ایک ہار اور سہی!

September 01, 2018
 

نیا پاکستان بن چکا،ملک میں تبدیلی آ چکی، میرٹ پر عمل کرنے کا وقت آن پہنچا مگر کیا کریں’’پرانی عادتیں مشکل سے ہی جاتی ہیں‘‘۔ ملک کے سب سے بڑے آئینی عہدے یعنی صدر کا انتخاب ہو رہا ہے اور اس میں میرٹ کا کہیں ذکر تک نہیں۔ صدارتی انتخاب میں میرٹ کے بجائے سیاسی بغض، ذاتی نفرت اور جذباتی حسد سے کام لیا جا رہا ہے اس ملک کا کوئی بھی باشعور شخص آنکھیں بند کر کے بھی صدارتی امیدواروں کے بارے میں فیصلہ کرے تو اسے اعتزاز احسن ، عارف علوی اور مولانا فضل الرحمٰن میں سے میرٹ پر کون پہلے، کا فیصلہ کرنے میں ذرہ برابر دشواری نہیں ہو گی۔ ہاں تعصب ، نفرت اور سیاست کی اندھی پٹی باندھ لی جائے تو ہر ایک کو اپنی پارٹی کا امیدوار ہی پسند آئے گا۔

خدا لگتی کہئے کہاں اعتزاز احسن اور کہاں عارف علوی و مولانا ، اعتزاز احسن پاکستان کی پڑھی لکھی مڈل کلاس کا استعارہ ہے، وکیلوں کا وکیل، عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہو ا تو سب سے آگے ، بے نظیر کا وکیل رہ کر اسے ریلیف دلوایا، سیاستدانوں میں بڑا سیاستدان ، کرپشن کا ایک چھینٹا تک اس کے دامن پر نہیں، 42سالہ سیاست میں ایک بھی مالی بد عنوانی کا مقدمہ نہیں، انسانی حقوق کا چمپئن ، شاعر، ادیب، دانشور، پاکستانی تہذیب پر شاہکار کتاب INDUS SAGAکا مصنف ۔ صاف، شفاف ، میرٹ پر سب سے آگے مگر نیا پاکستان بننے کے باوجود وہ ہار جائے گا کہ سوال میرٹ کا تھوڑی ہے سیاست کا ہے۔

اعتزاز احسن کے ہار نے سے فرق ہی کیا پڑتا ہے سورج اسی طرح مشرق سے نکلتا رہے گا حکومت اسی طرح انصاف اور میرٹ کے دعوے کرتی رہے گی۔

اعتزاز احسن کے ہارنے سے زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟ پورس کے سکندر یونانی سے ہارنے کی یاد تازہ ہو جائے گی دُلاّبھٹی کی مغلوں کے ہاتھوں پھانسی پر پھر سے دل مسوس کر رہ جائیں گے عوام خان ہمیشہ کی طرح کولہو کا بیل بنا رہے گاموہنجوڈارو کا پروہت اپنی سادگی کے سبب ایک بار پھر معدوم ہو جائے گا، رقاصہ سمپارا پھر صدیوں کے لئے لمبی نیند میں چلی جائے گی، بھگت سنگھ پھر سے پھانسی چڑھ جائے گا، امرتا پریتم پھر سے وارث شاہ کو قبر سے اٹھائے گی، چناب میں پھر خون اترے گا ،بھٹو پھر پھانسی چڑھے گا، احمد خان کھرل ایک بار پھر مارا جائے گا اوربرکلی پھر جیت جائے گا۔ بے نظیر بھٹو پھر شہید ہو گی اور انتہا پسند خوشی منائیں گے ۔ یہ سب کچھ ہو بھی جاتا ہے تو کیا ہوگا؟ پھر وہی کچھ ہوتا رہے گا جو اس خطے کی تقدیر ہے جو اس خطے میں ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔

یورپ نے صدیوں پہلے آزادی، برابری اور جمہوریت کو اپنا یا، یوں ترقی کے دروازے ان پر کھلتے چلے گئے مگر ہمارے خطے میں آزاد ، عوام دوست انسان دوست پستے رہے خوشامدی، ٹوڈی ، جھولی چک، چمچے،برائون صاحب کامیاب ہوتے رہے صدر بنتے رہے اور عوام دوست جمہوریت پرست نوابزادہ نصر اللہ خان ہارتے رہے۔ اعتزاز احسن بھی ہارے گا مگر یہ اسکی نہیں جمہوریت ، عوام اور انسانی اقدار کی ہار ہو گی عارف علوی زیادہ سے زیادہ ایک اور ممنون یا رفیق تارڑ ہو گا مولانا فضل الرحمن زیادہ سے زیادہ مولوی اسکندر مرزا جیسے ہو جائیں گے کیا نئے پاکستان کے صدر پرانے پاکستان جیسے ہی رہیں گے؟

