• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کا قتل قابل مذمت ہے،مختلف رہنما

ہڈرزفیلڈ(زاہدانور مرزا) سیالکوٹ میں سری لنکن نوجوان فیکٹری مینجر کے اندوہناک قتل نے پاکستانی قوم کے سر شرم سے جھکا دیئے ہیں، اس بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مرکزی جمعیت علماء برطانیہ کے رہنماؤں علامہ مولانا عبد الرشید ربانی ڈیوزبری ، علامہ قاری محمد عباس ہڈرسفیلڈ ، علامہ صاحبزادہ امدادُالحسن نعمانی برمنگھم ، مولانا حکیم اختر زمان غوری برمنگھم ، مولانا محمد اکرم اُکاڑوی ہڈرسفیلڈ ، مولانا قاری عبدالرشید اولڈھم ، مولانا سید اسد میاں شیرازی ، مولانا محمد قاسم برمنگھم ، مولانا ضیاء المحسن طیب ، قاری شمس الرحمان اولڈھم ،مولانا شفیق الرحمان اولڈھم ، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف نسیم راٹھور ، مولانا محمد اختر گلاسگو ، مولانا قاضی عبد السلام ایڈنبرا اور دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی کو بھی اس طرح قتل کرنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی پاکستانی قانون میں اس کی کوئی گنجائش ہے ۔یہ درندگی اور بے حسی کی انتہا ہے اسلام وہ مذہب ہے جو محبت و اخوت رواداری کا سبق دیتا ہے، اسلام نے تو کائنات میں مسیحائی کا سبق دیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے دشمنوں اور قاتلوں تک کو معاف کر دیا تھا، چلیے اُن جاہل فسادی و قاتل لوگوں کی بات کو مان بھی لیں کہ سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا توہین رسالت کا مرتکب ہوا تھا جو کہ نہیں تھا ، تو کیا اس ملک میں کوئی عدالت اور قانون موجود نہیں ہے جو اسے سزا دے سکے؟ جس مُلک میں عدالتیں اور قانون موجود ہو، وہاں عوام خود فیصلے کرنے کی مجاز نہیں ہوتے، ہماری بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ہم میں صبرو تحمل اور برداشت بالکل ختم ہوچکا ہے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفقود ہو چکی ہیں، اسی لیے ہمارا معاشرہ پستی اور تباہی و بربادی کی طرف تیزی سے رواں دواں ہے، سیالکوٹ سانحہ کو اب جس طرح عالمی دنیا میں ٹیلیویژن پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر نمایاں طور پر کوریج دی جا رہی ہے اس سے پاکستان کی جگ ہنسائی بدنامی اور رسوائی ہورہی ہے۔حکومت پاکستان کو ان واقعات کی روک تھام کے لیے انتہائی سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر گزشتہ واقعات پر ہی حکومت درست اقدامات اُٹھاتی تو آج یہ واقعہ رونما نہ ہوتا ، ہر حادثہ کی طرح سیالکوٹ سانحہ کی بھی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ تجربہ یہ ہے کہ جس کیس کی بھی کمیٹی بنائی گئی اُس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا، سیالکوٹ واقعہ کی جو ویڈیوز سامنے آئیں ہیں اس میں تشدد اور قتل کرنے والوں کے چہرے صاف نظر آرہے ہیں۔ 900 لوگوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔ مرکزی ملزم فرحان ادریس سمیت 112 افراد بھی زیرِ حراست ہیں۔ انصاف یہی ہوگا کہ ان تمام لوگوں کو فوراًعدالت میں ثبوت کے ساتھ پیش کر کے قتل عمد کی سزا سنائی جائے۔ اس بہیمانہ قتل کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلوا کر انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔
یورپ سے سے مزید