھر مسلم لیگ بنی ۔ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں یہ مسلم لیگ جونیجو ، چٹھہ ، قائد اعظم اور نواز کے نام سے پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرتی رہی لیکن مسلم لیگ (نواز ) یعنی مسلم لیگ (ن) نہ صرف باقی رہی بلکہ اس کی بقا کا سبب مقتدر حلقے نہیں بلکہ خود اس کی قیادت یعنی شریف خاندان تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسلم لیگ کا پہلے بننے والی مسلم لیگیوں جیسا حشر نہیں ہوا ۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ مقتدر حلقوں کی بنائی گئی مسلم لیگ (ن) اب ایک سیاسی خانوادے ( Political Dynasty ) کی ملکیت ہو گئی ۔ گزشتہ تین عشروں کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا دو جماعتی سیاسی نظام قائم رہا ۔ 1988 سے 1999 ء تک کے جمہوری وقفے اور 2008ء سے 2018ء کے جمہوری وقفے میں یہی دو جماعتیں باری باری حکومتیں بناتی رہیں ۔ اس دوران اگرچہ پاکستان تحریک انصاف بھی انتخابات میں مدمقابل رہی لیکن دو جماعتی نظام ہی قائم رہا ۔ اب پہلی مرتبہ جماعتی نظام کے تحت انتخابات ہو رہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو غیر اہم ( Marginalize ) کرنے کی کوششیں ہوئیں اور پاکستان تحریک انصاف کو مکمل سازگار سیاسی ماحول فراہم ہوا لیکن اول الذکر دونوں سیاسی جماعتیں پاکستانی سیاست میں آج بھی متعلق ( Relevant ) ہیں ۔ اب انتخابات کے نتیجے میں دو کی بجائے تین سیاسی جماعتیں مرکز میں حکومت بنانے کے لئے کوشاں ہوں گی ۔
مرکز میں حکومت بنانے کا اصل فیصلہ پنجاب کو کرنا ہوتا ہے ۔ پنجاب میں ماحول تحریک انصاف کیلئے سازگار تھا لیکن میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کی طرف سے وطن واپس آکر گرفتاری کے فیصلے اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دورہ پنجاب نے اس صوبے کی سیاسی حرکیات ( Political Dynamics ) تبدیل کر دی ہیں ۔ لہٰذا کوئی بھی سیاسی جماعت نہ صرف سادہ اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی بلکہ مجھے تو لگ رہا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو 100 سے زیادہ نشستیں نہیں ملیں گی بشرطیکہ کے انتخابات میں کوئی بڑی گڑ بڑ نہ ہو ۔ ایسا پہلی مرتبہ ہو گا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت مضبوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی بلکہ یہ کہنا بہتر ہو گا کہ کمزور ترین حکومت ہوگی ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو بھی شاید یہی نظر آ رہا ہے ۔ اسلئے وہ بار بار اپنے جلسوں میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’ کمزور پارلیمنٹ بنی تو یہ پاکستان کیلئے بہتر نہیں ہو گا ۔ ‘‘ میرے خیال میں یہ سہ جماعتی نظام کا نتیجہ ہے۔
یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہئے کہ اس وقت ملک میں سیاسی پولرائزیشن بہت زیادہ ہے ۔ تینوں سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے سے اتنی زیادہ نفرت اور غصہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کیساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نہیں ۔ انہیں ایک دوسرے کیساتھ کچھ اور قوتیں بٹھانے کی اگر کوشش بھی کریں گی تو یہ زیادہ کارگر ثابت نہیں ہو گی ۔ اس سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ پولرائزیشن نظریاتی اختلافات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ شاید پہلی مرتبہ غیر نظریاتی بنیادوں پر انتخابات ہو رہے ہیں ۔ 1960ء سے 1990 ء کے عشرے تک نظریاتی صف بندی کسی نہ کسی طرح تھی ، جو ختم ہوتے ہوتے آج بالکل نہیں رہی ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے امیدوار کو اپنی پارٹی کے منشور کا مکمل ادراک نہیں ہے ۔ نظریات کی بنیاد پر ہونے والی سیاسی پولرائزیشن افراتفری اور ’’ انارکی ‘‘ کو جنم نہیں دیتی ۔ غیر نظریاتی سیاست کا انجام انتشار اور انارکی ہوتا ہے ۔ یہ سیاست صرف اقتدار کیلئے ہے ۔ یہ بھی حیران کن بات ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے جلسوں اور جلوسوں میں عوام نے بھرپور شرکت کی ہے ۔ اس بھرپور شرکت کو غیر نظریاتی سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے تو سیاسی پولرائزیشن مزید خطرناک نظر آئے گی ۔ نظریہ اگرچہ کوئی جامد چیز نہیں ہے ۔ یہ سماجی اور معاشی تبدیلیوں کے ساتھ نئے تقاضوں کے تحت جنم لیتا ہے لیکن نظریہ سمت فراہم کرتا ہے ۔ اس وقت سیاسی جماعتوں کی کوئی سمت نہیں ہے ۔ اسلئے میں انہیں غیر نظریاتی کہہ رہا ہوں ۔
یہ پاکستان کا سب سے زیادہ مہنگا الیکشن ہے کیونکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی بعض پابندیوں کی وجہ سے تشہیری مہم پرنٹ ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے ذریعہ چلائی گئی ، جو عام تشہیری مہم سے زیادہ مہنگی ہے ۔ میڈیا میں ہونیوالے مباحث ، سیاستدانوں کی تقریروں اور بیانات نے پولرائزیشن کو غیر رواداری ، بداخلاقی اور عدم برداشت کے عوامل سے مزید گہرا کر دیا ہے ۔ ان انتخابات کے نتیجے میں نہ صرف معلق پارلیمنٹ بنتی ہوئی نظر آ رہی ہے بلکہ حکومت کرنیوالی سیاسی جماعت کی قیادت کی وسیع تر قبولیت بھی نہیں ہو گی ۔محسوس یہ ہو تا ہے کہ اس پارلیمنٹ کو سال ڈیڑھ سال کے بعد ایک بڑے بحران اور انتشار کو جنم دینا ہے ۔


مکمل خبر پڑھیں