• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچوں کی جسمانی نشوونما میں ان کی غذا کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان میں بچوں کی جسمانی نشوونما انتہائی غیرتسلی بخش ہے بلکہ اسے تشویشناک حد تک ابتر کہنا زیادہ بہتر ہوگا۔ وفاقی حکومت کے ادارے نیشنل نیوٹریشن سروے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، ملک بھر کے پانچ سال یا اس سے کم عمر کے 40فی صد بچے ضروری مقدار میں غذائیت کی عدم دستیابی یا پھر غیرمتوازن غذا کی وجہ سے جسمانی طور پر غیرکامل نمو (اِسٹنٹڈ گروتھ)کے حامل ہیں۔ 

اس کے نتیجے میں تقریباً 13 فی صد بچوں کو کسی نہ کسی معذوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر آٹھ میں سے ایک بالغ عمر لڑکی اور ہر پانچ میں سے ایک بالغ عمر لڑکا وزن کی کمی کا شکار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے پانچ سال تک کی عمر کے ہر 100بچوں میں سے 40بچے وہ قد اور جسامت حاصل نہیں کرپاتے، جس کی وہ صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو ان کے والدین ان کے لیےمطلوبہ مقدار میں غذائیت سے بھرپور کھانے کا بندوبست نہیں کرپاتے یا پھر ان بچوں کو اکثر ایسا کھانا میسر ہوتا ہے جو جسمانی نمو کے لیے ضروری غذائیت سے محروم ہوتا ہے۔

یہ بات سائنسی تحقیق سے بھی ثابت شدہ ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جہاں معاشی خوشحالی ہے، وہاں کے بچوں کی جسامت ان ممالک کے بچوں کے مقابلے میں بہتر ہوتی ہے، جہاں غربت زیادہ ہے۔

عالمی ساکھ کے حامل ایک تحقیقی طبی جریدے کی رپورٹ میں بھی اسی مسئلے پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔ متذکرہ تحقیق کے مطابق، اسکول جانے کی عمر کے بچوں کو ناکافی خوراک کی دستیابی کا اثر ان کے قد پر پڑتا ہے، جس سے قد آور اور چھوٹے قد والی قوموں کے بچوں کے قد میں اوسطاً 20 سینٹی میٹر یا 7 عشاریہ 9 انچ کا فرق آ جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2019ء میں دنیا کے سب سے طویل قامت 19 برس کے لڑکوں کا تعلق ہالینڈ سے تھا، جن کا قد 6 فٹ تھا جبکہ دنیا کے سب سے کم قامت 19 برس کے لڑکے کا تعلق ملک تمور لیستے سے تھا جس کا قد صرف پانچ فٹ تین انچ تھا۔ اس رپورٹ میں ایسے غیرمعمولی پستہ قد کے حامل افراد کو شامل نہیں کیا گیا، جن کی جسمانی نمو کسی بیماری، دیگر نقص یا خاندانی تاریخ کی وجہ سے متاثر ہوئی ہو۔

اگر برطانیہ کی بات کی جائے تو2019ء میں وہاں 19برس کے لڑکے اپنے قد کے اعتبار سے دنیا بھر کے ملکوں میں 39ویں نمبر پر تھے، ان کے قد اوسطاً 5 فٹ 10 انچ ریکارڈ کیے گئے جبکہ 1985ء میں برطانیہ دنیا بھر میں 28ویں نمبر پر تھا۔

طبی نقطہ نظر سے، دنیا بھر کے ملکوں کے بچوں کے قد اور وزن کا ریکارڈ رکھنا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ ان اعداد و شمار سے ان ملکوں میں بچوں کو دستیاب خوراک، صحت کی سہولیات اور صحت مند ماحول اور فضا میسر ہونے کا اندازہ لگایا جا سکے۔ 

زیرِ تبصرہ ایک وسیع تحقیق ہے، جس میں جریدے کی ٹیم نے ساڑھے 6 کروڑ بچے، جن کی عمریں 5 سے 19 برس کے درمیان تھیں، کا1985ء سے لے کر 2019ء تک دو ہزار سے زائد مرتبہ مشاہدہ کیا۔ ان مشاہدوں کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوئی کہ 2019ء میں دنیا بھر میں شمالی، مغربی اور وسطی یورپ میں پرورش پانے والے بچوں اور نوجوانوں کے قد سب سے زیادہ ہیں۔

اسی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 19 سال کی عمر کے نوجوانوں میں سب سے کم قد جنوب اور جنوبی مشرقی ایشیا، لاطینی امریکا اور مشرقی افریقا کے خطے کے ملکوں میں بسنے والے نوجوانوں کا ہے۔

چیدہ چیدہ حقائق:

* لاؤس کے 19سال کے نوجوانوں کا اوسط قد ہالینڈ کے13 سال کے بچوں کے برابر ہے۔

* گوئٹے مالا، بنگلا دیش، نیپال اور تمور لیستے میں 19 سال کی عمر کی لڑکیوں کا اوسط قد ہالینڈ کی 11 سال کی لڑکیوں کے اوسط قد کے برابر ہے۔

* گزشتہ 35 برس میں جن قوموں کے نوجوانوں کے قد میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے، ان میں چین اور جنوبی کوریا کے نوجوان سرفہرست ہیں۔

سائنسی اشاریے

رپورٹ میں بچوں کے بی ایم آئی کا بھی مشاہدہ کیا گیاہے۔ بی ایم آئی ایک ایسا طریقہ کار یا معیار ہے جس میں بچوں کے وزن اور قد، دونوں کو دیکھا جاتا ہے۔ اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بحرالکاہل کے جزائر، مشرق وسطیٰ، امریکا اور نیوزی لینڈ میں بسنے والے نوجوانوں کا بی ایم آئی سب سے زیادہ ہے۔ 19سال کے نوجوانوں میں سب سے کم بی ایم آئی، جنوبی ایشیا کے ملکوں جیسے بنگلا دیش اور بھارت کے نوجوانوں کا ہے۔ اس طرح، جن ملکوں کے نوجوانوں کا بی آئی ایم سب سے زیادہ ہے اور جن ملکوں کے نوجوانوں کا بی ایم آئی سب سے کم ہے، ان کے وزن کا اوسط فرق 25 کلو گرام ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ لوگوں کے قد اور وزن کا تعلق ان کی جینیات سے بھی ہوتا ہے لیکن جب معاملہ پوری قوم کی صحت کا آتا ہے تو اس میں خوراک اور ماحول بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ عالمی سطح پر خوراک کی دستیابی کے بارے میں پالیسی سازی کا مرحلہ آتا ہے تو پوری توجہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو دستیاب خوراک پر دی جاتی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پانچ سال سے زائد عمر کے بچوں اور ٹین ایجرز کی جسمانی نشوونما کو بھی زیرِ مشاہدہ رکھنا ضروری ہے۔

صحت سے مزید