شہر اقتدار میں کچھ روز

August 18, 2018
 

شہر اقتدار سے میری پہلی دوستی 1993 میں ہوئی تھی جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے ڈاکٹر شیر افگن خان کو وفاقی وزیر قانون بنایا تھا ۔ڈاکٹر شیر افگن لاہور آئے اور مجھے تلاش کرتے کرتے پی ٹی وی لاہور اسٹیشن پر پہنچ گئے۔ رفیق وڑائچ جنرل منیجر ہوا کرتے تھے وہ انہیں دیکھ کر حیران و پریشان تھے کہ ایک وفاقی وزیر ایک ڈرامہ نگارکو تلاش کرتا پھرتا ہے۔خیر مجھے تھوڑی دیر میں تلاش کرلیا گیا پھر میں ان کے ساتھ اسلام آباد آگیا جب تک پیپلز پارٹی کی حکومت ختم نہیں ہوئی میں اِسی شہرِ اقتدار میں رہا ۔یہ تین سال اقتدار کی راہداریوں میں چلتے ہوئے اتنی تیزی سے کہیں گم ہوئے کہ خبر تک نہ ہوئی ۔ اقتدار بڑی خوفناک چیز ہے ۔بابا کہتے تھے اگر کسی بالکل سوکھے ہوئے درخت کو بھی وزارت دے دی جائے تو وہ بھی چند دنوں میں ہرا بھرا ہو جائے ۔

میں پچھلے کچھ دنوں سے پھر شہر اقتدار میں ہوں ۔کچھ اُسی کا احوال بیان کرنا چاہ رہا ہوں ۔پہلی شام پی ٹی آئی نارتھ پنجاب کے جنرل سیکرٹری عطاللہ خان شادی خیل نے دعوت کی ۔وہاں نارتھ پنجاب کے ایم این ایز کے علاوہ ہارے ہوئے امیدواروں سے بھی ملاقات ہوئی۔ کئی ہارے ہوئے امیدوار دبے لفظوں میں دھاندلی کی شکایت کررہے تھے ۔ہارنے والوں کو پتہ نہیں کیوں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ لوگوں نے انہیں ووٹ نہیں دئیے۔ اگرچہ نارتھ پنجاب میں بھی کئی ٹکٹوں کی تقسیم غلط ہوئی مگر سنٹرل پنجاب میں ٹکٹوں کی تقسیم پر تو غلطیوں کے پھاٹک کھول دئیے گئے تھے ۔نامزد گورنر پنجاب چوہدری سرور بھی دعوت میں شریک ہوئے ۔ پی ٹی آئی کے ایڈیشنل سیکرٹری آئے ہوئے تھے اُن سے سنٹرل پنجاب میں پی ٹی آئی کی شکست پر بڑی تفصیلی گفتگو ہوئی ۔وہاں یہ بات بھی ہوئی کہ تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ کہیں وہاں ٹکٹوں کی تقسیم میں کوئی لین دین تو نہیں ہوا۔ظفر اللہ خان ڈھانڈلہ ، ثنا اللہ خان مستی خیل ، احسان اللہ ٹوانہ ،امجد علی خان ، میجر طاہر صادق ، ایمان طاہر ، عامر محمود کیانی ، ندیم افضل چن ،عمر اسلم اعوان ،فوزیہ بہرام اور ڈاکٹر نادیہ عزیز سے بڑی اچھی باتیں ہوئیں ۔ سب یہی سوچتے تھے کہ ہمارا نیا پاکستان کیسا ہوگا۔

اگلے دن قومی اسمبلی کے ممبران نے حلف اٹھانا تھا۔ ایک دنیا وہاں آئی ہوئی تھی ۔قومی اسمبلی کی عمارت میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی ۔انوار حسین حقی اور میں اس بات پر حیران تھے کہ اسمبلی ہال کی گیلریوں میں بیٹھنے کےلئے صرف ساڑھے آٹھ سو لوگوں کےلئے جگہ موجود ہے مگرتقریباً ڈیڑھ دو ہزار لوگوں کو پاس جاری کر دئیے گئے ہیں ۔اگر کوئی اپنی نشست سے ایک بار اٹھ جاتا تھاپھر اسے بیٹھنے کےلئے جگہ نہیں ملتی تھی ۔اگرچہ اسمبلی ہال میں آصف علی زرداری ، بلاول زرداری بھٹو اورشہباز شریف بھی موجود تھے مگر تمام نگاہیں عمران خان کا طواف کرتی تھیں ۔جب بلاول زرداری نے عمران خان کے ساتھ تصویر بنوائی توآصف علی زرداری کا چہرہ کہہ رہا تھا کہ انہیں اُس لمحے کا بہت دیر سے انتظار تھا جو اِس تصویر میں قید کرلیا گیا ۔

