ممکنہ مخلوط حکومت یا کانٹوں کی سیج؟

July 23, 2018
 

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ عام انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت کے واضح اکثریت حاصل نہ کرنے کے باعث ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آسکتی ہے جس کا نتیجہ مخلوط حکومت کے قیام کی صورت میں برآمد ہو گا۔ انہوں نے معلق پارلیمان کے امکان کو ملک کیلئے بڑی بدقسمتی قرار دیتے ہوئے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایک طاقتور حکومت کا وجود میں آنا ضروری ہے جو بڑے فیصلے کرسکے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سے مل کر حکومت بنانے کی بجائے اپوزیشن بنچز پر بیٹھنے کو ترجیح قرار دیتے ہوئے عوام سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ پچیس جولائی کو بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل کر ووٹ ڈالیں تاکہ تحریک انصاف واضح اکثریت کے ساتھ ایک مضبوط حکومت قائم کر سکے۔ عمران خان کی اس خواہش پر مجھے ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے اڈیالہ جیل میں اسیر نواز شریف سے اپریل 2013 کے آخری ہفتے میں بے نظیر انٹرنیشنل ایئر پورٹ اسلام آباد کے راول لائونج میں کی گئی وہ گفتگو یاد آ گئی جس میں انہوں نے بھی پاکستان کے عوام سے ایسا ہی تقاضا کیا تھا۔ تب بھی گیارہ مئی کے عام انتخابات کے انعقاد میں صرف گنتی کے دن ہی باقی تھے۔ بطور صحافی جب میں نے ان سے دریافت کیا تھا کہ کیا عام انتخابات کے بعد بھی قوم ایک بار پھرپاکستان پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کی طرح کچھ لو کچھ دو، بلیک میلنگ اور بار گیننگ کا عذاب سہے گی تو میاں صاحب نے دھیمے لیکن متفکرانہ لہجے میں گویا ہوتے کہا تھا کہ چار بندے ادھر سے لے کر ، دس بندے ادھر سے لے کر اور بیس بندے پیچھے سے پکڑ کر اگر حکومت بنائی تو مانگے تانگے کی کیا حکومت بنائی۔ تب انہوں نے بھی میرے توسط سے عوام کو مخاطب کرتے زور دیا تھا کہ ملک کو درپیش گمبھیر مسائل کے حل کیلئے ضروری ہے کہ وہ جس سیاسی جماعت کو بھی ووٹ دیں وہ اتنے زیادہ دیں کہ اسے دوسری سیاسی جماعتوں کی بیساکھیوں کے سہارے کمزور مخلوط حکومت نہ بنانی پڑے۔ تب ملک میں جاری بد ترین لوڈ شیڈنگ ، آئے روز کی دہشت گردی ، دگرگوں معیشت سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کی کارکردگی کے باعث واضح امکانات تھے کہ چند دن بعد منعقدہ عام انتخابات میں اقتدار کا ہما نواز شریف کے سر پر ہی بیٹھے گا اس لئے نواز شریف کی عوام سے اس اپیل پر یہ سوالات بھی اٹھائے گئے تھے کہ وہ درحقیقت کس سے واضح اکثریت طلب کر رہے ہیں۔ اسکے بعد گیارہ مئی کی رات قبل از وقت جاتی امرا سے کی گئی تقریر میں بھی جب نواز شریف نے انتخابی نتائج میں واضح اکثریت طلب کی تو یار دوستوں کے کان ایک بار پھر کھڑے ہو گئے تھے۔ اس وقت اگر زمینی حقائق کو مد نظر رکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کے غبارے میں اس قدر ہوا بھری ہوئی ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنمائوں اوراس کے کارکنوں کو بھی آئندہ حکومت یقینی نظر آ رہی ہے، تحریک انصاف کی اس جیت کو ممکن بنانے کیلئے مخالفین کے پوسٹرز اور بینرز اتارنے سے لے کر ان کوعدالتوں کی مدد سے انتخابی دوڑ سے باہر کرنے تک ہر وہ اسٹریٹجک سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے جس نے انوکھے لاڈلے کو کھیلنے کیلئے چاند تک فراہم کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر مخالف سیاسی جماعتوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں نے پوری کرتے ہوئے ایسا ماحول پیدا کردیا ہے کہ ؛ گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے ؛۔ نا ممکن کو ممکن بنانے کی ہر تگ و دو کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کو یقین نہیں ہےکہ اسے پچیس جولائی کے عام انتخابات میں واضح اکثریت حاصل ہو پائے گی اور وہ کسی دوسری سیاسی جماعت کی مدد کے بغیر وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکے گی۔ وفاق کی سطح پر حکومت بنانے کیلئے قومی اسمبلی کے 342 کے ایوان میں سادہ اکثریت کیلئے بھی 137 نشستوں کی ضرورت ہے جبکہ مارگلہ کے دامن میں واقع وسیع و عریض وزیر اعظم ہاوس تک جانے کا راستہ پنجاب سے ہی گھوم کر آتا ہے۔ صوبہ پنجاب کی سب سے زیادہ 142 نشستیں نہ صرف مرکز میں حکومت سازی بلکہ اس حکومت کو قائم رکھنے کیلئے بنیاد فراہم کرتی ہیں اسلئے پنجاب کے عوام کا فیصلہ مستقبل کے سیاسی نقشے میں جو رنگ بھرے گا وہی نمایاں ہو گا۔ مختلف ملکی اور غیر ملکی سرووں کے نتائج اور سیاسی پنڈتوں کی طرف سے زمینی حقائق کی روشنی میں قائم کئے جانیوالے اندازے ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت دو بڑی حریف جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے درمیان صوبہ پنجاب میں عوام میں مقبولیت کا فرق انتہائی کم ہے جبکہ دیگر صوبوں میں سیاسی جماعتوں کی اسٹینڈنگ کو بھی مد نظر رکھا جائے توبخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بدھ کو منعقد ہونے والے ملکی تاریخ کے انتہائی اہم انتخابات کے بعد پاکستان میں ایک بار پھر مخلوط حکومت ہی قائم ہو گی۔ کیا یہ مخلوط حکومت ملک کو درپیش معاشی مسائل سے خارجہ امور کے چیلنجز ، قومی سلامتی کے مسائل سے ادارہ جاتی کمزوریوں اور سماجی نا انصافی سے سیاسی عدم استحکام جیسے کوہ گراں کا بار اٹھا سکے گی تو اس کا جواب خود عمران خان دے چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے زیادہ نشستیں جیتنے کی صورت میں اسے آزاد امیدواروں کی حمایت حاصل ہو گی جن میں اکثریت کے پاس جیپ کا انتخابی نشان ہے۔ ہمارے صحافی دوست فیاض راجہ کی دلچسپ تحقیق کے مطابق یہ کیسا حسن اتفاق ہے کہ جیپ کے انتخابی نشان کے حامل امیدواروں کی تعداد 137ہے جو سادہ اکثریت کے مساوی ہے۔ تحریک انصاف ان جیپ؛ ڈرائیوروں ؛ کے علاوہ دیگر چھوٹی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر بھی اگر مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اسے ملک کی دو سب سے بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی انتہائی مضبوط اپوزیشن کا سامنا کرنا ہوگا۔ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں اور افراد کے مطالبات کو پورا کرنے کیلئے پیپلز پارٹی کی 2013 کے بعد بننے والی مخلوط حکومت کے بدترین تجربے کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جس میں آئے روز اتحادیوں کے روٹھنے اور منانے کے مضحکہ خیز مناظر تاریخ کا حصہ ہیں۔ پانچ سال پیچھے بھی کیا جانا ،پاکستان تحریک انصاف کو تو حال ہی میں خیبر پختونخوا میں مخلوط صوبائی حکومت کا خود بھی تجربہ حاصل ہو چکا ہے جو یقیناً اس کیلئے کسی تلخ تجربے سے کم نہیں اور وہاں دفاع ،خارجہ اور معیشت کےبارے میںقومی پالیسی سازی بھی ذمہ داری نہیں تھی۔ ایسی صورتحال میں ملک کو درپیش سنگین چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے بڑے فیصلے کرنا کسی طور ممکن نہیں ہو گا۔ مخلوط حکومت کی صورت میں سب سے اہم مسئلہ جو درپیش ہو گا وہ اس قانون سازی کی راہ میں مضبوط اپوزیشن کی طرف سے حائل رکاوٹیں ہوں گی جسے عمران خان ارکان پارلیمنٹ کی اصل ذمہ داری قرار دے چکے ہیں۔ سینیٹ میں اس وقت پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ن اور ان کی ہم خیال جماعتوں کو واضح برتری حاصل ہے جس میں 2021 کے سینیٹ انتخابات تک تبدیلی ممکن نہیں اس لئے مخلوط حکومت ان کے تعاون کے بغیر کسی طور اہم قانون سازی نہیں کر سکے گی۔ دوسری طرف تخت پنجاب کو مسلم لیگ ن سے چھیننا آسان نہیں ہے۔
جہاں گزشتہ اسمبلی میں اس کے ارکان کی تعداد 300 تھی اور ہر طرح کی کوششوں کے باوجود بڑی تعداد میں صوبائی ارکان کی ن لیگ سے وابستگی کو ختم نہیں کرایا جاسکا۔ اگر پنجاب میں بدستور مسلم لیگ ن حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے جبکہ جی ڈی اے اور پی ایس پی کی صورت میں چلی گئی ترپ کی چال ناکام ہونے پر جس کے بہت حد تک امکانات ہیں توسندھ کا اقتدار پیپلز پارٹی کے پاس ہی رہے گا،خیبر پختونخوا میں اگرچہ ایم ایم اے، مسلم لیگ ن ،اے این پی، اور قومی وطن پارٹی مل کرحکومت بنا سکتی ہیں جبکہ بلوچستان میں بھی نیشنل پارٹی، پی کے میپ سمیت قوم پرست جماعتوں کے ساتھ جے یو آئی ف اور ن لیگ تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینے کی پوزیشن میں ہوں گی۔ اس طرح مرکز کی حکومت کو وسائل کی منصفانہ تقسیم کیلئے قومی مالیاتی کمیشن، پانی کی تقسیم، ہائیڈل منصوبوں کی رائلٹی سمیت وفاق اور صوبوں کے درمیان دیگر امور طے کرنے کیلئے مشترکہ مفادات کونسل جیسےپلیٹ فارموں پر اتفاق رائے کا حصول انتہائی مشکل ہوگا۔ آخر میں سب سے اہم نکتہ یہ ہےکہ مخلوط حکومت کو قائم رکھنے اور چلانے کیلئے جس مزاج کی ضرورت ہوتی ہے وہ خان صاحب کی طبیعت سے کسی طور میل نہیں کھاتا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں