Advertisement

حضرت علیؓ کا فلسفہ حکمرانی

May 27, 2019
 

آغا سید حامد علی شاہ موسوی

دینِ اسلام جہاں انسان کو حیات نو عطا کرتا اورزندگی سے نوازتا ہے، وہاں ہم پر فرائض بھی عائد کرتا ہے۔سب سے بڑا فرض دین کو زندہ رکھنا ہے، کیوںکہ اُس نے ہمیں زندگی عطا کی، لہٰذا جس شے پر ہماری زندگی کا دارومدار ہے، اُس کاتحفظ و پاس داری ہم پر واجب ولازم ہے ۔نبیﷺ کا کام دین پہنچانا اور وصی کا کام دین بچانا اور اسے تحفظ فراہم کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالبؓ نے دین کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی تمام تر توانائی صرف کی ۔چناںچہ آپ نے اپنے ایک خطبے میں مخلصین کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے دین کو زندہ رکھا اور اُس کی دیکھ بھال کی۔علیؓ اُس پتھرپرکھڑے تھے جو جعدہ بن ہبیرہ نے لا کر رکھا تھا ، حضرت علیؓ نے صُوف کا چغہ پہن رکھا تھا اور آپ کی تلوار کی حمائل کھجور کے پتوں کی تھی اور نعلین بھی اُسی کی بنی تھی جس پر ایستادہ ہوکر آپ نے وہ عظیم خطبہ دیا کہ مجمع کے شرکاء کے اشک جاری ہوگئے ،آپ نے آخر میں اپنے دوست احباب کو یاد کرکے فرمایا کہ میرے وہ ساتھی کہاں ہیں جو راہِ حق کے رہرو تھے ،انہوں نے جادہِ حق پر قدم رکھا اور حق پررہتے ہوئے اس دنیا سے چلے گئے، پھر آپ نے آہ بھرکرکہا کہ میرے وہ ساتھی جنہوں نے اپنے دینی فرائض پر غورکیا،انہیں ادا کیا ،جنہوں نے سنت نبوی ؐ کوزندہ رکھا اوربدعتوں کو نیست ونابودکیا۔آپ نے ان حضرات کو زندہ کنندگان سنت کہا ہے۔معلوم ہوا کہ سب کافریضہ قرآن و سنت کوزندہ رکھنا ہے۔

خانۂ خدا میں ولادت اورخانۂ خدا ہی میں شہادت کا منفرد اعزاز علی ابن ابی طالبؓکے سوا کسی کو حاصل نہ ہوسکا۔آپ کی حیاتِ مقدسہ مکتب ِجاوداں کا بہترین عملی درس ہے ۔وہ علیؓ جس نے کائنات میں رزم و بزم،علم و حکمت،جدوجہد و جہاد اور عدل و انصاف کا وہ سبق سکھایا جو انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔دین اسلام کی اساس عدل پر اُستوار ہے ۔زمین اور آسمانوں کی استقامت عدل کی بناء پر ہے۔حضرت علیؓ کی زندگی کا امتیازہی یہ ہے کہ وہ اعتدال و توازن کا مظہر نظرآتی ہے۔تمام محاسن،خوبیاںاپنی جگہ پر نقطۂ کمال پر دکھائی دیتی ہیں۔حق وعدالت کے قیام کے لیے جدوجہد و جہاد کرنا آپ کی زندگی کا عظیم ترین کارنامہ ہے۔ختمی مرتبتﷺ نے جس دن اعلانِ نبوت کیا ،علیؓ سایہ کی طرح حضور ﷺ کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ختمی مرتبتﷺ کی حیاتِ مبارکہ گواہ ہے کہ گھر ہو یا باہر،سفر ہو یا حضر،بزم ہو یا رزم۔ غرض یہ کہ ہر جگہ آپ پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ ساتھ ہیں۔یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے اورپوری دنیا جانتی اور سمجھتی ہے کہ علیؓ نے جرأت وشجاعت کی ایک تاریخ رقم کی۔ دین کی سربلندی،عدل ومساوات کا قیام اور انسانی اقدار کا تحفظ،آپ کی زندگی کا نصب العین تھا۔

یہ علیؓ،اُن کی اولاد اورپیغمبر اسلام ﷺ کے اصحابؓ کی برکتیں ہیں کہ آج شرق و غرب،شمال و جنوب میں اسلام بڑھتا اور اسلامی معاشرہ پھلتا پھولتا نظر آرہا ہے۔