پیپلئے، نونی اور انصافی تینوں ہی ایک دوسرے کی نفرت میں پلے بڑھے ہیں بڑا مقصد بھی ہو تو یہ اپنی ذاتی لڑائیاں نہیں بھلا پاتے۔ ن والے تو برتری اور تکبر کے اندھے کنویں میں بند ہیں جنرل مشرف کو وردی سمیت دوام دینے والے انہیں بطور صدر قابل قبول ہیں لیکن بیگم کلثوم کی بیماری اور نواز شریف کے خلاف تنقید کرنے والے انہیں قبول نہیں۔ جب اعتزاز عدلیہ کی آزادی کے لئے لڑ رہا تھا تو آپ کی گاڑی میں تھا آپ کے مقدمات ذاتی طور پر لڑے کیا ہوا جو آپ پر تنقید بھی کر دی؟ نون کو یاد رکھنا چاہئے کہ جمہوریت کے نعرے مارنے ہیں تو ضیاء الحق کا ساتھ دینے پر شرمندہ بھی ہوں۔ شفاف احتساب کی بات کرنی ہے تو سیف الرحمن کے ظالمانہ احتساب سے بریت کا اظہار بھی کرو۔ اپنے خلاف آپریشن کی مذمت کرنی ہے تو سندھ حکومت کے خلاف آپریشن میں اپنی حمایت کی وضاحت بھی دو۔ تاریخ نویس اعتزاز احسن کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن کی حمایت پر نون لیگ پر تنقید ضرور کرے گا۔ بہرحال ذاتی لڑائیاں جیت گئیں اور جمہوری اصول ہار گئے۔

لاہور کی نہرپر واقع زمان پارک پڑھی لکھی تنخواہ دار مڈل کلاس کی بستی ہے عمران خان اور ماجد خان کے نانا، احمد حسن خان ڈپٹی کمشنر لاہور رہے۔ بڑے ماموں احمد رضا خان کمشنر کے طور پر ریٹائرڈہوئے۔خالو زاد جاوید برکی کرکٹر اور جمشید برکی فیڈرل سیکرٹری ریٹائرہوئے ماجد خان اور ڈی آئی جی اسد جہانگیر کے والد ڈاکٹر جہانگیر خان ماہر تعلیم اور پرنسپل تھے۔ مشہور دانشور خالد احمد کاخمیربھی یہیں اٹھا۔ اسی بستی زمان پارک کے رہائشی اعتزاز احسن بھی ہیں کرپشن کے خلاف جو غصہ عمران خان میںہے وہی اعتزاز احسن میں بھی ہے کرپشن کے مقدمات میں انہوں نے بے نظیر بھٹو کا دفاع کرنے سے انکار کر دیا وہ ناراض بھی ہوئیں ۔ عدلیہ کی آزادی کے معاملے پر آصف زرداری سے الگ ہو گئے ناراضی رہی لیکن بالآخر پھر معاملات سنبھل گئے۔ زرداری اور بے نظیر بھٹو، اعتزاز احسن کی آزاد پسندی کو برداشت کرتے رہے کاش نون بھی اسے برداشت کر لیتی۔ بڑے مقاصد کے لئے چھوٹی المیہ خامیاں نظر انداز کرناپڑتی ہیں۔ ملک آگے چلانا ہو، ریاست کو آگے بڑھانا ہو، جمہوریت کو مضبوط کرنا ہو تو چھوٹے چھوٹے جھگڑے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

تحریک انصاف میرٹ کے نام پر بر سر اقتدار آئی ہے ، وزیر اعظم عمران خان نےمیرٹ کی گھاٹ پر اپنے کزن ماجد خان کی قربانی دے کر اپنے آپ کو بڑا ثابت کیا تھا، اپنی مخالف ن لیگ کے چودھری نثار کو بھی ان کی ایمانداری کے سبب ہمیشہ سے بہتر قرار دیتے رہے ۔ زمانے کے گرم و سرد کے باوجود ان سے اپنا تعلق بھی ہمیشہ قائم رکھا۔ اب بھی توقع یہی تھی کہ وزیر اعظم سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر زمان پارک کے ایک اور عبقری اعتزاز احسن کے لئے دل بڑا کرینگے ،عارف علوی کو کچھ اور بنا دیں۔ صدر پاکستان تو اعتزاز احسن ہی سجتے۔ اگر عمران خان یہ فیصلہ کر دیتے تو واقعی نیا اور میرٹ والا پاکستان بن جاتا۔

آخر میں عرض ہے کہ عوام خان کے سینے پر پہلے ہی بہت بوجھ ہیں ایک پتھر اور سہی جہاں اتنی شکستیں ہوئیں جہاں اتنی بار ہارے ہیں ایک ہار اور سہی۔

عوام خان کو علم ہے کہ اعتزاز احسن ہار جائے گا مگر یہ ہار اعتزاز کی نہیں، مڈل کلاس کی ہو گی، تعلیم یافتہ لوگوں کی ہو گی ساری زندگی سیاسی جدوجہد کرنے والوں کی ہو گی۔ یہ ہار عوام کی ہو گی، جمہوریت کی ہو گی، یہ میرٹ اور انصاف کی شکست ہو گی۔یہ اصولوں کی شکست اور اکثریت کی آمریت کی فتح ہو گی یہ عوام کے لئے جیلوں میں جانے والوں اور آمریت سے ٹکرانے والوں کی ہار ہو گی۔یہ خوابوں، امیدوں اور ولولوں کی شکست ہو گی۔

تاریخ نے ہمیں بہت دکھ دئیے ہیں ایک دکھ اور سہی، دارلشکوہ جیت جاتا تو آج اعتزاز احسنوں کے لئے بھی راہ کھل جاتی ، احمد خان کھرل نہ شہید ہوتا تو ساندل بار کی قسمت او ر ہوتی، جنرل شیر سنگھ اٹاری والا چیلیاں والا ، دوسری صبح آرام کرنے کی بجائےپھر انگریزوں پر حملہ کر دیتا تو پنجاب غلام نہ بنتا۔ یاد رکھیے کہ مادی طور پر تو شکست اعتزاز احسن کا مقدر بن رہی ہے مگر مستقبل کی تاریخ میں صدر کوئی بھی بنے پھولوں کا ہار تو اعتزاز احسن کو ہی پہنانا پڑے گا۔


مکمل خبر پڑھیں