عمران خان جب بطور ایم این اےرجسٹریشن کےلئے تصویر بنوانے لگے تو انہوں نے کیمرہ مین سے اُس کی واسکٹ مانگ کر پہن لی کہ تصویر بہتر آئے ۔سنا ہے واسکٹ کا مالک اُس واسکٹ کی بولی لگانے والا ہے کہ یہ وہ واسکٹ جو عمران خان نے صرف ایک بار پہنی ہے۔اُسے امید ہے کہ اُس کی واسکٹ لاکھوں روپے میں فروخت ہوگی ۔

اگلے دن اردوزبان کےاہم ترین شاعر اور کالم نگار اظہار الحق نے اسلام آباد کلب میں دعوت کی ۔ان کے ساتھ نئے پاکستان میں ادیبوں اور شاعروں کاکردار زیرِ بحث رہا اور اس بات پر حیرت کا اظہار کیاگیا کہ زیادہ تر شاعر اور ادیب پتہ نہیں کیوں نون لیگ کے ساتھ وابستہ چلے آ رہے ہیں ۔شایدبڑے بڑے علمی ، ادبی ثقافتی اداروں کے پُر کشش عہدے انہیں نون لیگ کے ساتھ جوڑے ہوئے تھے ۔

شام کو بابر اعوان کےگھر چلے گئے ۔وہاں نئے پاکستان کےلئےتھنک ٹینک کےمعاملات پرغور کرتے رہے ۔بے شک نئی حکومت کو ایک ایسے تھنک ٹینک کی اشدضرورت ہے جوتبدیلی کے خد وخال میں رنگ بھرنے کےلئےسوچنے والے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے ۔نئے صوبے کے حوالے سے بھی غور کیا اُس کے قانونی پہلوئوں کا جائزہ لیا اور سمجھنے کی کوشش کی کہ پہلے سو دن میں نیا صوبہ کیسے وجود میں لایا جا سکتا ہے۔

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا مرحلہ آیا تمام دن اسمبلی ہال کی گیلریوں اور کیفے ٹیریامیں گزر گیا ۔اراکینِ اسمبلی سے ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔امیر مقام کو شکست سے دوچار کرنے والے ڈاکٹر حیدر علی شاہ کے ساتھ بڑی دلچسپ گفتگو رہی ۔ان کے علاوہ خیبر پختون خوا کے کافی لوگ ملے جو کپتان کو اس بات پر خراج تحسین پیش کررہے تھے کہ وہ پرویز خٹک کو صوبے سے نکال کر وفاق میں لے آئے ۔ اُن کے نزدیک یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔

رات کو فواد چوہدری نے اسپیکر اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے اعزاز میں کھانا دیا تھا اُس میں شرکت کی ۔وہاں بہت سے ایم این ایز سے ملاقاتیں ہوئیں۔قاسم سوری مجھے بہت اچھے لگے ۔بلوچستان کے اس نوجوان نے محمود خان اچکزئی کو شکست فاش سے دوچار کیا ہے۔وہ بہت سمپل سا، سادا سا نوجوان محسوس ہواجس کا باطن تبدیلی کے یقین سے بھرا ہوا تھا۔

شہباز شریف اسمبلی ہال میں تقریباً تمام دن خاموش بیٹھے رہے۔ اُن کے چہرے پژمردگی پھیلی ہوئی تھی۔نون لیگ کے ایم این ایز نے بازوئوں پر کالی پٹیاں بھی باندھی ہوئی تھیں ۔نئے اسپیکر اسد قیصر جب حلف اٹھانے لگے تو پرانے ڈپٹی اسپیکر کی قیادت میں نون لیگ کے ایم این ایز نے کافی شور مچایا ۔اپنی زبان سے خاصا احتجاج کیا۔نواز شریف کو رہا کرو کہ نعرے لگائے ۔شاید عمران خان کے وزیر اعظم بن جانے پر نون لیگ نے اپنی پالیسی بدل لی ۔ اب نون لیگ کا ٹارگٹ عمران خان نہیں رہے کیونکہ انہیں معلوم ہوچکا ہے کہ ان کے خلاف اتنا زہریلا پروپیگنڈہ کرنے کے باوجود بھی عوام نےعمران خان کا ساتھ دیا ہے ۔اب نون لیگ نے اپنی توپوں کا رخ عمران خان کی ٹیم کے خلاف کر لیا ہے کہ شایدان کے چہروں پر جھوٹ کی سیاہی تھوپ کروہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

بہرحال اقتدار کی راہداریوں میں چند روز گزارے تو مجھے گزرے ہوئے اپنے تین سال یاد آئے۔ جو بے وجہ برباد ہو گئے تھے ۔ اب دوبارہ میں ان راہداریوں کے چکر میں نہیں آنے والا ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں