مرض کی تشخیص دیر سے ہوئی

September 12, 2018
 

واصف ناگی

بیگم کلثوم نوازشریف کی کینسر کی بیماری کا آغاز آج سے ڈھائی برس قبل شروع ہوا تھا۔ اس سلسلے میں وہ مختلف ٹیسٹ اور ڈاکٹروں سے صلاح مشورہ کرتی رہیں۔ پاکستان میں انہوں نے لاہور کے معروف انٹرونیشنل ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر فیاض سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے مختلف ٹیسٹ کرنے کے بعد ان کو گلینڈز کے کینسر کا مرض بتایا۔ اس حوالے سے ان کے مزید ٹیسٹ لندن میں ہوئے تو وہاں پر جا کر تصدیق ہوگئی کہ بیگم کلثوم نواز شریف کو YMPHOMA کا سرطان ہے۔ گلینڈز کے سرطان کی تشخیص ڈاکٹر عمر فیاض نے کی تھی۔

بیگم کلثوم نوازشریف کو کمر کے مہروں کی تکلیف پچھلے دس بارہ برس سے تھی اور کمر کے مہروں کی سرجری بھی دو مرتبہ ہوئی تھی جس میں پہلی مرتبہ سرجری ٹھیک نہیں ہوئی تھی۔ بیگم کلثوم نوازشریف کو مہروں کی بیماری کافی عرصہ سے تھی جو کچھ ٹھیک ہوگئی تھی مگر کبھی کبھی تکلیف ہوتی تھی۔ پچھلے ڈھائی برس سے گردن میں سوجن آئی تھی۔ الٹرا سائونڈ کے ذریعے پتہ چلا کہ گلینڈز بڑھے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کے ایک ہسپتال سے بھی دو ٹیسٹ کرائے گئے تھے جن کی بائیوپسی صحیح طرح اور تشخیص نہ ہوئی اور وہاں پر ڈاکٹر فیاض نے انہیں YMPHOMA کا سرطان تشخیص کیا اور بیگم کلثوم نوازشریف کو برطانیہ علاج کے لئے لے جایا گیا۔

پچھلے ڈیڑھ سال سے کیموتھراپی ہورہی تھی اور کیموتھراپی کے سائیکل چل رہے تھے جو بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے ۔ کیموتھراپی اکثر مریض کی برداشت سے باہر ہوتی ہے۔

بیگم کلثوم نوازشریف کا علاج اگر بروقت شروع ہوجاتا اور تشخیص کم از کم چھ سے آٹھ ماہ پہلے ہوجاتی اور اگر یہ بیماری بنیادی سٹیج پر ہوتی تو ان کی زندگی بچ سکتی تھی۔

بیگم کلثوم نوازشریف کو جب علاج کیلئے لایا گیا تب بیماری تھرڈ سٹیج پر تھی۔ سٹیج ٹو کے مریض دس سال تک اور سٹیج ون کے مریض دس سال سے زائد زندہ رہ سکتے ہیں لیکن اس کینسر کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کیوںشروع ہوتا ہے سٹیج 3rd کے مریض کے پاس وقت کم ہوتا ہے اور پھر پچھلے چھ ماہ سے وہ بار بار وینٹی لیٹر پر جا رہی تھیں جو ایک اچھی صورتحال نہیں تھی۔

یہ سرطان کیوں شروع ہوتا ہے اس کے بارے میںکچھ نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی کوئی ایسی دوائی ہے جو اس کو روک سکے۔ صرف ابتدائی تشخیص اور علاج سٹیج ون پر شروع ہونا چاہئے۔ گلینڈز کا سرطان بڑی عمر کے لوگوںکو بہت کم ہوتا ہے البتہ بچوں میں زیادہ ہوتا ہے نہ یہ موروثی سرطان ہے اور نہ ہی یہ انفیکشن سے ہوتاہے۔ پاکستان میں اس کا علاج ممکن ہے البتہ برطانیہ میں یہ بہت مہنگا علاج ہے۔

کیا عجیب اتفاق ہے کہ آج قائداعظم ؒ کا یوم وفات ہے اور آج ہی بیگم کلثوم نوازشریف کی وفات ہوئی۔


مکمل خبر پڑھیں