ساؤتھ ایشین گیمز، پاکستان کے میڈلز ریکارڈ میں بہتری

اسپورٹس
December 10, 2019

33 ویں ساؤتھ ایشین گیمز آج رنگا رنگ تقریب میں اپنے اختتام کو پہنچے گے، جس میں بھارت نے اپنی واضح برتری ثابت کردی، میڈلز کی دوڑ میں سری لنکا اور میزبان نیپال، پاکستان سے آ گے تھے،پاکستان ے تادم تحریر118میڈلز جیت لئے تھے، جس میں 29 گولڈ، 33 لور اور56برانز میڈلز شامل تھے، پاکستان کی لاج کراٹے کاز، ایتھلیکٹس، ہینڈ بال ،ویٹ لفٹرز، اور ریسلرز کے علاوہ اسکواش میں طیب اسلم رکھنے میں کامیاب رہے، باکسنگ ،تائی کوانڈو ، ووشومیں بھی پاکستان نے میڈلز جیتے، شمشیر زنی، والی بال میں بھی پاکستان نے میڈلز حاصل کئے۔

پاکستان نے ان کھیلوں میں18ایونٹس میں حصہ لیا جس میں ٹیبل ٹینس، کبڈی اور سوئمنگ میں پاکستان کا ہاتھ خالی رہا، ٹینس میں پاکستان سے گولڈ میڈل کی امید تھی جو پوری نہ ہوسکی، ماضی میں پاکستان کبڈی،سوئمنگ میں کامیابی حاصل کرتا رہا ہے مگر اس بار انکے کھلاڑیوں نے مایوس کیا،ٹیبل ٹینس میں بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے، یہ کام فیڈریشن کو کرنا ہوگا، اس کھیل میں دو فیڈریشن کی موجودگی سے بہت زیادہ نقصان ہورہا ہے، مگر افسوس ناک بات یہ کہ نئے پاکستان کی نئی حکومت کی وزیربین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہیمیدہ مرزا ایک سال سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود ملک میں متوازی فیڈریشنوں کے خاتمے کے لئے کوئی کام نہ کرسکیں، انہوں نے ایک اجلاس بھی طلب نہیں کیا، فیڈریشن اب کھل کر پاکستان اسپورٹس بورڈ کے خلاف بول رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اداروہ ان کی گرانٹ روک رہا ہے، ساؤتھ ایشن گیمز میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں کو ٹریننگ کا بہت کم موقع ملا، کھلاڑی اور فیڈریشن اس کی ذمے داری پی ایس بی پر ڈال رہی ہیں،پی او اے کے حالیہ الیکشن کے بعد حکومت اور پی او اے کے درمیان تنازع پھر بڑھ رہا ہے، پی او اے نے کہا ہے کہہم نے ان کھیلوں کے لیے مجموعی طور پر 400 کھلاڑیوں کو بھیجنے کی درخواست کی تھی لیکن پاکستان ا سپورٹس بورڈ نے اسے کم کرکے پہلے 350 کیا اور بعد میں اسے صرف 246 تک محدودکردیا گیا۔

جس کی وجہ سے ہمارے میڈلز کی تعداد میں کمی ہوئی دوسری جانب وفاقی وزیر نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے کھلاڑیوں کی تعداد کم نہیں کی، صرف جوائے ٹرپ پر جانے والے آفیشلز کو کم کیا تھا، دونوں اہم اداروں کے درمیان لڑائی سے پاکستان کے لئے اگلے سائوتھ ایشن گیمز کی میزبانی کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں کیونکہ عالمی اولمپک کمیٹی کسی بھی قیمت پر پی او اے میں حکومت کی مداخلت برداشت نہیں کرے گی،یہ تجربہ ماضی میں بھی ناکام رہا ہے، حیرت انگیز طور پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان جو خود بھی کر کٹ کے نامور کھلاڑی اور کام یاب کپتان رہ چکے ہیں ملک میں کھیلوں کی بد حالی پر ذاتی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔

ان کھیلوں کا مثبت پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے ندیم ارشد جیولین تھرو میں گولڈ میڈل اور نئے ریکارڈ کے ساتھ اگلے اولمپکس گیمز میں براہ راست پہنچ گئے۔مجموعی طور پر سائوتھ ایشن گیمز میں میڈلز کے حوالے سےپاکستان کی تبدیلی خوش آئند ہے حکومت کو اب کھلاڑیوں کے مالی مسائل کے علاوہ ان کی ٹریننگ پر بھی توجہ دے تاکہ کھیل کے میدان میں ہمارا سنہری ماضی واپس آ سکے ساتھ ہی ناہل فیڈریشنوں کا بھی احتساب کیا جائے، اور اس میں بھی مخلص لوگوں کو آگے لایا جائے۔