• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آن لائن ایٹم بینک نے ہفتہ وار 4 دن کام کا نظام متعارف کرادیا

لندن(پی اے )آن لائن ایٹم بینک نے اپنے430 ملازموں کیلئے تنخواہوں میں کسی کٹوتی کے بغیر ہفتہ وار 4 دن کام کانظام متعارف کرادیا تاہم اب ملازمین کو ڈیوٹی کے دوران پہلے کے مقابلے میں زیادہ گھنٹوں تک کام کرنا پڑے گا۔اس بینک کے ملازمین اب 4 دن کے دوران 34 گھنٹے کام کریں گے اور پیر یاجمعہ کو چھٹی کرسکیں گے۔جبکہ اس سے قبل انھیں پورے ہفتے کے دوران37.5 گھنٹے کام کرنا پڑتاتھا۔ بینک کے سربراہ مارک مولین نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کہا وہ کورونا سے متاثر ہوئے ہیں اور عملے کو اپنے ساتھ رکھنے اور ان کی بہبود میں مدد دیں گے۔2014 میں درہم میں قائم بینک کے سربراہ نے یہ ثابت کیاہے کہ پیر سے جمعہ تک صبح 9-5 بجے تک کام کاطریقہ فرسودہ ہوچکا ہے انھوں نے کہ اب ہم ہفتہ میں 5 دن کام کے طریقہ کار پر واپس نہیں جائیں گے۔ہفتہ میں 4 دن کام کاطریقہ کار آئس لینڈ میں کامیاب رہا ہے جبکہ ایٹم برطانیہ کا پہلا ڈیجٹل بینک ہے جس نے یہ طریقہ کار اختیار کیاہے،یہ بینک اپنے گزشتہ مالی سال کے دوران 2.7 بلین پونڈ قرض دے چکا ہے، بینک میں ہفتہ میں 4 روزہ کام کاسلسلہ یکم نومبر سے شروع کیاگیاہے ایک جائزہ سے یہ واضح ہوا ہے کہ اس طریقہ کار سے کھاتیداروںیا بینک کی پراڈکٹی ویٹی پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ مولن نے بتایا کہ یہ انتظام رضاکارانہ ہے لیکن یہ ظاہرہواہ کہ عملہ زیادہ لچکدار اوقات کو ترجیح دے رہا ہے،اور ہر ایک اس پر قائم رہنا چاہتاہے ،انھوں نے کہا کہ اب میں اپنے عملے کو جمعہ کو ای میل نہیں بھیج سکتا، اورمجھے ان سے اس کے جواب کی بی توقع نہیں ہوتی۔حالیہ ریسرچ سے ثابت ہواہے کہ آئس لینڈ کے سرکاری اداروں میں ہفتہ میں 4 دن کام کا تجربہ بہت کامیاب رہا ہے اور اس سے ان پر ذہنی بوجھ کم ہوا ہے ،مائیکروسافٹ جاپان کاکہناہے کہ 2019 میں ہفتہ میں 4 دن کام کے تجربے کے دوران ان کی فروخت میں40 فیصد تک اضافہ ہوگیاہے۔برطانیہ کی سائنس ریسرچ فائونڈیشن ویلکم ٹرسٹ نے اپنے ہیڈ آفس کے 800 ارکان کیلئے ہفتہ میں 4 دن کام کا تجربہ اسے بہت پیچیدہ قرار دے کر ختم کردیاتھا ،یہ فیصلہ 3 ماہ کی اسٹڈی کے دوران کیاگیا جس میں کہاگیاتھا کہ پیر سے جمعرات تک کام سے بعض ورکرز کی صحت پر منفی اثرات رونما ہوئے اور اس سے پیداوار میں کمی ہوئی اور لوگوں کے ذہنی دبائو میں اضافہ ہوا ،پروفیشنل ڈیولپمنٹ کے چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ کی پبلک پالیسی کے سربراہ بین ول موٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگوں کی تنخواہوں میں کمی کئے بغیر اوقات کار میں کمی بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے تاہم میں سمجتا ہوں کہ دیگر تبدیلیوں کے بغیر جن سے ذہنی دبائو پیدا ہوتاہے صرف اوقات کار میں کمی سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔

یورپ سے سے مزید