Advertisement

اکتوبر سائبر سیکیورٹی سے آگاہی کامہینہ

October 20, 2019
 

ماہِ اکتوبر کو سائبر سیکیورٹی سے آگاہی کا بین الاقوامی مہینہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں اس حوالے سے آگاہی مہم ،ورکشاپ اور تقریبات کے ذریعے زیادہ محفوظ آن لائن تربیت اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں پورے مہینے سائبر سیکیورٹی کے بارے میں عوام الناس کو احتیاطی تدابیر بتاتی ہیں۔

2003ء میں اس کا آغاز امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور نیشنل سائبر سیکیورٹی الائنس کے اشتراک سے کیا گیا تاکہ ہر فرد کے آن لائن تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ 2003ء سے کی جانے والی ان سرگرمیوں کے نتیجے میں سائبر کرائم میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کے مثبت نتائج پاکستان میں بھی ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ امریکا میںاکتوبر کے پہلے ہفتے کا آغاز آن لائن سیفٹی کے سادہ اقدام سے ہوتا ہے۔

سائبر کرائم کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ 2015ء میں مالیت، کاروبار، حفظانِ صحت اور بینکاری شعبوں کی 169 ملین دستاویزات اور حساس ریکارڈ عوام کے سامنے آگیا تھا۔ دوسرے ہفتے اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو بریک روم سے بورڈ روم تک بہترین اقدام کی تربیت دی جاتی ہے،کیوں کہ ہیکرز کی طرف سے ڈیٹا پروگرامنگ میں تبدیلی اور سائبر کرائم کے خطرے سے کوئی ادارہ محفوظ نہیں۔ 66فیصد چھوٹے کاروبار انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں لیکن صرف 23فیصد کے پاس انٹرنیٹ سیکیورٹی پالیسی ہوتی ہے۔

تیسرا ہفتہ مختلف سائبر کرائمز سے آگہی اور مقابلہ کرنے کی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے وقف ہوتا ہے،کیوں کہ ہر سال عالمی سطح پر 594ملین لوگ سائبر کرائم سے متاثر ہوتے ہیں۔ چوتھے ہفتے آن لائن روابط کی دنیا اور محفوظ ایپ کے بارے میں آگاہی د ی جاتی ہے کیوںکہ تازہ تحقیق کے مطابق ہر گزرتے دن کے ساتھ منسلک ڈیوائسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور 2020ء تک عالمی طور پر24ارب سے زائد ڈیوائسز انٹرنیٹ سے منسلک ہوں گی، جس سے سائبر کرائم کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی ہیکرز تفریح کے طور پر بھی اپنا ہنر آزماتے ہیں۔ پانچویں اور آخری ہفتے انٹرنیٹ انفرااسٹرکچر کے دانش مندانہ استعمال پر زور دیا جاتا ہےکیوں کہ سائبر سیکیورٹی ہر ایک کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ 2015ء میں 295سائبر واقعات انہی نازک سسٹمز پر حملوںکے ذریعے ہوئے اور انٹرنیٹ کی دنیا خطرے سے دوچار ہوئی۔

سائبر خطرات کیسے کام کرتے ہیں؟

سائبر خطرہ ایک ایسی سرگرمی ہے، جس کا مقصد کسی نظام کی دستیابی ، سالمیت ، رازداری یا اس میں موجود معلومات میں ردوبدل کرکے انفارمیشن سسٹم (جیسے کمپیوٹر نیٹ ورک ، ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پیج) کی چوری کرنا ہے۔ یہ سرگرمیاں آن لائن ہوتی ہیں اورہیکرز اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے، کسی تنظیم یا فرد کو نقصان پہنچانے یا آن لائن سرگرمیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

سائبر خطرات کس طرح متاثر کرتے ہیں؟

زیادہ سے زیادہ آن لائن معلومات ہیکرز کے لئے پرکشش اہداف بن جاتی ہیں۔ انٹرنیٹ سے منسلک آلات جیسے اسمارٹ ٹی وی، کمپیوٹر، کلاؤڈ، وائی فائی، گھریلو برقی آلات، تھرمواسٹیٹ وغیرہ سےسائبر خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ آپ سائبر جرائم پیشہ افراد کے سائبر فراڈ اور بلیک میلنگ کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ نے ان تکنیکوں کے بارے میں سنا ہو یا آپ پہلے ہی کسی سائبر واقعے کا شکار ہوچکے ہوں۔ عام طور پر استعمال ہونے والے کچھ ٹولز میں ایڈویئر، رینسم ویئر ، سروس سے انکار، پاس ورڈ کریکنگ، فریمنگ، فشنگ اور میلویئر شامل ہیں، جنھیں ہیکرز نشانہ بناتے ہیں، لہٰذا ان کے استعمال میں احتیاط کریں۔

آن لائن فراڈ سے کیسے بچا جائے؟

سائبر سیکیورٹی کے بارے میںعام غلط فہمی یہ ہے کہ سائبر کے خطرات سے خود کو بچانے کے لیے آپ کو نفیس ٹولز چلانے کا ماہر بننا ہوگالیکن ایسا ہے نہیں۔ ایک عام اصول جان لیں کہ اپنے ویب پیج پر آنے والی کسی بھی غیر متعلقہ سائٹ کو نظر انداز کریں، جنھیں ہم ’’کوکیز‘‘ کہتے ہیں،ان پر کلک کرنے کی غلطی ہرگز نہ کریں۔ پاس ورڈ منفرد رکھیں، سوشل میڈیا اور ای میل اکاؤنٹس کو محفوظ بنائیں۔ کسی بھی انجان ای میل کو کھولنے کی غلطی بھی نہ کریں۔ ڈیٹا کو محفوظ طریقے سے اسٹور کریں اور اپنے بیک اَپ کے طریقہ کار کو جانیں۔

چھوٹے کاروبار کو کیسے بچایا جائے؟

آج کی ڈیجیٹل معیشت میں کامیابی کےلیےانٹرنیٹ ایک ناگزیر ذریعہ ہے۔ آپ آن لائن نئے گاہکوں تک پہنچ سکتے ہیں اور اپنا کاروبار بڑھا سکتے ہیں، یہاں تک کہ اگر آپ کے پاس ویب سائٹ، سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں ہے تو بھی آپ بینکاری، پے رول یا سپلائی آرڈر جیسے روزمرہ کاروباری کاموں کے لئے انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں،تاہم آن لائن محفوظ رہنے کی ضرورت ہے۔ چھوٹے اور درمیانے کاروبار کی حیثیت سے یہ سوچنا آسان ہے کہ آپ سائبر مجرموں کی توجہ نہیں پائیں گے۔ در حقیقت سائبر مجرمان اب چھوٹے کاروباروں کو فعال طور پر نشانہ بنا رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ وہ سائبر سیکیورٹی کا زیادہ خیال نہیں رکھتے۔

سائبر سیکیورٹی کا خیال کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کے کاروبار کی تشکیل کیسے ہوتی ہے؟ آپ کن متعلقہ افراد سے کاروبار کرتے ہیں؟ نئے گاہکوں کی تلاش میں دیگر آن لائن احباب سے مشورہ اور شراکت داری کو اپنا اصول بنالیں،تبھی آپ سائبر سیکیورٹی کو یقینی بنا سکیں گے۔


مکمل خبر پڑھیں