خاک کے موسم میں نور کی تعمیر
رمضان وقت کی دیوارپر لگی ہوئی کوئی تاریخ نہیںیہ باطن میں اترنے والا موسم ہے۔ یہ کیلنڈر کا صفحہ نہیں پلٹتا، یہ انسان کے اندر کوئی دروازہ کھولتا ہے۔ شہر ویسے ہی رہتے ہیں، سڑکیں وہی، بازار وہ
February 20, 2026 / 12:00 am
تندرستی ہزار نعمت ہے
کبھی صحت کارڈ امید کا سبز پرچم تھا۔ایک ایسا وعدہ جو کاغذ سے نکل کر بسترِ مریض تک پہنچا تھا مگر آج وہی وعدہ دھند میں لپٹا دکھائی دیتا ہے، جیسے صبح کی روشنی شام کی گرد میں کھو جائے۔ پاکستان
February 13, 2026 / 12:00 am
طوطا چشم
غزہ کی فضا میں جب آگ اترتی ہے تو آسمان کی خاموشی محض سکوت نہیں رہتی۔ وہ عالمی ضمیر کی اجتماعی معذوری کا استعارہ بن جاتی ہے۔ بم گرتے ہیں تو زمین دہلتی ہے، مگر ضابطے اپنی جگہ منجمد رہتے ہی
February 06, 2026 / 12:00 am
بجھتے چراغوں کی روشنی
معیشت کے آئینے میں دراڑیں پڑی ہیں مگر کچھ لوگوں کو اس میں کئی مسکراتے ہوئے چہرے دکھائی دے رہے ہیں۔ بازار کی گلیاں اندھیری ہیں مگر سرکاری بیانات میں قمقمے جل رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح کاغذ پ
January 31, 2026 / 12:00 am
خزانہ چھپانے کی روایت
یہ کہانی ایک ہی سانس میں قدیم بھی ہے اور جدید بھی، کیونکہ اس کا آغاز ماضی میں ہے مگر اختتام ہر لمحہ حال میں ہوتا ہے۔ یہ اُن لوگوں کی داستان ہے جو نہ بادشاہ تھے مگر فیصلوں پر حاوی تھے، نہ فقیر تھے
January 23, 2026 / 12:00 am
خاموش چراغوں کی سمت چلتی تاریخ
کبھی کبھی تاریخ اپنے فیصلے ایوانوں کی گونج میں نہیں، خاموش کمروں کی سانسوں میں سناتی ہے۔ کچھ ملاقاتیں تصویروں کا حصہ نہیں بنتیں، مگر زمانوں کی سمت درست کر دیتی ہیں۔ کچھ لمحے خبروں میں جگہ نہیں پاتے
January 16, 2026 / 12:00 am
غیر محفوظ دور کا آغاز
اس وقت دنیا بیدار بھی ہے اور ساکت بھی۔ خبر نے شعور کو جھنجھوڑ دیا ہے، مگر یقین کو گہری نیند سلا دیا ہے۔ واقعہ تازہ ہے، لیکن اس کی بازگشت پرانی تاریخ کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہی ہے۔ بیانا
January 09, 2026 / 12:00 am
اکیس سو پچیس کا پاکستان
راستہ سنسان تھا، اور خاموشی میں قدموں کی آواز زیادہ صاف سنائی دیتی ہے۔ وہ آدمی بھینس کے ساتھ چل رہا تھا، مگر اصل بوجھ جان کا تھا، مال کا نہیں۔ جنگل ہمیشہ انسان کو اس کی اصل حقیقت دکھاتا
January 02, 2026 / 12:00 am
خدا کا وجود
یاسر پیرزادہ کا کالم پڑھ کر دل چاہا کہ اس سے محض اتفاق یا اختلاف نہ کیا جائے بلکہ اس کے ساتھ کچھ دیر بیٹھ کر گفتگو کی جائے۔ یہ وہ تحریر تھی جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، نہ شور کے ذ
December 26, 2025 / 12:00 am
مجھے معلوم ہے دسمبر آ گیا ہے
میں پاکستان ہوں میں پاکستان ہوں، اور دکھ میری رگوں میں بہہ رہا ہے۔دسمبر آئے تو یہ دکھ جمنے لگتا ہے۔پاکستان پر دکھ کا مسلسل قبضہ ہے۔جب میں نے پہلا سانس لیا، تو درد ایک لہر بن کر میرے بدن م
December 19, 2025 / 12:00 am
اکیس سو پچیس کا پاکستان
آج نیو یارک ٹائمز کے آرکائیو میں جھانکا تو حیرت نے مجھے آ لیا۔انیس سو پچیس کے لوگوں نے جو دنیا دیکھی تھی، اس کا بیشتر حصہ آج ہماری روزمرہ حقیقت ہے، اور باقی اب بھی نیم خواب، نیم حقیقت
December 12, 2025 / 12:00 am
دل ہوا بو کاٹا
دیوار پہ دستک پتنگ بازی محض ایک کھیل نہیں، یہ برصغیر اور خصوصاً پنجاب کی صدیوں پرانی تہذیب، رنگ، خوشی اور اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔ پتنگ کی تھپتھپاہٹ، ڈور کی کھنک
December 05, 2025 / 12:00 am
جغرافیائی تنہائی کا مرثیہ
دنیا کے بڑے نقشے پر اگر کوئی آنکھ ٹھہر کر افغانستان کو دیکھے تو وہ اسے براعظمِ ایشیا کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل نہیں پائے گی، بلکہ ایک ایسا بھولا ہوا حجرہ دکھائی دے گا خشکی کے دل میں رکھا ہوا، ہوا
November 28, 2025 / 12:00 am
ہاتھوں سے نکلتی ہوئی زمین
رات کے آخری پہر میں، جب خواب اور حقیقت کی سرحد بارش کے بعد کی مٹی کی طرح نرم ہو جاتی ہے، میں نے اپنے آپ کو ایک عجیب دروازے کے سامنے پایا۔ دروازہ لکڑی کا تھا، مگر اس پر کسی نے وقت کا چہرہ تراشا ہو
November 21, 2025 / 12:00 am