حکومت سندھ کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

August 27, 2018
 

وزیر زراعت سندھ محمد اسماعیل راھو نے کہا ہے کہ سندھ کی زراعت معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،جس میں ادویات کھاد اور بیج غیر معیاری استعمال ہوتے ہیں۔

سندھ سیکریٹریٹ میں محکمہ زراعت کا اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اسماعیل راھو نے کہا کہ اجلاس میں زراعت کی بہتری کے حوالے سے آگاہی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

انہوں نے جعلی ادویات بنانے والی فیکٹریوں کو وارننگ دی اور کہا کہ وہ کام بند کردیں ،یہ حقیقت ہے کہ مارکیٹ میں جعلی زرعی ادویات فروخت ہورہی ہیں، جن کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ ہم کرچکے ہیں۔

محمد اسماعیل راھو نےمزید کہا کہ اجلاس میں افسران کو ہدایت کی ہے کہ محکمے کو سرگرم کریں کو تاہیاں اور خامیاں ختم کریں،ہم کوشش کریں گے محکمہ زراعت سرگرم نظر آئے، اپوزیشن کیا کہتی ہے کہ یہ مسئلہ نہیں اپوزیشن کی تنقید کو خوش آئند کہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کواس کے حصے سے کم پانی ملا ہے،یہی وجہ ہے کہ چاول کی کاشت میں تاخیر ہوئی ، محکمہ زراعت کے اندر برسوں کے مسائل ہیں ہم اس کو بہتر کریں گے، اگر بے قاعدگیاں ہوئی ہیں تو تحقیقاتی ادارے سامنے لائیںاور احتساب سیاسی انتقام پر نہ ہو ۔

وزیر زراعت نے کہا کہ مارکیٹ کمیٹیوں میں بڑے مسائل ہیں انہیں درست کرنا ہے،انہیں فعال بنائیں گے،آبادگاروں کے لیے جلد نئی اسکیمیں متعارف کروا رہے ہیں،29 ہزار واٹر کورس مکمل کرچکے ہیں،مزید 500 واٹر کورس بنائے جائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگلے سال ہم 500سولر ٹیوب ویل سندھ میں نصب کریں گے، جہاں ٹیوب ویل نہیں لگ سکتے وہاں لفٹ مشین دیں گے تاکہ آبادگاروں کو مشکلات نہ ہو، پی پی حکومت اپنابہتر کردار ادا کرتےہوئے محکمہ زراعت کے اختیارات کو مکمل استعمال کرےگی ۔

اسماعیل راھو نے بتایا کہ محکمہ کے ملازمین یا افسران کام نہیں کریں تو ان کہ خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی، سفارش کسی کی نہیں سنی جائے گی، گنے کہ کاشتکاروں کو اپنا حق ملےگا ان کہ ساتھ ناانصافیاں نہیں ہوں گی۔


مکمل خبر پڑھیں