Advertisement

دماغی صحت کا عالمی دن...!

October 10, 2019
 

ہرسال 10اکتوبر کو ’ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے‘ یعنی دماغی صحت کا عالمی دن منایا جاتاہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز1992ء میں کیا گیا، جس کا مقصد تھا کہ دنیا بھر کے لوگوں میں ذہنی صحت کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور ذہنی مرض میں مبتلا افراد سے بہتر رویہ روا رکھا جائے۔

دماغی صحت کیا ہے؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، دماغی صحت اس کیفیت کا نام ہے، جس میں ہر فرد اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنے، زندگی کے عمومی دباؤ کا مقابلہ کرنے، مثبت و پیداواری انداز میں کام کرنے اور اپنی کمیونٹی میں کردار ادا کرنے کی صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے آئین میں صحت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی تعریف کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے:’’صحت مکمل جسمانی، ذہنی اور سماجی خوشحالی کا نام ہے، ناکہ محض بیماری کی غیرموجودگی کا نام‘‘۔

دماغی صحت کے حقائق

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، دنیا بھر کے تقریباً 20فیصد بچوں اور بالغ عمر کے افراد کو ذہنی عدم توازن یا مسائل کا سامنا ہے۔ تقریباً آدھے ذہنی مسائل 14سال کی عمر سے قبل سامنے آتے ہیں۔ اس طرح کے مسائل تمام ثقافتوں سے سامنے آتے ہیں اور کوئی مخصوص طبقہ زیادہ متاثر نہیں ہے۔

عصبی نفسیاتی عدم توازن(نیورو سائیکائٹرک ڈس آرڈر) دنیا بھر کے نوجوانوں میں معذوری کی ایک بڑی وجہ ہے۔ تاہم، دنیا کے وہ ممالک جہاں کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ19سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، وہاں خراب دماغی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے وسائل کی صورتِ حال انتہائی گمبھیر ہے۔ کم اور اوسط آمدنی والے اکثر ممالک میں10سے 40لاکھ آبادی کے لیے بچوں کا صرف ایک ماہر نفسیات دستیاب ہے۔

ذہنی عدم توازن، طبی امداد میں رکاوٹیں

بدقسمتی سے دنیا کے اکثر کم اور اوسط آمدنی والے ممالک میں اکثریتی لوگ ذہنی مسائل کو ایک بدنماداغ تصور کرتے ہیں اور ایسے افراد کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔ مزید برآں، اکثر لوگوں میں یہ غلط تصور گھر کرچکا ہے کہ ذہنی مسائل کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیںہے۔

اس غلط سوچ کے باعث ذہنی مسائل کے شکار افراد کو معاشرہ رَد کرتے ہوئے خود سے الگ کردیتا ہے اور انھیں کسی قسم کے طبی علاج اور امداد سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔ ذہنی عدم توازن کے شکار افراد کو اکثر ایسے طبی اداروں میں چھوڑ دیا جاتا ہے، جو علاج کی جگہ کے بجائے کسی انسانی گودام کا منظر پیش کرتے ہیں۔

بہتری کس طرح لائی جائے؟

ریاستی شعبے میں صحت کی سہولیات کے ایجنڈے میںذہنی صحت سرے سے شامل ہی نہیںہوتی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ذہنی عدم توازن کے علاج کی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے حکومتوں کو اسے نہ صرف شامل کرنا ہوگا بلکہ اس کے لیے خصوصی وسائل (فنڈز) بھی فراہم کرنا ہوں گے۔ نیز حکومتوں کو ذہنی صحت کی خدمات کو صحت کی بنیادی سہولیات میں شامل کرنا ہوگا۔