حضرت علیؓکی شخصیت ہمیشہ ترو تازہ ،شاداب اور تمام ادوار کے لیے سدا بہار ہے،اسی لیے اپنے تو اپنے بیگانے بھی آپ کی فضیلت کے معترف ہیں۔عرب کا مادہ پرست مورخ شبلی شمیل ستائش آمیز لہجے میں کہتا ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالبؓ دنیا کے بزرگوں کے بزرگ اور زمانے کے واحد و یکتا تھے۔عیسائی مورخ جارج جرواق لکھتا ہے:’’ تاریخ کے نزدیک خواہ تم پہچانو یا نہ پہچانو عدالتِ انسانی کی آواز علی ابن ابی طالبؓ ہیں اسی بناء پر ایک مقام پرآپ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم، اگر مجھے ہفت اقلیم ،زیر قبہ آسماں جو کچھ ہے اس سمیت دے دی جائے ،اس شر ط پر کہ میں ایک چیونٹی پر ظلم کروں اور اُس سے ایک جو کا چھلکا چھین لوں تو میں ہر گز ایسا نہیں کروں گا۔دراصل آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ظلم اتنی بُری چیز ہے کہ تمام دنیا کی حکومت کے لیے بھی کسی کم سے کم ترین شے پر ظلم نہیں کیا جاسکتا ،یہاں تک کہ چیونٹی پر بھی نہیں۔اسلام انسانی معاشرے کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے،اسی لیے وہ عدل و انصاف کے قیام اور ظلم کے انہدام پر زوردیتا ہے، چناںچہ فرمان ہے کہ الملک یبقیٰ مع الکفر ولا یبقیٰ مع الظلم اسلام نے بتادیا کہ معاشرے میں عدل و انصاف اور توازن ہے تولوگ اگرکافر بھی ہوں تو وہ معاشرہ باقی رہ سکتا ہے لیکن جبرواستبداد ،ظلم و بربریت،دہشت گردی اور معاشرتی ناہمواری ہو تو معاشرہ نہ ترقی کرسکتا ہے ،نہ باقی رہ سکتا ہے،خواہ اس کے افراد مسلمان ہی کیوںنہ ہوں۔ قوموں کی بربادی کا سب سے بڑا سبب ظلم رہا ہے ،چنانچہ ارشادِ ربُ العزت ہے کہ’’ اگر لوگ مصلح ہوںتو اللہ انہیں ہلاک نہیںکرتا‘‘اس لیے کہ ذاتِ الٰہی عادل ہے ،اُس کے بھیجے ہوئے نمائندے عدل وانصاف کے لیے کام کرتے ہیں۔اگر ہم ظلم کا خاتمہ،برائی و دہشت گردی کا قلع قمع چاہتے ہیں تو لیس للانسان الّاماسعیٰ کے تحت اس کے لیے دل سے جدوجہد کرنا ہوگی، کیوںکہ قرآنی اصول ہے کہ خدا کسی قوم کی حالت اُس وقت تک تبدیل نہیںکرتا جب تک وہ خود اپنی حالت تبدیل نہ کرے۔امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالبؓ مالک بن اشتر کے نام اپنے مشہور فرمان میں طبقہ خواص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حاکم کے لیے خوش حالی کے زمانے میں اس طبقے سے مہنگا کوئی طبقہ نہیں اور مصیبت کے وقت بھی یہی طبقہ ہے جس سے سب سے کم مدد ملتی ہے،اس کی توقعات سب سے زیادہ ہیں اور یہ سب سے زیادہ ناشکرا ہے،اپنی توقعات کے بارے میں کسی کا عذرقبول نہیں کرتا اورمصیبت کے وقت اس سے زیادہ بے صبرا بھی کوئی نہیں ۔دین کا ستون مسلمانوں کی مرکزی قوت ،دشمنوں کے سامنے سینہ سپر صرف عوام ہوتے ہیں،اس لیے تمہاری توجہ کا مرکز عوام ہونے چاہییں، خواص نہیں۔اس فرمان کے ذریعے حضرت علیؓنے کس خوب صورتی کے ساتھ طبقہ خواص کی ذہنیت کی عکاسی کی ہے اور عوام کو کس قدرعزت و حرمت بخشی ہے ۔

آپ نے وقت شہادت’’ فزت برب الکعبہ‘‘ کا اعلان فرمایا اور21رمضان کو گل رنگ شہادت کا جام نوش فرمایا۔ یہ آپ کے عدل و انصاف میں شدت ہی تھی جو آپ کی شہادت کا باعث بنی ۔فرمان رسالتؐ کی رو سے علیؓ سب سے زیادہ عدل کرنے والے تھے، لہٰذا وہ ہر شخص کو اپنی طرح عادل ہی سمجھتے تھے، چناںچہ جب آپ بستر شہادت پر تھے تو آپ کے قاتل کی سزا کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ اگر میں زندہ رہ گیا تو میں جانتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے لیکن اگرمیں جاںبر نہ رہ سکا تو تمہارے اختیار میں ہے اگر تم قصاص لینا چاہو تو اس کی ایک ضربت کے بدلے ایک ہی ضرب مارنا، لیکن اگر معاف کرو تو یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔


مکمل خبر پڑھیں