| |
Home Page
بدھ 24 ربیع الاوّل 1439ھ 13 دسمبر2017ء
June 19, 2017 | 09:09 pm

ہیضہ انسانی جسم کو بڑے نقصان سے بچاتا ہے، ماہرین

Cholera Prevents Damage To The Human Body Health Experts

Cholera Prevents Damage To The Human Body Health Experts

امریکا کے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہیضہ انسانی جسم کو بڑے نقصان سے بچاتا ہے۔ برگہم اینڈ ویمنز ہاسپٹل بوسٹن کے طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدیوں سے یہ بحث جاری ہے کہ ہیضہ صرف ہلاکت خیز نہیں بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ مثبت اور مفید پہلو بھی ہے جس کا مقصد شاید انسانی جسم کو کسی بڑی تباہی اور بڑے نقصان سے بچانا ہے تاہم یہ واضح نہیں ہو پا رہا تھا کہ آخر ہیضہ سے وابستہ حفاظتی نظام کس طرح عمل میں آتا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق چوہوں پر کئے گئے تجربات کے دوران چوہوں کے ایک گروپ کو ان جرثوموں سے متاثر کیا گیا جو چوہوں میں ہیضے کا باعث بنتے ہیں۔اس کے نتیجے میں پہلے ”انٹرلیوکن 22“ نامی ایک پروٹین کی زیادہ مقدار بننے لگی جو چوہوں کی آنتوں پر اندرونی جھلی کی طرف جمع ہونے لگی اور ان خلیوں کو ایک اور پروٹین ”کلاڈین 2“ کی اضافی مقدار تیار کرنے پر مجبور کرنے لگی۔

کلاڈین 2 پروٹین، آنت کی جھلی میں موجود خلیوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور معمول کے مقابلے میں ان سے کم وقت میں زیادہ پانی خارج کرنے کا باعث بنتا ہے۔ یعنی دراصل یہی وہ پروٹین بھی ہے جو ہیضے میں الٹی اور دست کی بڑی وجہ بنتا ہے۔

البتہ اسی کے ساتھ انہوں نے ایک اور اہم بات بھی دریافت کی۔انہیں معلوم ہوا کہ ہیضے کی حالت میں الٹی اور دست کی صورت میں جسم سے پانی کی بڑی مقدار کے ساتھ ساتھ ہیضے کی وجہ بننے اور آنتوں کو نقصان پہنچانے والے جرثومے بھی بڑی مقدار جسم سے باہر نکل جاتی ہے۔

اگر یہ بیکٹیریا زیادہ عرصے تک جسم میں موجود رہ جائیں تو آنتوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں جس کے باعث ہیضے کا مرض ختم ہونے میں مہینے بھر سے بھی زیادہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اگر ان جرثوموں کی سرگرمیاں قابو سے باہر ہوجائیں تو یہ آنتوں کی اندرونی جھلی تباہ کرکے انہیں پھاڑ سکتے ہیں اور متاثرہ فرد کو موت کے گھاٹ بھی اتار سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہیضے میں انٹرلیوکن 22 اور کلاڈین 2 پروٹین کا نظام موجود نہ ہوتا تو شاید ہیضے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بھی آج کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتی۔ اب وہ اگلے مرحلے میں یہی تحقیق انسانوں کے لیے کرنے کی تیاری میں مصروف ہیں اور انہیں امید ہے کہ امریکی ادارہ برائے غذا و دوا (ایف ڈی اے) جلد ہی اس کی اجازت بھی دیدے گا۔