اس سلسلے میں حکومتوں، امدادی اداروں اور ذہنی صحت کے شعبے میں خدمات انجام دینے والے اداروں کو مل کر کام کرنے او راس شعبے میں مناسب وسائل خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت کم آمدنی والے ممالک میں ذہنی صحت پر اوسطاً 2ڈالر فی کس جبکہ کم سے کچھ زائد آمدنی والے ممالک میں ذہنی صحت پر خرچ کی جانے والی اوسط رقم 3سے 4ڈالر فی کس ہے۔

ذہنی صحت میں بہتری کے اقدامات

مشاہدے کی روشنی میں برطانوی ’نیشنل ہیلتھ سروسز‘ کے ماہرین ذہنی صحت کے لیے 5اقدامات تجویز کرتے ہیں، جن پر عمل پیرا ہوکر ایک شخص زیادہ خوش، زیادہ مطمئن اور مثبت محسوس کرتے ہوئے زندگی کو بھرپور انداز میں گزارنے کے قابل بن سکتا ہے۔

روابط قائم کریں

کہتے ہیں کہ انسان سماجی جانور ہے۔ اپنی ذہنی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے اپنےاِرد گرد رہنے والے لوگوں سے رابطے میں رہیں، جن میںآپ کا خاندان، دوست احباب، دفتر کے ساتھی اور پڑوسی شامل ہیں۔ ان لوگوں سے تعلقات قائم کرنے میں اپنی مثبت توانائیاں صرف کریں۔ اس سلسلے میں درج ذیل اقدام اٹھائے جاسکتے ہیں:

٭جس حد تک ممکن ہو، روزانہ اپنے خاندان کے لیے وقت نکالیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ روزانہ ایک مخصوص وقت کو ’فیملی ٹائم‘ قرار دے دیں۔

٭جن دوست احباب سے کافی عرصے سے ملاقات نہیں ہوئی، ان سے ملنے کا پروگرام بنائیں۔

٭ٹیلی ویژن کو ’آف‘ کرکے اپنے بچوںکے ساتھ کوئی کھیل کھیلیں یا ان سے باتوں میں مشغول ہوجائیں۔

٭الیکٹرانک پیغامات کو چھوڑ کر اکثر فون کال پر بات کرلیا کریں۔

متحرک رہیں

متحرک رہنے کا مطلب محض یہ نہیں کہ اس کے لیے آپ کو جِم جانا ہوگا۔ چہل قدمی پر نکل جائیں، سائیکلنگ کرلیں یا فٹبال کھیلیں، کسی ایسی سرگرمی کا انتخاب کریں، جس سے آپ لطف اندوز ہوتے ہیں اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔

سیکھنے کا عمل جاری رکھیں

نئے ہنر اور نئی مہارتیں سیکھنے سے انسان اچھا محسو س کرتا ہے اور اسے ایک نیا اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ کھانا پکانے کے کسی نئے کورس کے لیے ’سائن-اَپ‘ کرنے، کوئی میوزک انسٹرومنٹسیکھنے یا پھر اپنی بائیک یا گاڑی کی چھوٹی موٹی خرابیاں خود ٹھیک کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

دوسروں کو دینا سیکھیں

چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے، چاہے وہ کسی کو مُسکراہٹ دینا ہو، شکریہ کے الفاظ ادا کرنا ہو یا پھر کسی کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آنا۔ اس کے علاوہ ’کمیونٹی سروس‘ کے کاموں کے لیے وقت نکالنے کی کوشش کریں، اس سے آپ کو جو ذہنی اطمینان حاصل ہوگا، وہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

ذہنی طور پر چوکس رہیں

اپنے ’حال‘ کے بارے میں باخبر رہیں، اس میںآپ کے ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات، محسوسات، اور اِرد گِرد کی دنیا شامل ہے۔ انگریزی میں اس کے لیے ’مائنڈ فل نیس‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی مدد سے آپ اپنی زندگی کے بارے میںاپنے منفی خیالات کو مثبت خیالات میں بدلنے کے ساتھ ساتھ زندگی کے چیلنجز سے بھی بہتر طور پر نمٹسکتے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں