مصنّف: جبّارمرزا
صفحات: 296، قیمت: 1500روپے
ناشر: قلم فائونڈیشن، والٹن روڈ، لاہور کینٹ۔
زیرِتبصرہ کتاب، ممتاز قلم کار، جبّار مرزا کی اٹھارہویں کتاب ہے، جو انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت، خدمات اور کارناموں کے حوالے سے تحریر کی ہے۔ بلامبالغہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ’’محسنِ پاکستان‘‘ہیںاوراس کے بعد ان کے نام کے ساتھ کوئی لاحقہ لگانا بے معنی ہے۔ اُن کی زندگی کا ہر نفس، پاکستان سے جُڑا ہوا تھا۔ انہوں نے جو تاریخی کارنامہ انجام دیا، وہ ناقابلِ فراموش ہے، لیکن اُن کی بے داغ زندگی کو، داغ دار بنانے میں جن حکم رانوں نے گھنائونا کردار ادا کیا، اُن سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔
مصنّف کی یہ کتاب ایک دستاویز کا درجہ رکھتی ہے۔ صاحبِ کتاب کا تحریر کردہ مقدمہ، خود ایک تاریخ ہے، جس میں انہوں نے بہت بےباکانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کئی مدقوق چہروں کو بے نقاب کیا ۔ اس کتاب کو ’’حقائق نامہ‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔یہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے متعلق 34برسوں پر محیط یادوں کا مجموعہ ہے، جو مصنّف نے صرف 34دِنوں میں لکھا۔اس سے بھی مصنّف کی طبعِ رواں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
کتاب کے دیباچے میں فلائٹ لیفٹیننٹ (ریٹائرڈ) میاں محمّد طفیل بسمل نے تحریر کیا ہے کہ ’’نشان ِامتیاز اس ممتاز ہستی کے مصائب و آلام کی کہانی اور رنج میں ڈوبی ہوئی وہ کتھا ہے، جسے جبّار مرزا نے درد و کرب میں قلم ڈبو کر لکھا ہے۔‘‘آٹھ ابواب پر مشتمل یہ کتاب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب کا ظاہر و باطن ایک ہےکہ نہایت سلیقے سے چَھاپی گئی ہے۔ سرورق بھی بہت جاذبِ نظر ہے، جب کہ کچھ یادگار تصاویر نے کتاب کی افادیت و اہمیت میں گراں قدر اضافہ کردیا ہے۔